روشن خیالی کی فتح یا خام عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایک سو سات اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دو مرحلوں میں کم از کم سینتالیس افراد کی جانیں گئیں۔ یہ ہلاکتیں انکے علاوہ ہیں جو مہینے بھر کی انتخابی مہم کے دوران ہوئیں۔ انتخابات کا تیسرا مرحلہ انتیس اگست کو منعقد ہوگا۔ ان غیر جماعتی انتخابات کے جلسوں سے صدر، وزیرِ اعظم ، وفاقی اور صوبائی وزرا نے نہ صرف خطاب کیا بلکہ اسلام آباد کے سرکاری سیکرٹیریٹ اور صوبائی سیکریٹریٹ پولنگ سے ہفتے بھر پہلے بیشتر وزراء کی صورت دیکھنے کے لیے ترستے رہے کیونکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں انتخابی مہم میں مصروف تھے۔ غیر جماعتی انتخابات کے دوران پنجاب کے وزیرِ اعلی ضلعی ناظم اور نائب ناظم کے عہدوں کے لیے امیدواروں کو نامزد کرتے رہے۔ سندھ کے وزیرِ اعلی پولیس اور انتظامیہ کے تبادلوں میں مصروف رہے اور یہ کہتے رہے کہ جو ناظم انہیں قابلِ قبول نہیں ہوگا وہ اپنے عہدے پر نہیں رہے گا۔ سرحد کے وزیرِاعلٰی نہ صرف انتخابی مہم میں حصہ لیتے رہے بلکہ دیر، کوہستان، سوات، ہنگو، مانسہرہ، اور بٹاگرام کے علاقوں میں اپنی اتحادی جماعتوں کے خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کے مقامی معاہدوں میں شرکت پر بھی اثرانداز نہ ہوسکے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں صوبہ سرحد میں خواتین کی خالی رہ جانے والی نشستوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی مگر ان انتخابات میں صرف تین سو نوے بلدیاتی نشستیں ایسی ہیں جن پر خواتین کھڑی نہ ہو سکیں۔ یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کی اس ہدایت کے باوجود ہوتا رہا کہ حکومتی ارکان سوائے الیکشن کمیشن کی انتظامی مدد کے علاوہ ان انتخابات پر اثر انداز ہونے کے کسی بھی اقدام سے باز رہیں۔ بلوچستان کے وزیرِاعلٰی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے باوجود بھی ایک ضلع میں تین نئی یونین کونسلوں کی تشکیل نہ رکوا سکے۔اور جب اسکی شکایت مقامی لوگوں نے الیکشن کمیشن کے اہل کاروں سے کی تو انہیں بتایا گیا کہ یہ انتظامی فیصلہ ہے اور کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔البتہ ہائی کورٹ نے ان تین میں سے ایک یونین کونسل کی تشکیل کو کالعدم قرار دے دیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹ ڈالنے کے لیے منسوخ شدہ پرانے قومی شناختی کارڈز کو ووٹ ڈالنے کے لیے جائز قرار دے دیا جبکہ پرانے شناختی کارڈ کی بنیاد پر اب پاکستان میں نہ تو کوئی شہری پاسپورٹ سمیت کوئی بھی سرکاری دستاویز بنوا سکتا ہے اور نہ ہی بینک اکاؤنٹ کھول سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کو پُرامن رکھنے کے لیے پنجاب کے بیس سے زائد اضلاع میں فوج طلب کی۔ اسکے علاوہ دیگر صوبوں میں نیم فوجی دستوں اور پولیس کو بھاری تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں کے اردگرد تعینات کیا گیا۔اور پریزائڈنگ افسران کو درجہ اول مجسٹریٹ کے اختیارات بھی دیے گئے تاکہ وہ دھاندلی، اور لاقانونیت کے مرتکب افراد کو موقع پر تین ماہ قید کی سزا سنا سکیں۔ اس کے باوجود ملک کے کئی علاقوں میں بیلٹ بکس چھینے گئے۔طاقتور امیدواروں کے مسلح حامیوں نے حزبِ اختلاف کے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا۔ خواتین کے کئی پولنگ اسٹیشنوں میں کھلے عام ووٹوں پر مہریں لگیں۔ ایسی انتخابی فہرستیں بھی استعمال ہوئیں جن کے صفحات یا سیریل نمبر غائب تھے یا ہاتھ سے نام لکھے گئے تھے۔ بیلٹ پیپرز پر کئی امیدواروں کے یا تو نام غائب ہونے یا انتخابی نشان شائع نہ ہونے کی سینکڑوں شکایات موصول ہوئیں۔پولنگ اسٹیشنوں کے احاطوں میں فائرنگ اور مارپیٹ کے واقعات ہوئے۔موبائل فون کی ممانعت کے باوجود انکے ذریعے کھلم کھلا اپنے حامیوں کو طلب کیا جاتا رہا۔ اگر کوئی گرفتاریاں ہوئیں بھی تو وہ ووٹرز اور چند پولیس اہلکاروں اور پریزائڈنگ افسروں کی ہوئیں۔انتخابی عمل میں مداخلت کرنے والی کسی طاقتور شخصیت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی۔ان حالات میں تین ہزار سے زائد یونین کونسلوں کے جتنے پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کو کالعدم قرار دیا گیا انکی تعداد ایک سو سے کم ہے۔صرف سندھ کا ضلع گھوٹکی ایسا علاقہ ہے جہاں کچھ نئی یونین کونسلوں کی انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد تشکیل کے نتیجے میں پولنگ ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔
توقع تھی کہ چونکہ یہ انتخابات بلدیاتی ہیں۔اور یہ نظام پانچ برس کے دوران خاصی جڑیں بنا چکا ہے اور مقامی لوگوں کو اپنے علاقے کے نظم و نسق میں بااختیار ہونے اور حصہ لینے کا چسکا پڑ گیا ہے۔لہذا غیر جماعتی نوعیت کے سبب برادری ازم کا جزبہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ووٹنگ کی جانب مائل کرے گا۔لیکن اگر سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار کا اوسط نکالا جائے تو کہیں بھی ووٹنگ پچاس فیصد کا ہندسہ پار نہیں کرسکی۔ یعنی امیدواروں سے ذاتی جان پہچان کے باوجود آدھے سے زائد ووٹروں نے گھر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ ایسے میں حکمراں پارٹی کےحاضر وزیر جہانگیر ترین اور سابق وزیر ڈاکٹر شیر افگن اور جنرل ریٹائرڈ مجید ملک سمیت کئی رہنماؤں نے بلدیاتی انتخابی عمل کو خام قرار دیا ہے مگر وزیرِاعظم شوکت عزیزاور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر نے پولنگ کو پرامن ، منصفانہ اور کامیاب اور صدر پرویز مشرف نے انتخابی نتائج کو انتہا پسندی پر روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی فتح قرار دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||