امدادی کاموں میں تیزی کی ضرورت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی امداد کے کوآرڈینیٹر نے کہا ہے کہ اگر موسمِ سرما کے بھر پور آغاز سے پہلے زلزلے سے انتہائی متاثرہ افراد کی جانیں بچانا اور ان کی مدد کرنا مقصود ہے تو امدادی کارروائیوں کو فوری طور پر تیز تر کرنا ہو گا۔ کوآرڈینیٹر وینڈیمورٹیلی کا کہنا ہے کہ یہ امدادی کام کرنے والے حکام اور وقت کے درمیان ایک دوڑ ہے اور اسے جیتنے کے لیے حکام کی ترجیح یہ ہے کہ وہ جلد سے جلد مزید خیمے حاصل کریں، ہنگامی پناہ گاہیں بنائیں اور دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹر حاصل کریں۔ انہوں نے نیٹو کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جس کے تحت ایک ہزار تک فوجی اور دوسرا امدای سامان بھیجا جانے والا ہے، جس میں ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی مزید ہیلی کاپٹر درکا ہوں گے تا کہ زخمیوں کو دشوار علاقوں سے اٹھا کر لایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے تین ہیلی کاپٹر پہنچنے سے ضرور کام میں تیزی آئے گی لیکن ابھی بہت سے ایسے بہت سے علاقے ہیں جن تک تودے گرنے کی وجہ سے رسائی بالکل نہیں ہو سکی ہے اور وہ اب تک دوسرے علاقوں سے مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں۔ برطانیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے سنیچر کو تین ہیلی کاپٹر پاکستان روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دو اور ہیلی اتوار کو پاکستان روانہ کیے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||