بھارت میں ’ایڈز‘ پر کام کا عزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے اعلان کیا ہے کہ ایڈز اور ایچ آئی وی پر قابو پانے کے لیے ان کی تنظیم آئندہ برس ڈیڑھ لاکھ غیر سرکاری بھارتی ڈاکٹروں کو تربیت دے گی۔ ایڈز کی بیماری پر قابو پانے کے لیے اور لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ان کی تنظیم پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہے۔ بھارت میں ایڈز پر قابو پانے کے لیے بنائی گئی قومی تنظیم ’ناکو‘ اور ’ کلنٹن فاؤنڈیشن ایچ آئی وی ‘ انیشی یٹو( سی ایچ اے آئی) ایک ساتھ مل کر ان ڈاکٹروں کی تریبت کی ذمہ داری اٹھائیں گی۔ سی ایچ آے آئی نے پوری دنیا میں سات لاکھ ڈاکٹروں کی تریبت کا بیڑہ اٹھایا ہے جس میں اب اس میں ڈیڑھ لاکھ بھارتی ڈاکٹر بھی شامل ہوں گے۔ کلنٹن نے ایڈز جیسی جان لیوا بیماری سے لڑنے کے کہا کہ خاص توجہ دو پہلوؤں پر دی جانی چاہیئے ۔اس میں سب سے پہلے بمیاری سے نمٹنے کے لیے عام لوگوں کو دوائیاں سستی اور آسانی سے فراہم کی جائیں اور دوسرا علاج کے لیے مناسب طبی مراکز بنائے جائيں۔ کلنٹن نے بھارتی حکومت اور ادویات بنانے والی کمپنیوں کے کام کی ستائش کی لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے بھارت میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے پر پریشانی کا اظہار بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا یوں تو بھارت میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد جنوبی افریقہ سے کم ہے لیکن اس کے باوجود یہاں تیز رفتار ترقی ، بڑھتی آبادی اور عام لوگوں کے رہن سہن کے طریقے کے سبب متعدد بیماریوں کے پھیلنے کا اندیشہ زیادہ ہے۔ حال ہی میں حکومت نے سال 2004 کے لئے ایڈز سے متاثر افراد کی ایک رپورٹ جاری کی تھی ۔ اس رپورٹ کے مطابق سن 2004 میں بھارت میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ بیس ہزار تھی۔لیکن کئی غیر سرکاری تنظیموں نے ان اعدادشمار کو غلط قرار دیاہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ نتیجہ جن بنیادوں پر نکالا گیا ہے وہ غلط ہے۔ کلنٹن بدھ کے روز بھارت آئے تھے اور کل صبح وہ سونامی سے متاثر علاقوں کا دورہ کرنے جنوبی بھارت کے شہر ’ ناگا پٹنم ‘ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔اس کے بعد وہ سری لنکا ، مالدیپ اور انڈونیشا کا بھی دورہ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||