BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 June, 2005, 07:48 GMT 12:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز اب بھی تیزی سے پھیل رہا ہے
کوفی عنان
کوفی عنان کہتے ہیں کہ ایڈز بے قابو رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
ایڈز کا مرض اب اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اس کو کنٹرول کرنے کی کوششیں نا کام ہو رہی ہیں۔

یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے جمعرات کے روز امریکی شہر نیو یارک میں ہونے والے ایڈز پر ایک روزہ کانفرنس میں کہی۔

کوفی عنان نے کانفرنس کو بتایا کہ پچھلے سال ایڈز سے اموات اور ایڈز کے نئے متاثرین کی تعداد ماضی سے کہیں زیادہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں صرف بارہ فیصد ایڈز کے مریضوں کو انیٹی ریٹرو وائرل ادویات مل رہی ہیں۔

سن دو ہزار ایک میں اقوام متحدہ نے سن دو ہزار پندرہ کا ہدف مقرر کیا تھا کہ اس سال تک دنیا میں ایڈز کے پھیلاؤ کو بالکل روک دیا جائے۔ تاہم اس سلسلے میں جمعرات کو کوفی عنان نے کہا کہ اس کے لیے نہ صرف مزید رقم بلکہ بہتر قیادت بھی درکار ہے۔

مسٹر عنان نے کہا کہ ’ایڈز کے خلاف جنگ ہمارے دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس سے نمٹ کر ہی ہم ایک بہتر، منصفانہ اور صحتیاب عالمی معاشرے کی طرف آگے بڑھ سکیں گے۔‘

جمعرات کو ہونے والی اس کانفرنس میں ایک سو بیس ممالک کے مندوبین شامل تھے۔ کانفرنس کا مقصد اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلق اہداف کا جائزہ لینا تھا ۔

ایڈز سے نمٹنے کی کوششوں میں کوفی عنان نے سب سے زیادہ تعریف برازیل کی کی۔ انہوں نے کہا کہ برازیک کا ایڈز پروگرام دنیا میں سب سے کامیاب رہا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کیمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان میں بھی اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔

کانفرنس کے موقع پر تیار کی گئی رپورٹ میں کوفی عنان نے کہا ہے کہ سن دو ہزار پانچ کا یہ ہدف کہ نوجوانوں میں ایڈز کے پھیلاؤ کو بہت کم کر دیا جائے گا، پورا نہیں ہو سکا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ایڈز کے منصوبوں کے لیے رقم دو ارب سے بڑھ کر آٹھ ارب ہو گئی ہے لیکن یہ بھی کم ہے۔

لیکن بقول اس رپورٹ کے، اُن خواتین میں ستر فیصد اضافہ ہوا ہے جنہیں ایسے پرورگاموں تک رسائی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ ماں سے بچے کو ایچ ائی وی کیسے لگ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان بچوں اور نوجوانوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے جنہوں ایڈز کے بارے میں یعلیم ملی ہو۔

اس سال ستمبر میں عالمی رہنماؤں کا ایک بڑا اجلاس ہوگا جس میں سن دو ہزار پندرہ کے ہدف کا جائزۃ لیا جائے گاگ

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد