BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب میں شہری دیہی تقسیم برقرار

پی پی پی کے سیکریٹری اطلاعات نوید چوہدری اور ایم پی اے فرزانہ راجہ
حزب اختلاف نے وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں بشمول صوبائی دارالحکومت لاہور میں حکمران پاکستان مسلم لیگ واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

حزب اختلاف میں شامل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے اتحاد نے لاہور شہر کی ایک سو پچاس یونین کونسلوں میں سے ناظم کی پینتالیس نشستیں جیتنے کا دعوی کیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کا کہنا ہے کہ اس نے ناظم کی اٹھارہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

اسی طرح حکمران جماعت کو پنجاب کے دوسرے شہروں مثلا فیصل آباد، شیخوپورہ اور راولپنڈی میں بھی اکثریت نہیں ملی۔ شیخوپورہ میں مسلم لیگ نواز نے اسی فید نشستیں جیتنے کا دعوی کیا ہے۔ دوسری طرف فیصل آباد شہر میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے ستر فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے۔ راولپنڈی میں شیخ رشید احمد اور حزب اختلاف نے ملی جلی کامیابی حاصل کی ہے۔

پچیس اگست کے انتخابات میں بھی اٹھارہ اگست کے نتائج کی طرح پنجاب کے شہری اور دیہی تقسیم دیکھنےمیں آرہی ہے۔ شہری علاقوں میں حزب اختلاف نے اکثریتی نشستیں جیتی ہیں لیکن ان کے سوا باقی سب جگہوں پر حکمران جماعت کے مختلف دھڑوں کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ تاہم اکثر جگہوں پر حکمران مسلم لیگ کے اپنے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان ضلعی ناظم اور تحصیل ناظم بننے کی لڑائی ہے۔

پنجاب کی اٹھارہ سو سے زیادہ یونین کونسلوں میں ووٹنگ ختم ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ گزر گئے ہیں لیکن حزب اختلاف کے امیدواروں کا کہنا ہے کہ انہیں ریٹرننگ افسروں نے اب تک قانون کے مطابق عبوری نتائج مہیا نہیں کیے۔

لاہور میں ایوان عدل کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ ریٹرننگ افسر بننے والے سول ججوں اورمیجسٹریٹوں کے باہر پولیس کا پہرہ ہے اور کوئی عام آدمی ان کے قریب نہیں جاسکتا۔ قانون کے مطابق ایک ریٹرننگ افسر کسی امیدوار کے طلب کرنے پر انتخاب کا عبوری نتیجہ دینے کا پابند ہے لیکن لاہور میں حزب اختلاف کے امیدواروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ عبوری نتیجہ جمعہ کی شام تک فراہم نہیں کیا گیا۔

قانون کے مطابق پولنگ اسٹیشن کے پریذائڈنگ افسروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کے ختم ہونے پر ایک سرکاری پروفارما پر اپنے پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ فراہم کرے لیکن لاہور میں حزب اختلاف کی پارٹیوں سے وابستہ امیدواروں کا کہنا ہے کہ کئی پریذائڈنگ افسروں نے نتیجہ دینے سے انکار کردیا یا صرف سادہ کاغذ پر مہر کے بغیر رزلٹ دیا۔

اپوزیشن پارٹیوں نے ریٹرننگ افسروں کی طرف سے انتخابی نتائج جاری نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ انتخابی نتائج تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔ دوسری طرف وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے انتخابات میں دھاندلی یا نتائج میں تبدیلی کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات صاف شفاف اور آزادانہ ہوئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد