قومی اسمبلی کا نیا سیشن آج شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کا بلایا جانے والا ستائیس واں اجلاس پیر کی شام کو شروع ہو گا ۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ وہ اس اجلاس میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں مبینہ حکومتی دھاندلی کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔ احتجاج کی حکمت عملی وہ پیر کی سہ پہر کو پارلیمینٹ ہاؤس میں بلائے گئے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں طے کریں گے۔ ادھر حکومتی اتحاد نے بھی حزب اختلاف کے متوقع احتجاج کو روکنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پیر کو بلا رکھا ہے۔ قومی اسمبلی کا یہ اجلاس تقریباً ڈھائی ماہ بعد ہورہا ہے۔ آخری اجلاس سترہ جون کو بجٹ منظور کرنے کے بعد ملتوی کردیا گیا تھا۔ جس کے بعد بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیوں کے باعث اجلاس میں تاخیر ہوئی۔ حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اراکین کی موجودگی کو اجلاس میں یقینی بنائیں تاکہ کورم کا مسئلہ پیدا نہ ہوسکے۔ واضح رہے کہ موجودہ اسمبلی میں حکمران مسلم لیگ کو تین سو بیالیس میں سے دو سو کے قریب اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن متعدد بار وہ کورم پورا کرنے کے لیے مطلوبہ چھیاسی اراکین کو ایوان میں موجودگی کو یقینی بنانے میں بھی کامیاب نہیں ہوتے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ موجودہ اسمبلی کی تین سال سے بھی کم مدت میں جتنی بار کورم پورا ٹوٹا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ کورم پورا نہ ہونے کے بارے میں ان کا یہ بھی دعویٰ رہا ہے کہ حکومتی اتحاد اندرونی اختلافات اور رنجشوں کا شکار ہے۔ جس کی حکمران اتحاد والے تردید کرتے رہے ہیں۔ قانونی طور پر ہر پارلیمانی سال میں کم از کم ایک سو تیس دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا لازمی ہے۔ رواں پارلیمانی سال نومبر میں ختم ہوگا، اور اس دوران چھپن دن اجلاس چلانا لازمی ہے۔ قومی اسمبلی کے حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو شروع ہونے والا ستائیس واں اجلاس ستمبر کے تیسرے ہفتے تک جاری رہے گا۔ اس اجلاس میں معمول کی کاررروائی کے علاوہ بار کونسلز ترمیمی بل سن دوہزار پانچ اور آبی وسائل کی تحقیق کے لیے کونسل کے قیام کے بل سمیت متعدد بلوں پر بھی غور ہوگا۔ قومی اسمبلی کے حکام کے مطابق اس وقت سترہ بلوں کے مسودے ایوان کی مختلف قائمہ کمیٹیوں میں زیر غور ہیں اور ان کمیٹیوں کی رپورٹ پیش ہونے کی صورت میں حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ بل بھی منظور کرائے جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||