ایڈز سے ڈیڑھ کرورڑ بچے یتیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونیسیف نے "یونایٹ فار چلڈرن " کے نام سے ایڈز کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کی ہے جس کے تحت ماؤں سے بچوں کو لگنے والی اس بیماری پر قابو پانے پر توجہ مرکوز کی جائیگی ۔ ادارے کے مطابق اس وقت ایڈز سے متاثر بچوں میں سے صرف پانچ فیصد کو طبی امداد ملتی ہے۔ یونسیف کی اس نئی مہم کا بڑی شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا ۔حال ہی میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جنوبی افریقہ، کینیا اور یوگنڈا میں تحقیق کے بعد ایک رپورٹ میں کئی حکومتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایسے بچوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام ہوچکیں ہیں جو ایچ آئی وی وائرس یا ایڈز سے متاثر ہیں تاہم لوگوں کو اس بیماری سے متعلق آگاہی بھی نہیں ہیں۔ یونیسیف سے وابستہ جمائما خان کہتی ہیں کہ اس بیماری کو چونکہ معاشرتی سطح پر برا سمجھا جاتا ہے لہذا ان بچوں کوشدید سماجی مسئلہ بھی درپیش ہے۔ جمائما نے کینیا کے ایک بچے کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ "وہ اپنے گھر میں تھا جس پر لوگوں نے پتھراؤ کیا ۔مقامی لوگ سمجھتے ہیں کہ ان پر یہ عذاب ہے ۔میں نے کینیا میں ایک ہسپتال کا دورہ کیا جہاں ایک نرس نے مجھے بتایا کہ ہسپتال کی کھڑکی سے ہر ہفتے ایک عورت خودکشی کرتی ہے جب اسے اپنی بیماری کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ جب حال ایسا ہو تو کیسے ان بچوں کو سنبھالا جاسکتا ہے " اسی وجہ سے یونیسیف نے عالمی سطح پر ایک بڑی مہم کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی تفصیل یونیسیف کے اعلی افسر ڈیوڈ بل نے بی بی سی کو بتائی۔ "یہ بچے ایڈز کے لاپتہ چہرے ہیں۔ہر منٹ کے بعد اس بیماری سے ایک بچہ مر جاتا ہے ۔ڈیڑھ کروڑ بچے پہلے ہی یتیم ہوچکے ہیں۔ ہمیں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان بچوں کی مدد کرنی ہوگی ورنہ یہ تعداد دوگنی بھی ہوسکتی ہے اور اس وقت یالات قابو سے باہر ہوسکتیں ہیں" ابھی تک یہ تحقیق نہیں ہوئی ہے کہ ماں سے بچے کی جانب یہ بیماری کیسے پھلیتی ہے مگر اسکے مزید پھیلاؤ کے لۓ اقدامات کۓ جاسکتیں ہیں جس کے اطلاق میں سیاسی سائنسی اور مالیاتی مسائل آڑے آرہے ہیں گذشتہ اٹھارہ ماہ میں ترقی پزیر ملکوں میں ایڈز کی ادویات میسر ہونے لگیں ہیں مگر بیماری پر قابو پانے میں مزید تحقیق اور فنڈز کی اشد ضرورت ہے |
اسی بارے میں ایڈز اب بھی تیزی سے پھیل رہا ہے 03 June, 2005 | آس پاس 90 ملین افریقی ایڈز کے نشانے پر04 March, 2005 | آس پاس ایڈز کے نئے وائرس کا خوف13 February, 2005 | آس پاس منڈیلا کے بڑے بیٹے انتقال کر گئے06 January, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||