ٹی بی: آج بھی ایک مہلک بیماری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
24 مارچ تپِ دق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس روز پوری دنیا میں اس بیماری کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تپ دق یعنی ٹی بی کوئی لاعلاج بیماری نہیں اور اس کے علاج کے لیے دوائیں بھی آسانی سے دستیاب ہیں لیکن ان سب کے باوجود ٹی بی ایک ایسی خطرناک بیماری بن چکی ہے جس سے مرنے والوں کی تعداد ایڈز اور ملیریا سے بھی زیادہ ہے۔ اس بیماری سے نوجوان اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اور ٹی بی کے شکار ان افراد کو اپنی زندگی کا کافی وقت تکلیفوں اور پریشانیوں میں گزارنا پڑتا ہے۔ پوری دنیا میں اس بیماری سے ہر سال تقریباً 30 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 70 سے 80 لاکھ افراد میں اس بیماری کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں ۔ صرف ہندوستان میں ہر برس تقریبا 5 لاکھ افراد اس بیماری سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ٹی بی ایک متعدی یعنی چھوت کی بیماری ہے اور جب اس کا مریض کھانستا ہے تو ہوا کے ذریعے اسکے بلغم میں موجود ٹی بی کا بیکٹیریا دوسرے انسان تک پہنچ جاتا ہے اور اس طرح ایک دوسرا ٹی بی کا مریض تیار ہو جاتا ہے۔
’انفیکشیس‘ یعنی پھیلنے والی بیماری ہونے کی وجہ سے اس کے مریض کو کافی احتیاط برتنی پڑتی ہے۔ اس بیماری کی علامت اور اس کے علاج کے بارے میں ٹی بی کے سرکردہ ماہر ڈاکٹر کے کے چوپڑا بتاتے ہیں کہ ’ ٹی بی کے مریض کو ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ ایک پھیلنے والی بیماری ہے اس لیے مریض کو کھانستے وقت ہمیشہ اپنے منہ کو کپڑے سے ڈھک لینا چاہیے تاکہ ٹی بی کا بیکٹیریا دوسرے افراد تک نہ پہنچے۔‘ ٹی بی کا علاج اگر صحیح طریقے سےنہ کیا جائے تو اکثر یہ بیماری دوبارہ ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر چوپڑا کہتے ہیں کہ ’ کئی بار مریض کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں اس بیماری کی علامات موجود نہیں ہیں اور اس وجہ سے دوا کھانا بند کر دیتا ہے لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ اگر اس بمیاری کے علاج کا پورا کورس نہیں کیا گیا تو اس بیماری کے بیکٹریا جسم کے کسی بھی حصہ کو دوبارہ متاثر کر دیتے ہیں۔‘ بھارتی حکومت نے اس بیماری پر قابو پانے کے لیے عالمی تنظیم صحت اور عالمی بینک کی مدد سے ’ ڈاٹس‘ یعنی ’ ڈائریکٹ ابزروڈ ٹریٹمنٹ شارٹ ٹرم کورس‘ نامی مہم شروع کی ہے۔ ان ڈاٹس سنٹرز میں ٹی بی کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے ۔ ان مراکز میں مریض میں ٹی بی کا شک ہوتے ہی اس کے بلغم کی تین بار جانچ کی جاتی ہے اور اگر جانچ کی کم از کم دو رپورٹس ’ پازیٹو‘ نکلتی ہیں تو اس کا 6 مہینے تک علاج کیا جاتا ہے۔ ان ’ ڈاٹس‘ مراکز کی خاص بات یہ ہے کہ مریض کو دوا ان مراکز پر موجود ہیلتھ ورکر کے سامنے ہی کھانی پڑتی ہے تاکہ مریض کی دوا کی ایک بھی خورآک چھوٹنے نہ پائے۔ دارالحکومت دلی میں ہی تقریباً 60000 افراد مختلف قسم کی ٹی بی سے متاثر ہیں اور ہر برس تقریبا 32000 نئے ٹی بی کے مریض سامنے آتے ہيں ۔ دلی حکومت کے ٹی بی کنٹرول آفیسر آر پی وششٹھ نے دلی میں کھولے گئے ان ٹی بی کے مراکز کے بارے میں بتایا کہ دلی میں فی الوقت ہر ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ڈاٹس سنٹر کھولا گیا ہے۔ ان مراکز میں 160 جانچ سنٹر اور تقریبا 390 علاج سنٹر ہیں۔ مسٹر وششٹھ نے بتایا کہ یہ مراکز سرکاری ، غیر سرکاری سماجی تنظیمں ، پرائیویٹ پریکٹشنر مل کر ان سنٹرز کو چلا رہے ہیں۔ ان سبھی کوششوں کے باوجود ٹی بی ایک مہلک بیماری بنی ہوئی ہے ۔ ٹی بی پروگرام کے ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل ایل ایس چوہان کا کہنا ہے ان کوششوں سے کچھ فائدہ ہوا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے گزشتہ دو تین سال کا ایک سروے کروایا ہے جسکے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ جہاں ایک وقت میں ٹی بی سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ آبادی میں 85 تھی وہ اب گھٹ کر 75 ہوگئی ہے۔" ہندوستان میں حکومتوں کی کوششوں سے ٹی بی کے بارے میں معلومات اور بیداری میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے ۔ اب بھی آبادی کی اکثریت اس حقیقت سے واقف نہیں ہے کہ ٹی بی کا علاج ممکن ہے اور اس کی دوائیں مفت اور آسانی سے دستیاب ہیں اور مکمل علاج سے یہ بیماری ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||