نیٹو مددگار فوجی پاکستان بھیجنے پر آمادہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو نے پاکستان میں زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کی مدد کیلیے ایک ہزار تک فوجی بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ برسلز میں نیٹو کے حکام نے بتایا ہے کہ ان فوجیوں کا تعلق انجینئرنگ اور میڈیکل سے ہو گا۔ اس کے علاوہ مختصر تعداد میں ہیلی کاپٹر بھی بھیجے جائیں گے۔ ان فوجیوں میں اٹلی، پولینڈ اور اسپین کے انجیینئرز شامل ہونگے جن کا اصل کام متاثرہ علاقوں میں زلزلے سے تباہ شدہ سڑکوں کی تعمیر ہوگا۔ اس کے علاوہ نیٹو کی جانب سے ایک موبائل میڈیکل یونٹ بھیجنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے جو جلد متاثرہ علاقوں میں پہنچ جائے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ زلزلے میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے اور تیس لاکھ کے لگ بھگ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ اس قبل صدر مشرف نے کہا تھا کہ تعمیر نو کے لیے امداد کے جو وعدے کیے گئے ہیں وہ ’بالکل ناکافی‘ ہیں۔ بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار روب واٹسن کا کہنا ہے کہ ابھی یہ طے نہیں کیا گیا کے نیٹو فوجی پاکستان کب جائیں گے لیکن اس بات کو طے ہونے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
اس کے علاوہ نیٹو ممالک نے جو امداد دی ہے وہ اقوام متحدہ کی امداد کے طور پر پہلے بھی پاکستان کو بھیجی جا چکی ہے۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے امدادی سامان لے جانے کے لیے مزید پروازیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور جس کے نتیجے میں سامان کی ترسیل میں تیزی آ جائے گی۔ دوسری طرف امریکہ نے جنوبی ایشیا میں زلزلے سے متاثر ہونے والوں کے لیے دی جانے والی امداد رقم کو بڑھا کر چھ لاکھ ڈالر کر دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ میں جنوبی ایشیا کے امور کی اعلیٰ اہلکار کرسٹینا روکا نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے جنوبی ایشیا میں امدادی کاموں میں امریکہ کے کردار کا دفاع کیا اور اس کے بعد مزید آدھ ملین ڈالر امداد بڑھانے کی پیشکش کی گئی۔ امریکہ نے امدادی رقم کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقے میں ہیلی کاپٹرز بھی بھیجے ہیں۔ تاہم کمیٹی کے چیئرمین جیمز لیچ نے امریکہ کی امدادی کارروائی کو واضح طور پر ناکافی قرار دیا ہے۔ امدادی کارروائیوں کے لیےاقوامِ متحدہ کے سربراہ ژاں ایگلین نے نیٹو پر زور دیا ہے کہ وہ سرد موسم کے آغاز سے قبل زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے’ برلن ائر لفٹ‘ جیسا ایک اور آپریشن شروع کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیوں کے ایک ایسے ہی آپریشن کی ضرورت ہے جیسا کہ چالیس کے عشرے میں اتحادی افواج نے مشرق برلن میں کیا تھا۔ تاہم نیٹو کے ایک ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ’نیٹو کا ایسا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا برلن تھا اور یہ اب کا پاکستان ہے۔ ان دونوں کے درمیان کوئی مماثلت نہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||