ہمیں امداد چاہیے، جہاں سے بھی آئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے وادیِ نیلم کو جانے والی سڑکیں اب بھی بند ہیں۔ پاکستانی فوج ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان علاقوں میں خوراک، ٹینٹ اور ادویات پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے مگر زلزلے کی وجہ سے جس نوعیت کی تباہی آئی ہے اس کے سامنے امداد ناکافی ہے۔ وادیِ نیلم کے گاؤں کٹھہ چوگلی کے رہائشی راجہ ضمیر دو دن تک پیدل سفر کر کے مظفرآباد پہنچے ہیں اور انہوں نے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی کو گاؤں کے حالات کچھ یوں بیان کیے ہیں: ’وہاں پر مکانات مکمل طور پر گر گئے ہیں اور ہم کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔ ٹینٹ وغیرہ نہیں مل رہے اور نہ ہح خوراک کا کوئی بندوبست ہو پایا ہے۔‘ ’جس دن زلزلہ آیا اس دن ہمارے گاؤں سے ساڑھے تین سو جنازے اٹھے جبکہ زخمیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا۔‘ ’ہمیں امداد کچھ نہیں مل رہی۔ ایک دن گاؤں میں فوج کا ہیلی کاپٹر گیا تھا وہ بھی اپنے فوجی زخمیوں کے لے کر واپس آ گیا۔ سویلین زخمیوں کو کسی نہیں پوچھا۔‘ ’ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ جو زلزلے سے زندہ بچ گئے تھے وہ بھوک سے مر رہے ہیں۔ ہر دن دو تین جنازے اٹھ رہے ہیں۔‘ ’ہمیں امداد چاہیے چاہے پاک فوج دے یا ہندوستان کی طرف سے آئے۔ ہمیں کھانے کے لیے کچھ چاہیے چاہے مظفرآباد سے جائے یا اٹھ مقام سے ہم تک پہنچایا جائے۔‘ | اسی بارے میں پاکستان: زلزلوں کے مزید جھٹکے23 October, 2005 | پاکستان ہر پانچ میں سے دو مکان تباہ: حکام23 October, 2005 | پاکستان اتنےخیمے کہاں سے آئیں گے؟23 October, 2005 | پاکستان ’مظفر آباد میں 8 لاکھ افراد بےگھر‘23 October, 2005 | پاکستان ’مسلمان متاثرین کی مدد کریں‘23 October, 2005 | پاکستان وادئِ الائی کو خالی کرانے پر غور24 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||