BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 May, 2005, 16:24 GMT 21:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں ایچ آئی وی کی دوا

دوا
بھارت میں تیار کی جانے والی جینیِرک دوا کو گزشتہ برس پاکستان میں رجسٹر کر لیا گیا تھا
پاکستان میں حکام کے مطابق پہلی مرتبہ ایچ آئی وی یا ایڈز کے مرض کے علاج کی ایک دوا جولائی تک دستیاب ہو جائے گی۔

بھارت میں تیار کی جانے والی اس دوا کی رجسٹریشن پاکستان میں ہوچکی ہے اور اس کے لئے آرڈر بھی دے دیا گیا ہے۔

دنیا میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ایڈز کے علاج کے لئے کوئی دوا ابھی تک تیار نہیں ہوسکی ہے لیکن کئی ممالک جن میں بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں ایسی ادویات تیار کر رہے ہیں جن سے کسی انسان میں اس کے پھیلنے کی رفتار کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ایسی ہی ایک دوا بھارت میں بھی تیار کی جا رہی ہے جسے گزشتہ برس پاکستان میں بھی رجسٹر کر لیا گیا ہے۔ جنیرک یا اصل نام سے رجسٹر کی گئی اس دوا کی امید ہے کہ قیمت کافی کم ہوگی لیکن عام آدمی کے لئے یہ پھر بھی مہنگی ہوگی۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کی وجہ سے اس دوا کی رجسٹریشن اور منگوانے کی اجازت میں کافی تاخیر بھی ہوچکی ہے۔

سرحد ایڈز کنٹرول پروگرام کے اہلکاروں نے آج پشاور میں صحافیوں کو بتایا کہ اس دوا کو پاکستان میں جولائی میں متعارف کرانے کی تیاریاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں تربیت کے لئے نرسوں اور ‏ڈاکٹروں پر مشتمل طبی عملہ بھی آج کل بھارت میں ہے۔

سرحد میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر محمد ظفر نے مزید بتایا کہ یہ دوا کھلے عام دستیاب نہیں ہوگی اور صرف ایک سرکاری مرکز سے مریضوں کو جاری کی جائے گی۔’اس کے غلط استعمال سے نقصان ہونے کا بھی اندیشہ ہے جیسے کہ اینٹی بیاٹک کے کیس میں ہوا،

ڈاکٹر محمد ظفر کا کہنا تھا کہ اس دوا کا اثر بھی مختلف مریضوں میں مختلف نوعیت کا ہوگا۔ ’کسی کو یہ بہت فائدہ دے سکتی ہے اور کسی کو کچھ نہیں‘

ماہرین کے مطابق یہ دوا ہر ایچ آئی وی پازیٹو مریض کو بھی نہیں دی جائے گی بلکہ صرف ان مریضوں کو دی جائے گی جن کا مرض ایک مخصوص مرحلے تک پہنچ گیا ہوگا۔

پاکستان میں ایڈز کا پہلا مریض انیس سو ستاسی میں سامنے آیا تھا۔ اگرچہ فی الحال ملک میں ایڈز کے تشخیص شدہ مریضوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے زائد ہے لیکن ماہرین کے خیال میں زیادہ آگہی اور بہتر تشخیصی سہولتوں کے مہیا ہونے پر یہ تعداد کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد اسی ہزار تک ہوسکتی ہے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈاکٹر بلال احمد کا کہنا ہے کہ بھارت کا آج سے دس برس پہلے تک کہنا تھا کہ ایڈز اس کا مسئلہ نہیں ہے لیکن اب وہ اس بیماری کے مریضوں کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔

خیال ہے کہ کسی مکمل علاج کی عدم موجوگی میں اس دوا کا دستیاب ہونا بھی مریضوں کے لئے ایک اچھی خبر ثابت ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد