’تعداد پرنہیں ایڈز پرتوجہ دیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایچ آئی وی جرثومے سے متاثرہ لوگوں کی تعداد کا تنازعہ اس بیماری کے اصلی مسائل سے توجہ ہٹا رہا ہے۔ ایشیا بحرا لکاہل میں اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر ایڈز کی خصوصی ایلچی ڈاکٹر نفیس صادق نے تعداد پر جاری تنازعہ پر تنقید کی۔ نفیس صادق جمعرات کو نیو یارک میں ہونے والی اہم ایڈز کانفرنس سے پہلے بات چیت کر رہی تھیں۔ اپریل میں ایڈز کے ماہرین نے کہا تھا کہ ایڈز کے معاملے میں بھارت جنوبی افریقہ سے آگے نکل گیا ہے لیکن بھارت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ ایڈز پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلی سطحی اجلاس کے موقع پرڈاکٹر صادق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں ایڈز کےلوگوں کی صحیح تعدا نہیں بتائی جا سکتی کیونکہ جو لوگ اس جرثومے کا شکار ہوتے ہیں ان میں سے اکثر لوگ یا تو لاپرواہی یا پھر خوف کے سبب ٹیسٹ کے لئے سامنے نہیں آتے۔ اس اجلاس میں 124 ممالک کے وزراء صحت اور افسران شرکت کریں گے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے ایڈز کے مطابق بھارت میں اکاون لاکھ بالغ اور بچے ایچ آئی وی جرثومے کا شکار ہیں۔اور ایڈز کے معاملے میں بھارت کو جنوبی افریقہ کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ لیکن اپریل میں ایڈز کے سینئیر ماہر رچرڈ فیچم نے کہا کہ بھارت ایڈز کے معاملے میں جنوبی افریقہ سے آگے نکل گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے بارے میں بھارت کے سرکاری اعدادوشمار غلط ہیں اور ملک میں ایڈز کی وباء قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ سی آئی اے نے پیشن گوئی کی ہے کہ 2010 تک بھارت میں ایڈز یا ایچ آئی وی کے شکار لوگوں کی تعداد 20 ملین تک پہنچ جائے گی۔ ڈاکٹر صادق کا کہنا ہے کہ چاہے یہ تعداد اکاون لاکھ ہو یا پھر پینتالیس لاکھ ہواصل مسئلہ یہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کی کچھ ریاستوں میں ایچ آئی وی عام لوگوں میں پھیلا ہوا ہے اور اگر اس سلسلے میں سخت اقدامات نہیں کئے گئے تو یہ ایک وباء کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر صادق کے مطابق سب سے اہم اور سنگین مسئلہ اب بھی اس مرض کے شکار لوگوں کی جانب سے اس کی تردید اور اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرنا ہے، متاثرہ لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک ہے اور دیگر اہم سہولیات کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا ان مسائل سے نبٹنے کے لیے پوری آبادی میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے کہ وہ اپنی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر کی حکومتیں اس بیماری کے سلسلے میں اب حقیقت پسند ہو رہی ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس سال ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والوں کی تعدا اٹھائیس ہزار ہے جبکہ 2003 اور 2004 میں یہ تعداد پانچ لاکھ بیس ہزار تھی۔ محکمہ صحت کے افسران کا کہنا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں میں بیداری کے پروگرام کس حد تک کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایڈز کے خلاف مہم چلانے والوں نے ان اعدادو شمار کو مسترد کر دیا ہے اور وزیر سائینس کپل سبل نے تسلیم کیا ہے کہ ہو سکتا ہے اس میں کچھ غلطی ہوئی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||