دنیا پاکستان کی مدد کرے: عنان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہنے والوں کی بر وقت مدد نہ کی تو وہاں اموات کی دوسری لہر آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دور افتادہ علاقوں میں ابھی بھی دسیوں ہزار افراد ایسے ہیں جن تک رسائی نہیں ہو سکی۔ سردی سر پر آ گئی ہے اور ابھی بھی تیس لاکھ افراد بے گھر ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ جس بد ترین صورتِ حال سے زلزلے کے متاثرین دو چار ہیں انہیں سڑکیں صاف کرنے والی بڑی بڑی مشینوں کے علاوہ ہیلی کاپٹرز اور ٹرک بھی درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ اس وقت تقریباً تیس لاکھ مرد، عورتیں اور بچے بے گھر ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس ہمالیہ کی پہاڑیوں کی سردی سے بچنے کے لیے نہ کمبل ہیں اور نہ ہی ٹینٹ وغیرہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دنیا نے ان کی مدد کے لیے کوئی مؤثر کوشش نہ کی تو زلزلے سے متاثر علاقے میں اموات کی ایک اور لہر وارد ہو گی جس میں مزید بے شمار افراد ہلاک ہوں گے۔ میرے خیال میں ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا کہ مزید بے شمار افراد ہلاک ہوں۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب تیزی سے میدانِ عمل میں اتریں۔ پاکستان کے عوام اور حکومت کو انتہائی غیر معمولی صورتِ حال کا سامنا ہے اور ہمیں غیر معمولی انداز سے ان کی امداد کرنا ہو گی‘۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے میں کم از کم بیالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سڑسٹھ ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بر وقت مدد نہ کی گئی تو مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
کوفی عنان نے امداد دینے والے ممالک اور اداروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے جنیوا میں ہونے والی زلزلے سے متعلق کانفرنس میں بھرپور طریقے سے شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں امداد دینے والوں اور نیٹو اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے رکن ممالک کے تمام وسائل بروئے کار لائیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں سامان پہنچانے کے مشکل ترین چیلنج سے نمٹا جا سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کم از کم پینتالیس ہزار ایسے خیمے چاہییں جن کے ذریعے لوگوں کو شدید سردی سے بچایا جا سکے۔ ہمیں بیس لاکھ کے قریب کمبل اور سونے کے عارضی گرم بستر چاہیے ہیں۔ اس کے علاوہ خوراک، ادویات اور پانی کی بھی ضرورت ہے‘۔ اس دوران اقوامِ متحدہ کے ہنگامی امداد کے کمشنر ژاں ایگلین نے جنیوا میں ایک اجلاس میں شرکت کی جس میں زلزلے کے دو ہفتوں کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ نے دنیا سے اپیل کی تھی کہ متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر ستائیس کروڑ ڈالرز کی ضرورت ہے جس میں سے اسے صرف پانچ فیصد رقم ملی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||