BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 October, 2005, 16:27 GMT 21:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کچھ جگہ امداد اب پہچائی جارہی ہے‘
پاکستانی وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری
نیٹو کے فوجی پاکستان کے فیڈرل ریلیف کمیشن کے تحت کام کریں گے

پاکستانی وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ یہ درست ہے کہ کچھ علاقوں اور لوگوں تک امداد نہیں پہنچی ہے اور اب خچروں اور پیدل فوجیوں کے ذریعے پہچائی جا رہی ہے۔

خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ عالمی برادری نے اس تباہ کن زلزلے کے بعد جس طرح پاکستان کی امداد میں تیزی دکھائی ہے ہم اس کے لیے ہم اس کے مشکور ہیں کیونکہ زلزلے سے ہونے والی تباہی جس قدر وسیع اور ہلاکت خیز تھی پاکستان تو کیا، کسی بھی ملک میں ہوتی تو وہ تنہا اس کا مقابلہ نہ کر سکتا۔اسی لیے صدر مشرف نے چھ گھنٹے کے اندر اندر عالمی برادری سے امداد کی اپیل کر دی تھی۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس میں اقوام متحدہ نے بھی ہماری مدد کی ہے اور اسی کے کہنے پر نیٹو نے اب ہماری مدد کر رہا ہے اور اس کی ایک انجینئرنگ بٹالین ان سڑکوں کو بنانے میں ہماری مدد کرے گی جو نہ صرف ٹوٹی پھوٹی ہیں بلکہ کہیں کہیں تو بالکل ختم ہی ہو گئی ہیں۔

خورشید قصوری کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج بھی ان سڑکوں کو بنا سکتی تھی لیکن اصل مسئلہ وقت کا ہے۔ سرما اور برفباری کا موسم شروع ہونے والا ہے اوراس سے پہلے یہ راستے کھولنے ہیں۔

نیٹو کے فوجی اس میں پاکستان کی مدد کریں گے اور اس کے علاوہ اقوام متحدہ کا امدادی سامان بھی پاکستان پہچائیں گے۔

انہوں نے امداد کےناکافی ہونے کے بارے میں صدر مشرف کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان کو تباہی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ تباہی کتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو کے فوجی پاکستان کے فیڈرل ریلیف کمیشن کے تحت کام کریں گے اور جہاں ضرورت ہو گی وہاں کام کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ جو اوپر پہاڑوں پر ہیں اور ان کے آٹھ آٹھ دس گھروں پر مشتمل گاؤں ہیں ان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نیچے آ جائیں لیکن وہ نیچے آنے سے کترا رہے ہیں۔

اس لیے بہت سے لوگوں تک امداد نہ پہنچنے کے بارے میں جو کہا جا رہا ہے وہ درست ہے اور اب فوج کے جوان امدادی سامان خچروں کے ذریعے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر ان مقامات تک پہنچا رہے ہیں جہاں ایک ایک اور دو دو گھر ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ نیٹو کے فوجی کس کی کمان میں کام کریں گے؟ وزیرخارجہ نے کہا ’پانچ سو سے ایک ہزار کے قریب آدمی ہیں اس میں کیا ہے، جنرل فاروق، ریلیف کمشنر جہاں کہیں گے کام کریں گے۔ یہ مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان کی اپنی ساڑھے پانچ لاکھ آرمی ہے تو کمانڈ کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے، وہ وہاں جائیں گے جہاں ان سے کہا جائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ان کی سکیورٹی کے تحفظات بھی ہوں گے اور انہیں بتایا جائے گا کہ کہاں کہاں ان کی ضرورت ہے اور زیادہ ضرورت اس وقت اس بات کی ہے کہ جہاں راستے بند ہیں، وہ وہاں کام کریں گے لیکن ان کی منشا بھی پوچھی جائے گی لیکن یہ نہیں ہو گا کہ وہ فیصل آباد میں جا کر کام شروع کر دیں گے‘۔

انہوں بتایا کہ اس وقت چار ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کا اشارہ دیا گیا ہے لیکن ان کی دوسری فضائی امداد جاری ہے یعنی ان کے طیارے سامان لا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد