BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 October, 2005, 18:20 GMT 23:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیمہ بستی منتقلی پر تناؤ

خیمہ بستی
خیمہ بستی دیکھی ہے وہاں نہ تو پانی ہے نہ بجلی اور نہ ہی دوسری ضروریات کا انتظام
اسلام آباد کی سرکاری عمارتوں میں رہائش پذیر زلزلہ زدگاں اور حکومت کے درمیاں خیمہ بستی میں منتقلی کے معاملے پر تناؤ پیدا ہوگیا ہے اور متاثرین نے خیمہ بستی جانے سے انکار کردیا ہے۔

سنیچر کی شام گئے اسلام آْباد انتظامیہ نے آب پارہ میں تعمیر کردہ سوا سو کے قریب فلیٹس میں رہائش پذیر متاثرین کو جب خیمہ بستی جانے کی تیاری کے لیے کہا تو بیسیوں افراد سڑک پر جمع ہوگئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کیا۔

کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی، یعنی ’سی ڈی اے‘ کے ایک ڈائریکٹر مصطفین کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ تین سو خیموں کی بستی تیار کی گئی ہے جہاں بجلی، پانی اور خوراک کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

لیکن فلیٹس میں رہنے والے اعجاز احمد نے کہا کہ جو فلیٹس ان سے خالی کرائے جا رہے ہیں ان میں نہ بجلی ہے نہ پانی اور یہ گزشتہ سات برسوں سے خالی پڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خیمہ بستی دیکھی ہے وہاں نہ تو پانی ہے نہ بجلی اور نہ ہی دوسری ضروریات کا انتظام۔

فلیٹس کے سامنے کھڑے زاہد بخاری نامی شخص نے جو کشمیر کے شہر چناری کے ڈگری کالج میں لیکچرر ہیں، کہا کہ کشمیر حکومت سے سرکاری ملازمین کو فوری طور پر نوکری پر آنے کی ہدایت کی ہے اور اگر وہ چلے بھی گئے تو ان کی تنہا خواتین اور بچے ترپالوں میں تڑپ تڑپ کر مرجائیں گے۔

زلزلے سے متاثرہ ایک خاندان ایک ٹینٹ میں

ظفر پیرزادہ نے بتایا کہ وہ اپنے کچھ ساتھیوں سمیت خیمہ بستی گئے تھے لیکن وہاں چند ترپالیں لگی ہیں جو بارش تو کیا رات کو پڑنے والی اوس یا شبنم سے ہی گیلے ہوجائیں گے۔ ان کے مطابق پندرہ خیموں کے لیے ایک استنجا خانہ ہے اور وہاں مرد اور خواتین کیا قطار میں لگیں گے؟

اس بارے میں مصطفین کاظمی سے جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جو خیمے مارکیٹ میں دستیاب تھے وہ انہوں نے لگائے ہیں۔ ان کے مطابق واٹر پروف خیمے جب ملیں گے تو انہیں تبدیل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خیمہ بستی جنگل میں بنائی گئی ہے جہاں نہ دکان ہے نہ مکان اور وہاں وہ اپنی جوان بیٹیوں کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا پاکستان حکومت خدا کا خوف کرے اور کشمیری خواتین کی منڈی نہ لگائے۔

ایک اور پچاس سالہ کشمیری نے کہا کہ دنیا سے اربوں روپے کشمیری متاثرین کے نام پر جو آئے ہیں وہ کہاں ہیں؟ ان کے مطابق انہیں روٹی بھی پیٹ بھر نہیں ملتی۔

حکومت پر سخت غصہ کرتے ہوئے مجمعے میں سے کئی لوگ ایک ہی وقت بولنا شروع ہوگئے۔ کسی نے کہا کہ کشمیر کو شہہ رگ بولنے والے آج کشمیریوں سے چھت چھین رہے ہیں تو کسی نے کہا کہ لاکھوں افغانیوں کو اسلام آباد میں رہنے کی اجازت ہے لیکن کیا سینکڑوں کشمیری ان پر بوجھ ہیں؟

ایک نوجوان نے کہا کہ اسلام آباد کی زمین بوس ہونے والی عمارت مارگلہ ٹاور کے رہائشیوں کو اپنے شان و شوکت کے مطابق رہائش دی جاسکتی ہے تو لٹے پٹے کشمیریوں سے غیر انسانی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔

متاثرین نے بتایا کہ فلیٹس میں رہنے والوں کو ایک تنظیم کے لوگ کھانا دیتے تھے اور آج انہیں انتظامیہ نے منع کیا ہے کہ ایسا نہ کریں تا کہ لوگ تنگ آ کر خیموں میں جائیں۔ ان کے مطابق سٹریٹ لائٹ بھی بند کردی گئی ہے اور انتظامیہ زورِ بازو پر انہیں خیموں میں منتقل کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایسا کیا گیا تو وہ مرنے کے لیے تیار ہیں لیکن فلیٹس نہیں چھوڑیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ موسم سرما کے صرف چار ماہ انہیں یہاں رہنے دیا جائے اور بعد میں وہ واپس اپنے آبائی گاؤں میں چلے جائیں گے اور وہ لکھ کر دینے کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ متعلقہ فلیٹس کے چھ بلاک ہیں۔ ہر بلاک میں چوبیس فلیٹس ہیں اور ہر فلیٹ میں تین کمرے ہیں۔ متاثرین کے مطابق ان کے ساتھ کئی زخمی بھی ہیں اور ایک کمرے میں چھ سے آٹھ افراد رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد