ایڈز ’کنٹرول سے باہر‘ بھارتی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ایڈز کنٹرول کرنے والے سب سے اعلیٰ ادارے اس بات کی تردید کی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ایڈز کے مریض بھارت میں ہیں۔ بھارتی نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کے سربراہ ایس وائی قریشی نے گلوبل فنڈ ٹو فائٹ ایڈز کی وارننگ کو لغو قرار دیا ہے۔ گلوبل فنڈ ٹو فائٹ ایڈز‘(Global Fund to Fight Aids) نامی تنظیم کے ڈائریکٹر رچرڈ فیچم نے کہا کہ بھارت میں ایڈز تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔ گلوبل فنڈ ٹو فائٹ ایڈز کےڈائریکٹر رچرڈ فیچم نے کہا کہ بھارت نے جنوبی افریقہ کی جگہ لے لی ہے جسے دنیا میں سب سے زیادہ ایڈز کے مریضوں والا ملک کہا جاتا ہے۔ ایس وائی قریشی نے کہا کہ ان کا ادارہ ایڈز کے بارے حکومتی اعداد شمار جس کے مطابق ملک میں اکاون لاکھ لوگ ایڈز سے متاثر ہیں، کو سچ مانتی ہے۔ یہ تنظیم سنہ دو ہزار ایک میں دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک کی تنظیم جی ایٹ نے بنائی تھی۔ اس کا مقصد ملیریا، ایڈز اور ٹی بی سے نمٹنا تھا۔ گلوبل فنڈ ایک سو ستائیس ممالک میں تین سو منصوبوں کے لیے تین ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کر چکی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے فیچم کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں ایڈز کے زیادہ مریض ہیں لیکن یہ اعداد و شمار غلط ہیں۔ فیچم نے کہا کہ یہ مرض انتی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ بھارت کی آنکھیں کھل جانی چاہیں اور اس کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ایڈز سے لاکھوں لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایڈز کے جولائی دو ہزار چار کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ایڈز کے مریض جنوبی افریقہ میں ہیں۔ ایجنسی کے مطابق جنوبی افریقہ میں ترپن لاکھ بالغ اور پینتالیس سے باسٹھ لاکھ کے درمیان بچے اس مرض کا شکار ہیں۔ ایجنسی کے مطابق بھارت میں اکیاون لاکھ ایڈز کے مریض تھے۔ فیچم نے کہا کہ بھارت کی ہندو آبادی میں مسلم آبادی کی نسبت ایڈز زیادہ تیزی سے پھیلنے کا اندیشہ ہے کیونکہ ختنے مردوں کو ایڈز کے وائرس سے محفوظ رکھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||