BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 August, 2005, 00:59 GMT 05:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومتی اراکین کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی کے اراکین
اسمبلی کا نیا سیشن پیر انتیس اگست سے شروع ہوا (فائل فوٹو)
پاکستان کے پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں پیر کی شام گئے جہاں حکومت کو ایک تحریک پر ووٹنگ کے دوران شکست کاسامنا کرنا پڑا وہاں حکومت نے حزب اختلاف کے خلاف واک آؤٹ کیا اور کورم کی نشاندہی بھی کی۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ حکومت نے واک آؤٹ کرتے ہوئے کورم کی نشاندہی کی ہو اور انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

 وزیر نے حکومت کے حامیوں کو ایوان سے باہر جانے کا اشارہ کیا اور بیشتر ارکان باہر چلے گئے لیکن وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ، فیصل صالح حیات، دانیال عزیز اور دیگر کچھ ارکان ایوان میں موجود رہے۔

یہ بھی ایک انہونی بات ہے کہ حزب اختلاف والے حکومت کو مناکر واپس ایوان میں لائے۔ اس موقع پر حکومت کے حامی پانچ کے قریب اراکین نے حزب اختلاف کا ساتھ دیا اور واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا۔

یہ سب کچھ پیر کی شام کو قومی اسمبلی کے ستائیس ویں سیشن کی ابتدا کے موقع پر دیکھنے کو ملا۔

وقفہ سوالات کے بعد جب حکومت کی جانب سے ایک قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے ایک بل کے متعلق رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر کو صرف نظر کرنے کی تحریک پیش کی تو ’وائس ووٹ‘ کے دوران حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد جیسے ہی سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے حزب اختلاف کی تحاریک التویٰ پر بحث شروع کرانی چاہی تو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی نے غصے میں آکر حزب اختلاف کے رویے کے خلاف واک آؤٹ کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ دیکھیں گہ ان کے مخالف کیسے کورم پورا کرتے ہیں اور کارروائی چلاتے ہیں۔

وزیر نے حکومت کے حامیوں کو ایوان سے باہر جانے کا اشارہ کیا اور بیشتر ارکان باہر چلے گئے لیکن وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ، فیصل صالح حیات، دانیال عزیز اور دیگر کچھ ارکان ایوان میں موجود رہے۔

اسی صورتحال میں وزراء ایوان میں آئے اور اپنے حامیوں کو باہر جانے کے لیے کہا۔ شیر پاؤ سمیت کچھ وزراء اور اراکین باہر چلے گئے لیکن ثناء اللہ مستی خیل، مخدوم احمد عالم انور، ملک فاروق اعظم، شیر اکبر خان اور ریاض پیرزادہ ایوان میں بیٹھے رہے۔

سپیکر نے حکومت کی نشاندہی پر کورم پورا ہونے کی گنتی کرانے کے بعد کہا کہ اجلاس کی کارروائی جاری رکھی جاسکتی ہے۔ ان کی اس رولنگ کے بعد قائد حزب احتلاف سمیت حزب آختلاف کے سرکردہ رہنما ایوان سے باہر گئے اور حکومتی اراکین کو مناکر ایوان میں واپس لائے۔

یہ بھی شاید پہلی بار ہوا کہ حزب اختلاف والے حکومت کے اراکین کو منا کر ایوان میں واپس لائے ہوں۔

 یہ بھی شاید پہلی بار ہوا کہ حزب اختلاف والے حکومت کے اراکین کو منا کر ایوان میں واپس لائے ہوں۔

دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات حزب اختلاف والوں نے تو حکومت پر عائد کیے ہی لیکن حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے میاں ریاض حسین پیرزداہ اور ڈاکٹر عاشق فردوس اعوان سمیت بعض اراکین نے بھی ایسے الزام حکومت پر لگائے۔

اس دوران حزب مخالف نے زوردار طریقے سے ڈیسک بجا کر بظاہر حکومت کے باغی دکھائی دینے والے اراکین کو بھرپور داد دی۔

ایوان کی کارروائی کے دوران متحدہ قومی موومنٹ اور متحدہ مجلس عمل نے کراچی میں ایک دوسرے پر حملے کرنے اور دھاندلی کے الزامات بھی لگائے۔

بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے معاملات پر قبل ازیں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے احتجاجی طور پر علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ ایوان کی کارروائی اب منگل کی صبح پھر ہوگی۔

66غیر پارلیمانی الفاظ
’اسمبلیاں نہ توڑنے والی قوتوں کا شکریہ‘
66نوٹ اور ووٹ
لاہور میں انتخابی مہم پر بےدریغ پیسہ خرچ کیا گیا
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد