BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 October, 2005, 04:08 GMT 09:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہمیں امداد چاہیے، جہاں سے بھی آئے
مظفرآباد میں خوارک اور ہنگامی امداد کا انتظار کرنے والوں کی لمبی قطاریں نظر آتی ہے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے وادیِ نیلم کو جانے والی سڑکیں اب بھی بند ہیں۔

پاکستانی فوج ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان علاقوں میں خوراک، ٹینٹ اور ادویات پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے مگر زلزلے کی وجہ سے جس نوعیت کی تباہی آئی ہے اس کے سامنے امداد ناکافی ہے۔

وادیِ نیلم کے گاؤں کٹھہ چوگلی کے رہائشی راجہ ضمیر دو دن تک پیدل سفر کر کے مظفرآباد پہنچے ہیں اور انہوں نے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی کو گاؤں کے حالات کچھ یوں بیان کیے ہیں:

’وہاں پر مکانات مکمل طور پر گر گئے ہیں اور ہم کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔ ٹینٹ وغیرہ نہیں مل رہے اور نہ ہح خوراک کا کوئی بندوبست ہو پایا ہے۔‘

’جس دن زلزلہ آیا اس دن ہمارے گاؤں سے ساڑھے تین سو جنازے اٹھے جبکہ زخمیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا۔‘

’ہمیں امداد کچھ نہیں مل رہی۔ ایک دن گاؤں میں فوج کا ہیلی کاپٹر گیا تھا وہ بھی اپنے فوجی زخمیوں کے لے کر واپس آ گیا۔ سویلین زخمیوں کو کسی نہیں پوچھا۔‘

’ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ جو زلزلے سے زندہ بچ گئے تھے وہ بھوک سے مر رہے ہیں۔ ہر دن دو تین جنازے اٹھ رہے ہیں۔‘

’ہمیں امداد چاہیے چاہے پاک فوج دے یا ہندوستان کی طرف سے آئے۔ ہمیں کھانے کے لیے کچھ چاہیے چاہے مظفرآباد سے جائے یا اٹھ مقام سے ہم تک پہنچایا جائے۔‘

اسی بارے میں
اتنےخیمے کہاں سے آئیں گے؟
23 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد