BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 October, 2005, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اتنےخیمے کہاں سے آئیں گے؟
ٹینٹ فیکٹری
فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدورو اور کارندے خود متاثرین میں شامل ہیں
اب جبکہ لگتا ہے کہ زلزلے کے لاکھوں متاثرین یہ موسم سرما خیموں میں گزارنے پر مجبور ہوں گے جن چند عناصر کو اس سے فائدہ ہوگا ان میں سے ایک خیمے بنانے والی صنعت ہے۔ پاکستان کی ٹینٹ انڈسٹری جو کہ دنیا میں اس نوعیت کی سب سے بڑی صنعت ہے اس سال اپنے وہم گمان سے بھی زیادہ کاروبار کر رہی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاکستانی حکومت نے خیموں کی برآمد پر پابندی اور اپنے حریف بھارت سے خیمے خریدنے کی غرض سے فوری طور پر انتہائی اقدامات کر لیے ہیں تاکہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے متاثر ہونے والوں میں اموات کی دوسری لہر کو روکا جا سکے۔

یہ اقدامات اپنی جگہ لیکن کئی لوگوں کا خیال ہے کہ چاہے خیمے بنانے والی فیکٹریاں اپنے اوقات کار میں گھنٹوں کا اضافہ کر لیں پھر بھی اتنے خیمے نہیں بنائے جا سکتے جتنی ضرورت ہے۔

اے ایف پی کے مطابق کراچی میں قائم خیمے بنانے کی ایک بڑی کمپنی ایچ نظام الدین اینڈ سنز کو اس ماہ کے آخر تک تیس ہزار خیمے بنانے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس کے بعد ان کے پاس مزید پیداوار کی سکت نہیں ہو گی۔

کمپنی کے مینیجر محمد صدیق کے بقول یہ آرڈر مکمل کرنے کے لیےان پر شدید دباؤ ہے اور انہوں نے نومبر تک مزید آرڈر لینے سے انکار کر دیا ہے۔ان کی فیکٹری میں بنیانیں پہنے ہوئے کارندے سلائی میں دھڑا دھڑ مصروف ہیں اور روزانہ سیکڑوں خیمے بنا رہے ہیں لیکن محمد صدیق کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان کی وجہ سے کام کی رفتار میں قدرے کمی ہوئی ہے۔

’عام حالات میں ہم ایک ہزار یومیہ سے زیادہ خیمے بنا سکتے ہیں لیکن رمضان کے دوران نہیں کیونکہ رمضان میں ہم کارندوں سے زیادہ کام نہیں لے سکتے۔‘

اقتصادی اصول
 اقتصادیات کے ظالمانہ اصول کے حوالے سے دیکھا جائے تو لگتاہے کہ خیمہ بنانے والی کمپنیاں اس سانحے سے منافع کما رہی ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے تیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں لیکن خیموں کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے حکومت اس بات کا وعدہ کرنے سے گریز کر رہی ہے کہ مو سم سرما میں وہ تمام بے گھر لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ فراہم کر دے گی۔

اے ایف پی نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں قائم اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے مرکز کے اینڈریو میکلیوڈ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ دنیا بھر کے خیمے بنانے والے اس انسانی سانحے سے پیدا ہونے والی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتے۔

اگر اس معاملے کو اقتصادیات کے ظالمانہ اصول یعنی جب طلب بڑھتی ہے تو قیمت بھی بڑھتی ہے، کے حوالے سے دیکھا جائے تو لگتاہے کہ خیمہ بنانے والی کمپنیاں اس سانحے سے منافع کما رہی ہیں۔

خیمے بنانے والی ایک دوسری کمپنی شمسی پاکستان کے مالک سلطان شمسی کا کہنا ہے کہ خیمے سپلائی کرنے والوں نے اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔

ان کے مطابق ’ خیمے بنانے کے لیے خام مال، جیسے پائپ اور ریشے سپلائی کرنے والوں نے، اپنی قیمتوں میں بہ تحاشا اضافہ کر دیا ہے۔ ایک خیمے کی اوسط لاگت تین ہزار روپے سے بڑھ کر ساڑھے پانچ ہزار روپے ہو چکی ہے۔‘

سلطان شمسی کے پاس پچیس ہزار خیمے تیار کرنے کا آرڈر ہے لیکن انہیں خدشہ ہے کہ خام مال میں کمی کی وجہ سے شاید وہ یہ آرڈر پورا نہ کر سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد خیموں کی مانگ میں اضافہ 1980 کے عشرے میں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد کے وقت سے کہیں زیادہ ہے۔

اے ایف پی کے مطابق متاثرین کی امداد کے لیے قائم کیے جانے والے وفاقی ریلیف کمیشن کے سربراہ میجر جنرل فاروق احمد خان نے کہا کہ اگر پاکستان اپنے تمام خیمے متاثرین کے لیے مختص کر دے تو تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ ان میں سے کئی خیمے متاثرہ علاقوں کی موسمی ضروریات کو ہی پورا نہیں کرتے۔

آج کل پاکستان میں خیمہ بنانے والی کپمنیوں کی مجموعی یومیہ پیداوار تیس ہزار خیمے ہے۔
شباب احمد

اس بات کی تصدیق نیشنل ٹینٹ کمپنی کے مالک شباب احمد بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بنائے جانے والے زیادہ تر خیمے خلیجی ریاستوں یا اقوام متحدہ کے امدادی کاموں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

شباب احمد کے مطابق آج کل پاکستان میں خیمہ بنانے والی کپمنیوں کی مجموعی یومیہ پیداوار تیس ہزار خیمے ہے حالانکہ عام حالات میں یہ تین ہزار سے پانچ ہزار خیمے ہوتی ہے۔

زلزلہ زدگان کے لیے خیمے تیار کرنے کی ضرورت کا ایک عجیب پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور اور کارندے خود اس زلزلے کے متاثرین میں شامل ہیں۔

فیکٹریوں کے مالکان کے مطابق اُنہیں صحیح تعداد تو معلوم نہیں لیکن اس صنعت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کارندوں کا تعلق زلزلے سے متاثر ہونے والے پسماندہ علاقوں سے ہے جہاں سے یہ لوگ بہتر روزگار کے لیے شہروں میں کام کر رہے تھے۔ اب یہ لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔

کراچی کی ایک ٹینٹ فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور رحیم پٹھان نے کہا کہ اُس کا خیال ہے کہ آجکل وہ صرف اپنے جیسے غریب لوگوں کے لیے کام کر رہا ہے۔

 ہم جتنی محنت بھی کر لیں ہم ان کی خیموں کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکیں گے۔
رحیم پٹھان
لیکن اس کے باوجود رحیم خان بھی زیادہ پر امید نہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ’ہمیں پتا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق ہمارے طبقے سے ہے لیکن ہم جتنی محنت بھی کر لیں ہم ان کی خیموں کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکیں گے۔‘

اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کے مطابق زلزلے کے بعد کچھ دوسرے ممالک مثلاً چین نے بھی خیموں کی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے تاہم اس کے باوجود وہ لوگ جو بے گھر افراد کو بسانے کے کام میں عملی طور پر شامل ہیں انہیں خدشہ ہے کہ وہ خیموں کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کر پائیں گے۔

متاثرین کی مدد کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے ناظم حاجی کے مطابق’خیمہ بنانے کی صنعت کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خیموں کی مانگ میں اس قدر اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

ناظم حاجی کے مطابق انہوں نے نظام الدین اینڈ سنز سمیت کئی فیکٹریوں سے تین ہزار خیمے بنوانے کے لیے رابطہ کیا لیکن ان سب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان کے پاس بہت زیادہ آرڈر آئے ہوئے ہیں۔‘

اسی بارے میں
خیموں کی برآمد پر پابندی
18 October, 2005 | پاکستان
’خدا کے واسطے خیمے لاؤ‘
12 October, 2005 | پاکستان
شدید موسم، لاعلاج زخمی
17 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد