ٹی بی کی سکرینگ کا نیا آلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریپڈ بائیوسینسر سسٹمز نے بریتھالائزر نامی ایک نیا آلہ تیار کیا ہے جس کی مدد سے ٹی بی کی سب سے زیادہ عام قسم کی سکرینگ کی جا سکے گی۔ یہ آلہ ٹی بی کے سکرینگ کے موجودہ طریقہ ’ہیف ٹیسٹ‘ کے مقابلے میں تیز رفتار اور استعمال میں زیادہ آسان ہے۔ ’ہیف ٹیسٹ‘ میں مریض کو ایک ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس کے بعد مریض کو ایک ہفتے تک نتیجے کا انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ بریتھالائزر کے ذریعے دس منٹ میں نوے فیصد صحیح نتائج حاصل ہو جاتے ہیں۔ بریتھالائزر نہ صرف سستا ہے بلکہ اس کا بھی امکان ہے کہ اسے دوسری بیماریوں کی سکرینگ کے لئے بھی استعمال کیے جا سکے گا۔ مزید برآں اس آلہ کو استعمال کرنے کے لئے کسی قسم کی طبی تربیت کی ضرورت نہیں۔ ریپڈ بائیوسینسر سسٹمز کے سربراہ ڈینس کیملیری، کے مطابق برطانیہ اور بھارت میں اس وقت بریتھالائزر کی آزمائش جاری ہے اور امید ہے کہ اس سال مئی تک کمپنی لائسنس کے اجراء کے لئے درخواست دے گی۔ ٹی بی کے بارے میں آگہی پھیلانے والے ایک ادارے ’ٹی بی الرٹ‘ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت ٹی بی کے لئے آسان اور تیز رفتار طریقہِ تشخیص کی ضرورت ہے کیونکہ فی الوقت ایک مریض کو ٹی بی کی تشخیص کے لئے دو دفعہ دیکھنا پڑتا ہے جس سے پیچیدگیوں کا احتمال ہوتا ہے۔
کیمبرج شائر اور پیٹر برو ہیلتھ پروٹیکشن یونٹ کی ڈاکٹر کیٹ کنگ کا کہنا ہے نیا آلہ موجودہ طریقہ سکرینگ کا پوری طرح نعم البدل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بریتھالائزر صرف پھیپھڑوں کی ٹی بی کے لئے موزوں ہے اور اس سے گردوں، دماغ ، ہڈیوں، جوڑوں اور لنف نوڈ کی ٹی بی کی سکرینگ ممکن نہیں۔ برطانیہ میں ٹی بی کی شرح اضافہ پچھلے سترہ برسوں میں بتدریج بڑھ کر چونتیس فیصد ہو گئی ہے۔ برطانیہ میں سن دو ہزار دو میں تقریباّ سات ہزار افراد ٹی بی کا شکار ہوئے۔ دنیا بھر میں آٹھ ملین افراد ہر سال ٹی بی کا شکار ہوتے ہیں اور دو ملین افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ صحت کی عالمی تنظیم نے انیس سو ترانوے میں ٹی بی کو ’عالمی ایمرجینسی‘ قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر کیٹ کنگ کا کہنا ہے: ’ ٹی بی کی علامات میں پھیپھڑوں میں انفیکشن، دائمی کھانسی جو ہفتوں جاری رہتی ہے، بخار، پسینے کا اخراج اور وزن میں کمی شامل ہیں‘ ’ ٹی بی کی بیماری کی وجوہات میں غربت، الکوحل اور نشہ آور دوائیوں کا استعمال، غیر متوازن غذا اور اپنی صحت سے عدم توجہی شامل ہیں۔ ٹی بی کے جراثیم جسم میں مدتوں مخفی رہتے ہیں اور اس وقت حملہ کرتے ہیں جب جسم کا دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ ٹی بی کی زیادہ تر اقسام کا علاج چھ ماہ کے اینٹی بائیوٹک کورس سے ممکن ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||