ہم جنس پرستوں کی درخواست مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی دہلی ہائی کورٹ نے ہم جنسی پرستی کو قانونی تحفظ دینے کے بارے میں ایک قانونی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ اس قانونی درخواست میں ان قوانین کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی جن کے تحت ہم جنس پرستی کو ایک غیر فطری اور مجرمانہ رویہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک رضاکارانہ تنظم ناز فاونڈیشن کی طرف سے دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ اکیسویں صدی کے بھارت میں ہم جنس پرستی کو قابل تعزیر سزا ہونا غلط ہے۔ ناز فاونڈیشن بھارت میں ایڈز کے خلاف کام کرتی ہے۔ اس درخواست کی الزام عائد کیا گیا تھا کہ پولیس ان قانونیں کا سہارا لے کر ہم جنس پرستوں کو ہراساں کرتی ہے۔ سرکاری وکیلوں نے اس درخواست کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم جنس پرستی کو بھارت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا کیوں کے معاشرہ میں اس کے خلاف شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ حکومت کے وکیلوں نے مزید کہا کہ ان قوانین کو ختم کیے جانے سے ملکوں میں غیر اخلاقی اقدار کو رواج حاصل ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||