BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 May, 2005, 20:11 GMT 01:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز:متاثرہ لوگوں کے لیے میرج بیورو

کملیش اور نمشا
ایڈز سے متاثر ہونے والے جوڑا ہنسی خوشی زندگی گذار رہے ہیں۔
رسک بھائی کہتے ہیں کہ میں یہاں اس لیے آیا ہوں کیونکہ مجھے شادی کرنی ہے اور میں ایچ آئی سے متاثر ہوں۔

جواب میں دکشاپٹیل مسکراتی ہوئی کہتی ہیں '' ہم ایک میرج بیورو تو چلاتے ہیں لیکن شادی کے لیے آپکو اپنے خاندان اور اپنے متعلق تفصیلی تفصیلات فراہم کرنی ہوں ہوگی''۔

گجرات کے شہر سورت میں دکشا پٹیل نامی اس خاتون کا یہ روز کا معمول ہے۔ وہ ایڈز سے متاثرہ افراد کے لیے میرج بیورو یعنی تلاش رشتہ کا دفتر چلا رہی ہیں۔

سورت میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا اور شاید ملک کا واحد میرج بیورو ہے جو ایڈز میں مبتلا افراد کی شادی کے لیے رشتے تلاش کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اسکا تعلق ایڈز کی ایک غیر سرکاری تنظیم سے ہے۔ اس کے زریعے اب تک ایڈز میں مبتلا سات جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ چکے ہیں۔

رسک بھائی انہیں میں سے ایک ہیں جنہیں اپنےجیون ساتھی کی تلاش ہے۔ لیکن انہیں بیورو کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کا خیال کیسے رکھیں گے۔

دکشا پوچھتی ہیں'' آپ کی آمدنی کتنی ہے؟ راسک۔۔۔ ہر ماہ تین ہزارروپے کما لیتاہوں ۔ دکشا مزید معلومات کے لیے کہتی ہیں آخر وہ دونوں میاں بیوی ایچ آئی وی سے متاثر ہیں اور ممکن ہے کہ دواؤں کے سہارے ہی انہیں جینا پڑے تو کیا وہ اس آمدنی سے دواؤں کا انتظام کرسکتے ہیں۔

تلاش رشتہ کا یہ دفتر ایک کمرے پر مشتمل ہے اور یہاں دن بھر ایسے لوگوں کی آمد ورفت جاری رہتی ہے۔جہاں ایک شخص یہ مطالبہ کرہا ہوتا ہے کہ دلہن اسکی برادری کی ہو تو دوسرے کو یہ سن کر مایوسی ہوتی ہے کہ اسکے قد کے برابر کی لڑکی نے ابھی تک بیورو میں اپنا نام درج نہیں کروایا ہے۔ میں نے دکشا سے پوچھا کہ آخر انکے ذہن اس بیورو کا خیال کیسے آیا ؟

دکشا نے بتایا کہ وہ ایڈز سے متاثرہ افراد کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ کام کرہی تھی۔ اس دوران ایڈز کے وائرس سے متاثر اکثر مرد وخواتین یہی سوال کرتے تھے کہ کیا وہ شادی کر سکتے ہیں۔

ان پر خاندان اور سماج کی طرف سے شادی کا کافی دباؤ بھی تھا۔ خود مجھے شادی کے بعدپتہ چلا کہ میں ایڈز میں مبتلا ہوں۔ لیکن اپنے شوہر کے ساتھ خوشی سے رہ رہی ہوں تو آخر یہ لوگ کیوں نہیں رہ سکتے۔ تبھی میرے ذہن میں یہ خیال آیا ۔

گزشتہ چند ماہ میں میرج بیورو میں نام درج کروانے والوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

سورت ہیروں کی پالش کے لیے مشہور ہے۔ اس شہر میں باہری مزدوروں کی تعداد کافی ہے اور حال ہی میں ایک جائزے کے مطابق ڈھائی ہزار سے زیادہ لوگ ایڈز میں مبتلا ہیں۔

ہیروں کی پالش کرنے والے ایک مزدور کملیش نے اسی بیورو کی مدد سے شادی کی تھی۔ وہ کہتے ہیں'' میں شادی کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن گھروالوں کا کافی دباؤ تھا‘۔

میں نے اپنی بیوی کو شادی سے قبل کئی بار دیکھا تھا اور دکشا نے مجھ سے کئی بار شادی کے لیے کہا بھی تھا۔لیکن میں انکار کرتا رہا۔ لیکن گزشتہ نومبر میں ہم دونوں کئی بار ملے اور پھر شادی کرنے کا فیصلہ کیا‘

کملیش کی بیوی نمشا کے پہلے شوہر کو جب پتہ چلا کہ اسے ایڈز ہے تو شوہر نے اسے چھوڑ دیا تھا ۔اس میر ج بیورو کا پتہ اسے اسکے ڈاکٹر سے چلا تھا جہاں وہ علاج کے لیے جاتی تھی۔

وہ کہتی ہیں '' جب مجھے پتہ چلا تو میں شادی کے لیے بیورو آئي۔ مجھے کسی خوبرو یا دولت مند آدمی کی نہیں بلکہ ایک ایسے شوہر کی تلاش تھی جو کھانہ کھلا سکے'' ۔ نمشا کی کھلکھلاہٹ بتاتی تھی کہ اسکی مراد پوری ہوگئی ہے۔

بیورو کی ایک مشکل یہ ہے کہ وہاں مردوں کے مقابلے خواتین نے نام کام درج کروائے ہیں۔ فی الوقت سترہ لوگوں میں سے صرف آٹھ خواتین ہیں۔ سماج میں ایڈز کے مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک عام بات ہے اور ایسے میں خواتین کا کھل کر سامنے آنا آسان نہیں ہے۔ لیکن جو آتی ہیں دکشا انہیں حوصلہ دیتی ہیں۔

ہندوستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جہاں حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں ایڈز جیسی مہلک بیماری سے نمٹنے کے لیے ہر روز نئی نئی حکمت عملی پر غور کرہی ہیں وہیں بعض ماہرین کے مطابق اس طرح کے میرج بیورو ایک مناسب قدم ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد