بھارت میں ایڈز کی مریضہ کا قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات پولیس ایڈز میں مبتلا ایک عورت کے قتل کے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ دوروز قبل اس کے خاندان کے کچھ افراد نے ہی اسے قتل کردیا تھا۔ ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اس خاتون کا سماجی بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ گجرات کے ولساد ضلع کے دھرسانہ گاؤں میں سمترا نامی خاتون کے قتل سے خوف ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے اس انکشاف کے بعد کہ سمترا کو ایڈز ہے سبھی نے اس کا سماجی بائیکاٹ کردیا تھا اور وہ مجبوراً گاؤں سے بار ایک جھونپڑی میں رہنے لگیں تھی۔ لوگوں کو یہ بھی نہیں پسند تھا کہ وہ کبھی کبھار اپنے گھر آۓ جاۓ۔ اطلاعات کے مطابق دوروز قبل سمترا اپنے والد کے گھر آئی تھی اور اپنے چچیرے بھائیوں و بھتیجوں سے گفتگو کی تھی۔ اسکے چچا کو یہ بالکل پسند نہیں آیا اور اس نے سمترا کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ پولیس نے اس کی لاش اسی جھونپڑی سے برآمد کی ہے اور قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ سمترا کے والد ہری پٹیل نے اپنی بیٹی کے قتل کا الزام اپنے چھوٹے بھائي اور بھتیجے پر لگایا ہے۔ ہری پٹیل کے مطابق اسکا بھائی اکثر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔ تقریباً دو برس قبل سمترا کے شوہر کو ڈاکٹروں نے ایچ آئی وی وائرس سے متاثر بتایا تھا۔ اسی وجہ سے سمترا نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور اپنے والد کے ساتھ رہتی تھی۔اسکے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے۔گزشتہ برس اسے بھی ایچ آئی وی پوزیٹیو پایا گیا تھا۔ تبھی سے وہ گاؤں کے باہر رہتی تھی۔ ایڈز کے مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کی یہ ایک بدترین مثال ہے۔ اسکے خلاف مہم بھی جاری ہے۔ لیکن غلط فہمیوں کے سبب بہت سے لوگ ایڈز سے متاثرہ افراد کو ایک لعنت سے کم نہیں سمجھتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||