BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 August, 2005, 01:37 GMT 06:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایسے انتخابات بے معنی ہیں‘

عاصمہ جہانگیر
انسانی حقوق کمشن کی چئیر پرسن عاصمہ جہانگیر
پاکستان میں انسانی حقوق کمشن نے کہا ہے کہ موجودہ انتخابات جس طریقے سے ہوئے ہیں اس کے بعد آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے منصفانہ اور آزادانہ ہونے کی کوئی امید باقی نہیں رہی ہے۔

کمشن نے انتخابات کے موجودہ دور کو بے معنی قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو کہا ہے کہ وہ اس بات پر غور کریں کے ایسے بے معنی عمل میں شامل ہونے کا فیصلہ دانشمندی کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے یا نہیں ؟

انسانی حقوق کمشن کی چئیر پرسن عاصمہ جہانگیر کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ بلدیاتی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی نے اس ملک کے جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے تو بلدیاتی اداروں کے قوانین میں ایسی ترامیم کی گئیں جس سے ان کے اختیارات میں کمی آئی اور ساتھ ہی ساتھ یونین کونسل کی نشستیں کم کی گئیں۔

 انسانی حقوق کمشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہیں انتخابات سے پہلے دھاندلی کی بے شمار شکایات ملیں جن کے شواہد بھی فراہم کیے گئے انتخابات سے پہلے کی دھاندلی کی ایک شکل نئی ا نتخابی حد بندیاں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ان ترامیم کا تعلق اگرچہ انتخابات سے نہیں رہا لیکن اس سے ان اداروں کا جمہوری اساس پر زد آئی ہے۔

انسانی حقوق کمشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہیں انتخابات سے پہلے دھاندلی کی بے شمار شکایات ملیں جن کے شواہد بھی فراہم کیے گئے انتخابات سے پہلے کی دھاندلی کی ایک شکل نئی ا نتخابی حد بندیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں خاص طور پر سندھ حکومت نے مخالف امیدواروں کو الیکشن سے باز رکھنے کے لیے غیر قانونی ہتھکنڈے اپنائے اور سندھ میں کئی مقامات پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوگئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے من مانے نتائج حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔

امیدواروں کو یہ بات سمجھنے پر مجبور کیا گیا کہ ان کی کامیابی کے بہترین امکانات اس میں ہیں کہ وہ حکمران سیاسی جماعت میں شامل ہوجائیں جو کمشن کے بقول جماعتی جمہوری نظام کے تقاضوں کے برخلاف یا منافی ہے۔

 کمشن نے انتخابات کے غیر جماعتی قرار دیے جانے کو آزادانہ منصفانہ اور جمہوری انتخابات کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی خود حکومت نے سب سے پہلے خلاف ورزی کی۔

کمشن نے انتخابات کے غیر جماعتی قرار دیے جانے کو آزادانہ منصفانہ اور جمہوری انتخابات کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی خود حکومت نے سب سے پہلے خلاف ورزی کی۔

کمشن نے کہا کہ حکومت نے خود الیکشن کمشن کے دیگر ضابطہ اخلاق کے ساتھ ساتھ انتخابات کے غیر جماعتی ہونے کے قانون کی خلاف ورزی کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے غیر جماعتی ہونے کے باوجود حکومتی امیدواروں کا اعلان مختلف سطح پر کیا گیا اور خود وزیر اعلی پنجاب نے اضلاع کے ناظمین کے لیے اپنے اور اپنی سیاسی جماعت کے پسندیدہ امیدواروں کے ناموں کے اعلان میں کبھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ غیر جماعتی انتخابات کے حالیہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ غیر جماعتی انتخابات جمہوری اقدار سے مسابقت نہیں رکھتے اور اس سے مختلف سطح پر بدعنوانی اور ناانصافی کو حوصلہ افزائی ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ اگر حکومت اپنی من مانی پر اتر آئے تو موجودہ الیکشن کمشن آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

انہوں نے الیکشن کمشن کے انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ کے کئی مقامات پر مکمل انتظامات موجود نہیں تھے اور کئی مقامات پر بیلٹ پیپر کی چھپائی اس قد ناقص تھی کہ ووٹر کے لیے انتخابی نشانات میں امتیاز کرنا مشکل ہوگیا تھا اور کئی مقامات پر امیدواروں کے نشانات تک بیلٹ پیپر موجود نہیں تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ الیکشن کے دوران امیدواروں اور ووٹروں پر تشدد اور انہیں حراساں کرنے کی لاتعداد شکایات ملی ہیں۔

کمشن نے کہا ہے کہ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ موجودہ انتخابات جس طرح ہوئے ہیں اس نے انہیں بے معنی بنا دیا ہے۔

 انتخابات کی نگرانی کرنے والی ایک دوسری غیر سرکاری تنظیم ’پتن‘ کے عہدیدار عبدالصبور نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے ملک کے ایک سو انتیس پولنگ سٹیشنوں کا سروے کرایا ہے جس کے نتیجے میں وہ یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ الیکشن منصفانہ اور آزادانہ طریقے سے نہیں ہوپائے۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والی ایک دوسری غیر سرکاری تنظیم ’پتن‘ کے عہدیدار عبدالصبور نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے ملک کے ایک سو انتیس پولنگ سٹیشنوں کا سروے کرایا ہے جس کے نتیجے میں وہ یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ الیکشن منصفانہ اور آزادانہ طریقے سے نہیں ہوپائے۔

ان کے سروے کے مطابق انتالیس فی صد لوگوں کا کہنا ہے کہ پولنگ سٹیشنوں پر افراتفری کی کیفیت رہی۔ اٹھائیس فی صد پولنگ سٹیشنوں پرتشددکے واقعات ہوئے اور تیس فی صد پر مختلف اوقات میں پولنگ رکی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سروے کے دوران پچیس فی صد کے قریب افراد کو اس بارے میں پر یقین نہیں تھے کہ انتخابی نتائج درست طور اعلان کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں تشدد کے جو واقعات ہوئے ہیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔

66نوٹ اور ووٹ
لاہور میں انتخابی مہم پر بےدریغ پیسہ خرچ کیا گیا
66’میں نے کیا دیکھا‘
بیلٹ باکس بھرے جانے کا آنکھوں دیکھا حال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد