ماہرین ارضیات الائی پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ ضلع بٹ گرام میں حکام کا کہنا ہے کہ تحصیل الائی کے پہاڑوں کا جائزہ لینے کے لیے دو ماہرینِ ارضیات پر مشتمل ٹیم علاقے میں پہنچ گئی ہے اور اس نے کام شروع کر دیا ہے۔ وادی الائی کے رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے قریبی پہاڑوں سے دھواں اور شعلے نکلتے دیکھے ہیں۔ تاہم اس علاقے کے اوپر پرواز کرنے والے فوجی ہیلی کاپٹروں میں سوار افراد نے ایسے کسی بھی منظر کے نظر آنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اگر ماہرینِ ارضیات اس بات کی تصدیق کر دیتے ہیں کہ الائی کے پہاڑوں میں ’آتش فشانی کیفیت‘ موجود ہے تو اس علاقے میں موجود ایک لاکھ پچاس ہزار افراد کو یہ علاقہ چھوڑنا پڑے گا اور موجودہ حالات میں جبکہ اس علاقے تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیلی کاپٹر ہے ، ان افراد کا انخلاء ایک بڑا مسئلہ ثابت ہو گا۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ ابھی تک آتش فشانی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں تاہم وہ ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے سے لوگوں کے انخلا سے متعلق فیصلہ ماہرین کی ٹیم کی رپورٹ کے نتیجے میں کیا جائے گا۔ مقامی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہیلی کاپٹر میں علاقے کا فضائی جائزہ لیا ہے تاہم انہیں کسی آتش فشانی کے آثار نہیں ملے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین کے مسلسل کٹاؤ سے اٹھنے والے دھوئیں کو لوگ آگ کا دھواں تصور کر رہے ہیں جبکہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر دیکھی جانے والی آگ وہاں موجود متاثرین کی جانب سے جلائی جانے والی آگ ہوسکتی ہے۔ سب سے زیادہ تشویش لوگوں کو چیل نامی پہاڑ کی وجہ سے ہے اور اس پہاڑ سے اٹھنے والے دھوئیں نےان کی تشویش میں کافی اضافہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں میں اب بھی زلزلے کے حوالے سے خاصا خوف ہراس پایا جاتا ہے اور پیر کی شام اورمنگل کو سحری کے وقت علاقے میں ایک مرتبہ پھر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ | اسی بارے میں بٹگرام: ’وادی الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘24 October, 2005 | پاکستان بٹگرام: الائی میں سردی اور پتھر لگنے سے ہلاکتیں25 October, 2005 | پاکستان الائی میں بھی لوگ حکومت پر برہم19 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||