سندھ: 1054 بلا مقابلہ کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تھر کے 295 کونسلروں اور ناظموں سمیت سندھ میں 1054 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں چھ سو پینتالیسں امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار دیے گئے تھے۔ جن میں چوالیس یونین ناظم اور نائب ناظم بھی شامل تھے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے آبائی ضلع تھرپار کر کی چوالیس یونین کونسلوں میں سے تیس کے ناظم اور نائب ناظم بلامقابلہ کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔ ان عہدوں کے لیے ایک سو سے زائد امیدواروں نے کاغذ نامزدگی جمع کرائے تھے۔ جن میں سے سات کے فارم مسترد کیے گئے جبکہ باقی امیدوار دستبردار ہوگئے۔ واضح رہے کہ پی پی پی سمیت مخالف جماعتوں نے ارباب غلام رحیم پر امیدواروں کے اغوا اور مختلف طریقوں سے تنگ کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ پورے صوبے میں ان کے ضلع میں سب سے زیادہ ناظم بلا مقابلہ کامیاب ہوئے ہیں اور ان کا تعلق انہی کے گروپ سے ہے۔ دوسرے نمبر پر سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ علی محمد مہر کے ضلع گھوٹکی میں آٹھ ناظم اور نائب ناظم کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔ یہاں کل یونین کونسلوں کی تعداد بیالیس ہے۔ ناظم اور نائب ناظم کے لیے ڈیڑھ سو سے زائد امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تھے۔ جن میں سے اٹھارہ مسترد کیے گئے۔ بلامقابلہ کامیاب ہونے والے امیدواروں میں دو سو پچپن خواتین بھی شامل ہیں۔ سب سے زائد خواتین گھوٹکی میں کامیاب ہوئی ہیں جہاں پندرہ امیدوارں کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے نمبر پر نوشہروفیروز اور جیکب آباد میں دس دس خواتین کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں بڑی تعداد میں خواتین کی نشستیں خالی رہ گئی تھیں۔ مگر موجودہ الیکشن میں کوئی بھی سیٹ خالی نہیں ہے۔ سندھ میں دو سو چھ اقلیتی امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ جن میں سترہ خواتین اور ایک سو نوے کے قریب مرد ہیں۔ سب سے زیادہ امیدوار کراچی میں کامیاب ہوئے ہیں جن کی تعداد چھیانسٹھ ہے۔ سندھ میں پہلے مرحلے میں کراچی سمیت گیارہ اضلاع کی گیارہ ہزار گیارہ سو یونین کونسل میں انتخابات ہورہے ہیں۔ جن کے لیےاٹھارہ اگست کو پولنگ ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||