’عالمی امداد سست روی کا شکار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امدادی کارروائیوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے سربراہ ایگلین نے کہا ہے کہ امداد مہیا کرنے والے ملکوں سے مناسب امداد موصول نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بارہ دن گزر جانے کے باوجود مطلوبہ مالی امداد کا صرف پانچ فیصہ حصہ موصول ہوا ہے اور اس کے علاوہ امداد کی ترسیل میں دشواریوں کی بنا پر جو صورت حال پیدا ہوئی ہے وہ گزشتہ سال سونامی طوفان کے بعد پیدا ہونی والی صورت حال سے بدتر ہے۔ انہوں نے کہا جن علاقوں تک رسائی مکمن نہیں ہوسکی ان میں بہت سے لوگ اب بھی طبی امداد کے منتظر ہیں۔ ژان انگلین نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے اور تیس لاکھ کے قریب بے گھر لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے ایک بہت بڑا فضائی آپریشن شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہاڑی علاقے میں سخت سردی شروع ہونے سے پہلے بے گھر لوگوں تک مناسب امداد پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ ژاں ایگلین کا کہنا ہے کہ یو این کو کبھی بھی امداد کی ترسیل میں اس قسم کے مشکل ترین حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بھیجی گئی امداد کافی نہیں ہے۔ ہمیں آج تک اس قسم کے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہمارا خیال تھا کہ سونامی بھیانک ترین تباہی تھی مگر یہ اس سے زیادہ خراب صورتحال ہے‘۔ جنیوا میں موجود ژاں ایگلین کا کہنا تھا کہ زلزلے کے بعد کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ لاکھوں افراد کو خطرہ ہے اور اگر ہم ان تک نہ پہنچے تو وہ ہلاک ہو سکتے ہیں‘۔
ادھر نیٹو نے پاکستان میں امداد پہنچانے کے ایک بہت بڑے آپریشن کےآغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ نیٹو کے اعلان کے مطابق فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے طیارے اقوامِ متحدہ کی جانب سے دی جانے والی امداد پاکستان پہنچا رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہ طیارے آئندہ چند ہفتوں میں ترکی میں واقع گوداموں سے نو سو ٹن امدادی سامان اسلام آباد پہنچائیں گے۔ اس امداد میں دس ہزار خیمے بھی شامل ہیں جن کی بڑھتی ہوئی سردی کے سبب متاثرہ علاقوں میں اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ خمیوں کے علاوہ اس امدادی سامان میں بڑی تعداد میں کمبل اور چولہے بھی شامل ہیں۔ اس سامان کی فضائی ترسیل کے علاوہ نیٹو پاکستان کو کچھ ہیلی کاپٹر بھی دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تین برطانوی چنوک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر ہفتے کو پاکستان پہنچنے والے ہیں۔
اس اعلان سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے خبردار کیا تھا کہ اگر دنیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہنے والوں کی بر وقت مدد نہ کی تو وہاں اموات کی دوسری لہر آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’دور افتادہ علاقوں میں ابھی بھی دسیوں ہزار افراد ایسے ہیں جن تک رسائی نہیں ہو سکی۔ سردی سر پر آ گئی ہے اور ابھی بھی تیس لاکھ افراد بے گھر ہیں‘۔ امدادی ادارے اور پاکستانی حکومت ہمالیہ کی سردی برداشت کرنے کے قابل خیموں کی فراہمی کے لیے اپیل کرتی رہی ہے۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں دستیاب خیمے بھی اس سانحے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے ناکافی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||