’امریکہ 25 اور ہیلی کاپٹر بھیجے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جان بی ابی زید نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کو زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے مزید پچیس بھاری فضائی امداد پہنچانے والے ہیلی کاپٹر دے گا اور اس کے علاوہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں طبی امداد اور سڑکوں کی بحالی کے لیے انجینیئرنگ کے شعبے میں بھی امداد فراہم کی جائے گی۔ چکلالہ ائر بیس پر زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے فضائی دورے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور اس سانحے سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکام کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔ جنرل ابی زید نے کہا کہ افغانستان میں بگرام ائر بیس پر گیارہ چنوک ہیلی کاپٹرز تیار کیے جا رہے ہیں جو ایک دو روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔ جنرل ابی زید کا کہنا تھاکہ پاکستان میں زلزلے کے بعد امریکہ کی طرف سے دی جانے والی امداد امریکہ کا اصل چہرہ ہےاور سب کو اس چہرے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ محاذ جنگ میں غلطیاں ہو جاتی ہیں مگر امریکہ پاکستان میں مدد کرنے آیا ہے اور یہ مدد جنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ یہاں لوگوں کو اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے اس آفت سے نمٹنے کے لیے بھرپور قابلیت کا مظاہرہ کیا ہے تاہم جنرل ابی زید نے کہا کہ اس سانحے سے نمٹنے کے لیے ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی پاکستان کو مدد ایک دوست کو مدد دینے کے مترادف ہے۔ اس سوال پر کہ کیا امریکہ پاکستان کو اس سانحے سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی مدد دے گا ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس خطے میں لوگوں کے خلاف نہیں ہے۔ اس سوال پر کہ کیا امریکہ اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے فراہم کی گئی مدد کافی ہے انہوں نے کہا کہ مدد فراہم کی جارہی ہے مگر سانحے سے متاثرہ افراد کے لیے طویل المدتی امداد چاہیے ہو گی اور امریکہ اس سلسلے میں تمام ممکنہ مدد فراہم کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||