BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 September, 2005, 22:06 GMT 03:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسمبلی میں اپوزیشن کا ہنگامہ

فائل فوٹو
پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف علامتی واک آؤٹ کیا
پیر کی شام گئے پاکستان کی قومی اسمبلی میں قانون سازی کے دوران حزب اختلاف نے سخت ہنگامہ برپا کردیا جس کی وجہ سے اجلاس ایجنڈا کی کارروائی مکمل کئے بنا منگل تک ملتوی کردیا گیا۔

اجلاس میں جہاں پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف علامتی واک آؤٹ کیا گیا وہاں آرڈیننس ایوان میں پیش کرتے وقت اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر کے روسٹرم کے آگے آ کر نعرے لگاتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔

سپیکر کے روسٹرم کے آگے آکر نعرے لگانے اور احتجاج کرنے کا انداز حزب اختلاف نے صدر جنرل پرویز مشرف کی آئینی ترامیم ’لیگل فریم ورک آرڈر، یعنی ’ایل ایف او، کے خلاف کیا تھا۔ لیکن ایک سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے اپنا پرانا انداز اختیار کیا۔

وقفہ سوالات ختم ہونے کے بعد مغرب کی نماز کا وقفہ کیا گیا اور جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنما حافظ حسین احمد نے نکتہ اعتراض پر حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سخت احتجاج کیا اور کہا کہ حکومت ’ماہواری بجٹ، پیش کر رہا ہے اور عوام مہنگائی سے پریشان ہیں۔

انہوں نے علامتی واک آؤٹ کیا جس میں پیپلز پارٹی نے حصہ نہیں لیا۔ جیسے ہی متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ نواز کے اراکین ایوان سے باہر گئے تو پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نے پانچ صدارتی آرڈیننس ایوان میں پیش کیے۔

اس دوران پیپلز پارٹی کے اراکین نے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ ایسی کیا ایمرجنسی تھی کہ قومی ایسمبلی کا اججلاس بلانے کے بعد صدر نے آرڈیننس جاری کیے۔

ان آرڈیننسز میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور ممبران کی مدت ملازمت پانچ برس سے کم کرکے تین سال کرنے، ’انٹل لیکچوئل پراپرٹی آرگنائیزیشن آف پاکستان کے قیام، نادرہ اور مدارس کی رجسٹریشن کے معاملات بھی شامل تھے۔

پیپلز پارٹی کے اراکین اپنی نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے روسٹرم کے آگے آگئے اور ان کا ایک لحاظ سےگھیراؤ کیا۔ اس دوران واک آؤٹ کرکے جانے والے اراکین بھی ایوان میں آئے اور انہوں نے بھی سخت احتجاج کیا۔

حزب اختلاف کے سخت احتجاج کے دوران جب ایجنڈا کے دیگر نکات پر ڈپٹی سپیکر سردار محمد یعقوب ایجنڈا نہ چلا سکے تو انہوں نے ایوان کی کارروائی منگل کی صبح تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد