BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 October, 2005, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز سے ڈیڑھ کرورڑ بچے یتیم

ایڈز
ایڈز سے سب سے متاثرین افریقہ میں ہیں۔
یونیسیف نے "یونایٹ فار چلڈرن " کے نام سے ایڈز کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کی ہے جس کے تحت ماؤں سے بچوں کو لگنے والی اس بیماری پر قابو پانے پر توجہ مرکوز کی جائیگی ۔

ادارے کے مطابق اس وقت ایڈز سے متاثر بچوں میں سے صرف پانچ فیصد کو طبی امداد ملتی ہے۔

یونسیف کی اس نئی مہم کا بڑی شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا ۔حال ہی میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جنوبی افریقہ، کینیا اور یوگنڈا میں تحقیق کے بعد ایک رپورٹ میں کئی حکومتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایسے بچوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام ہوچکیں ہیں جو ایچ آئی وی وائرس یا ایڈز سے متاثر ہیں تاہم لوگوں کو اس بیماری سے متعلق آگاہی بھی نہیں ہیں۔

یونیسیف سے وابستہ جمائما خان کہتی ہیں کہ اس بیماری کو چونکہ معاشرتی سطح پر برا سمجھا جاتا ہے لہذا ان بچوں کوشدید سماجی مسئلہ بھی درپیش ہے۔

جمائما نے کینیا کے ایک بچے کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ "وہ اپنے گھر میں تھا جس پر لوگوں نے پتھراؤ کیا ۔مقامی لوگ سمجھتے ہیں کہ ان پر یہ عذاب ہے ۔میں نے کینیا میں ایک ہسپتال کا دورہ کیا جہاں ایک نرس نے مجھے بتایا کہ ہسپتال کی کھڑکی سے ہر ہفتے ایک عورت خودکشی کرتی ہے جب اسے اپنی بیماری کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ جب حال ایسا ہو تو کیسے ان بچوں کو سنبھالا جاسکتا ہے "

اسی وجہ سے یونیسیف نے عالمی سطح پر ایک بڑی مہم کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی تفصیل یونیسیف کے اعلی افسر ڈیوڈ بل نے بی بی سی کو بتائی۔

"یہ بچے ایڈز کے لاپتہ چہرے ہیں۔ہر منٹ کے بعد اس بیماری سے ایک بچہ مر جاتا ہے ۔ڈیڑھ کروڑ بچے پہلے ہی یتیم ہوچکے ہیں۔ ہمیں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان بچوں کی مدد کرنی ہوگی ورنہ یہ تعداد دوگنی بھی ہوسکتی ہے اور اس وقت یالات قابو سے باہر ہوسکتیں ہیں"

ابھی تک یہ تحقیق نہیں ہوئی ہے کہ ماں سے بچے کی جانب یہ بیماری کیسے پھلیتی ہے مگر اسکے مزید پھیلاؤ کے لۓ اقدامات کۓ جاسکتیں ہیں جس کے اطلاق میں سیاسی سائنسی اور مالیاتی مسائل آڑے آرہے ہیں گذشتہ اٹھارہ ماہ میں ترقی پزیر ملکوں میں ایڈز کی ادویات میسر ہونے لگیں ہیں مگر بیماری پر قابو پانے میں مزید تحقیق اور فنڈز کی اشد ضرورت ہے

66ایڈز اب بھی بے قابو
کوفی عنان کہتے ہیں کہ ائڈز کے خلاف کوششیوں اب بھی نا کافی
66دنیا کاتیز ترین مرض
علاج کے مسائل نے ایڈز کو تیز تر مرض بنا دیا ہے۔
66ایڈز کا خطرہ
کوفی عنان کی ایشیائی ممالک کو وارننگ
66ایڈز میں اضافہ
دنیامیں ایڈز کے تین کروڑ اسی لاکھ مریض ہیں
66ایڈز: 25 لاکھ بچے
چار کروڑ بیماروں میں پچیس لاکھ بچے ہیں
اسی بارے میں
ایڈز کے نئے وائرس کا خوف
13 February, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد