BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 October, 2005, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زندگی لوٹانے والے ٹرک ڈرائیور

امدادی ٹرک
زلزلے کے بعداس علاقےمیں سفر مشکل اور خطرناک ہوچکا ہے
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ افراد تک امداد کی صورت میں زندگی کی نوید پہنچانے میں ٹرک ڈرائیوروں کا ایک اہم کردار ہے۔

راولپنڈی کے عاشق حسین لودھی زلزلے کے دوسرے دن سے ہی متاثرہ علاقوں میں مسلسل امداد پہنچا رہے ہیں۔

انہی کے ساتھ میں نے مظفر آباد تک کا ایک سفر کیا۔ انہیں راستے میں ہاتھ دے کر روکا تو انہوں نے خوشدلی سے بٹھا لیا اور ٹرک کے انجن کی گھن گرج میں ان سے گفتگو کا آغاز ہوا۔

عاشق حسین نے بتایا کہ زلزلے کے بعد ان علاقوں میں گاڑیوں کا سفر کوئی آسان کام نہیں تھا۔ خاص طور پر دیر کٹ کے راستے میں جگہ جگہ سے سڑک ٹوٹ کر کھائی میں جا گری تھی اور کئی مقامات ایسے تھے جہاں بظاہر سڑک کی تہہ تھی لیکن نیچے سے خلا اور کھائی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک ویگن سمیت تین گاڑیاں ایسی کھائیوں میں گری دیکھی تھیں۔

لوگوں کو علم نہیں کہ کیا بھیجنا ہے اور کیا نہیں بھیجنا لوگ گرمیوں میں استعمال والے کپڑے بھیج دیتے ہیں جو یہاں بے کار ہیں
عاشق لودھی

ان کے اپنے ٹرک میں بستر، کمبل اور رضائیاں لدی تھیں لیکن کیبن میں ایک بڑا کارٹن پانی کی بوتلوں کا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے یہ پانی راستے میں کھڑے فوجی اہلکاروں کی ’خدمت‘ کے لیے رکھا ہوا ہے۔ وہ مختلف مقامات پر کھڑے فوجیوں میں دو دو بوتل پانی بانٹتےچلے گئے۔

کوہالہ کے نزدیک انہوں نے ٹرک روک کر روزہ افطار کیا۔چند کھجوریں،دو تین پکوڑے اور آدھ درجن خربوزے کی پھانکیں بس یہی کچھ ان کی افطاری رہی۔

اسی دوران ایک بچہ ان سے کمبل مانگنے آگیاعاشق حسین نے اسے انکار کر دیا اور وجہ یہ بتائی کہ یہ متاثرہ علاقہ نہیں ہے اور وہ امدادی سامان ضائع نہیں کر سکتے۔

دوبارہ سفر شروع ہوا تو انہوں نے کچھ دیر اونچی آواز میں عطاءاللہ عیسی خیلوی کے گانے بھی لگائے رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں متاثرین کے دکھ کا احساس ہے لیکن جب وہ طویل ڈرائیونگ سے اکتا جاتے ہیں تو پھر گانے سن لیتےہیں۔

راستے میں خچروں کا ایک ریوڑ گزرا تو انہوں نے غصے میں کہا کہ یہ اسے یہاں لےکر پھر رہے ہیں جبکہ ان کی اصل ضرورت متاثرہ علاقوں میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹرکوں نے بہت سامان پہنچا دیا ہے اور اب اس سامان کو پہاڑوں کے اوپر پہنچانے کی ضرورت ہے جو خچروں کے ذریعے پہنچایا جا سکتا ہے۔

گفتگو کے دوران ٹرک ڈرائیور عاشق حسین نے کہا کہ زلزلے کے بعد یہاں سفر واقعی مشکل اور خطرناک ہوچکا ہے اور پنجاب سےامدادی سامان لےکر آنے والے کئی لوگ گھبرا بھی جاتےہیں لیکن ان کے ساتھ آنے والے کسی شخص نے بھی اپنا سفر ڈر کی وجہ سے ترک نہیں کیا۔

ٹرک ڈرائیور عاشق لودھی

انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کے جذبہ ہمدردی سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے تین چار روز تو اس قدر لوگ آئے تھے کہ انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کھمبیوں کی طرح اگ رہے ہیں۔

عاشق حسین لودھی نے کہا کہ سڑکوں پر امدادی ٹرکوں کی تعداد کچھ کم ہوئی ہے لیکن اب ذرا ضرورت کے مطابق سامان آنے لگا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب اصل مسئلہ سامان ان علاقوں تک پہنچانے کا ہے جہاں گاڑیاں نہیں جا سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امدادی سامان ضائع بھی ہو رہا ہے۔ خاص طور پر جو لوگ انفرادی طور پر سامان لاتے ہیں وہ سڑک کے کنارے سامان پھینک کر چلے جاتے ہیں جبکہ بعض ذرا ہوشمندی دکھاتے ہوئے کیمپوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک تو لوگوں کو علم نہیں کہ کیا بھیجنا ہے اور کیا نہیں بھیجنا لوگ گرمیوں میں استعمال والے کپڑے بھیج دیتے ہیں جو یہاں بے کار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شروع شروع میں کئی مقامات پر لوگوں نے ان کے ٹرک کو لوٹنے کی کوشش بھی کی۔ ٹرک کے ٹائر کی ہوا نکالی اور شیشے توڑ ڈالے لیکن پولیس اور فوج کی مداخلت پر وہ لوگ منتشر ہوگئے۔

 پنجاب پولیس کی بھی بڑی نفری سڑکوں پر نظر آتی ہے لیکن ان کے بقول ایک فرق ضرور ہے اور وہ یہ کہ ان دنوں ٹرکوں کو روک کر ان سے رشوت وصول نہیں کی جارہی۔
عاشق لودھی

انہوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں کو سامان نہیں دے سکتے تھے ایک تو انہیں وعدے کے مطابق سامان منزل مقصود پر پہنچانا ہوتا ہے اور دوسرے ان کے نزدیک امدادی سامان کی ضرورت ان لوگوں کو زیادہ ہے جو سڑک سے دور اونچائی پر تباہ حال بیٹھے ہیں۔

سفر کے دوران ملک بھر سے آئے ٹرک دکھائی دیے۔ سیاسی، غیر سیاسی تنظیموں، سرکاری اداروں، فوجی ٹرکوں کے علاوہ عام لوگ بھی سامان بھر بھر کر لے جا رہے تھے اور ٹرکوں پر لگے بینر ان کے بھیجنے والوں کا پتہ دیتے تھے۔

فوج کے ٹرکوں پر منظم انداز میں سامان بھرا دکھائی دیا۔ایک ٹرک پر خیمے لدے تھے اور دوٹرکوں پر صرف مٹی کے تیل کے چولہے تھے۔ دعوت اسلامی کے ٹرک میں سامان تھوڑا تھا لیکن دس پندہ سبز پگڑی والے اللہ ہو، اللہ ہو کا ورد کرتے جا رہے تھے۔

مظفرآباد کے علاقے میں موٹر وے پولیس کی گاڑی کی طرف اشارہ کر کے انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کی بھی بڑی نفری سڑکوں پر نظر آتی ہے لیکن ان کے بقول ایک فرق ضرور ہے اور وہ یہ کہ ان دنوں ٹرکوں کو روک کر ان سے رشوت وصول نہیں کی جارہی۔

عاشق حسین کوموبائل فون پر بتایا گیا کہ انہیں یہ سامان سہیلی سکول میں اتروانا ہے۔ سہیلی سکول کے نزدیک ٹرک کھڑا کرنے کے دوران چند افراد نے ان کے ٹرک کو گھیرے میں لیکر سامان مانگا لیکن انہوں نے سارا سامان ریلیف کیمپ کی انتظامیہ کے حوالے ہی کیا۔

66دھیرے دھیرے
مظفر آباد میں زندگی کی رمق: ذوالفقار علی
66دور کے لوگ
ایل او سی کے پار سے جلد امداد کے منتظر
66نصف ماہ گزر گیا
زلزلے کے پندرہ دن بعد کیا ہو رہا ہے: تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد