BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2003, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایڈز والوں کو گولی مار دو‘

شکریہ گل
شکریہ گل اپنی بیٹی کے ساتھ

’ایچ آئی وی پوزیٹو ہونے کے بعد زندگی میں بہت تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ پشاور میں ایک مولوی کی چبھتی ہوئی بات بھی ان تجربات میں سے ایک تھی۔

میں یونیسف کے ساتھ ایڈز کی آگہی کے لئے کام کرتی ہوں۔ گزشتہ سال ستمبر میں پشاور میں ایڈز سے متعلق ’کیئر اینڈ کونسلنگ‘ یعنی دیکھ بھال کی ایک ورکشاپ منعقد کی گئی۔

میں نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ میں ایڈز کی مریضہ ہوں اور پروگرام یہ تھا کہ چار روزہ کانفرنس کے آخری دن بتایا جائے گا کہ مجھے بھی ایڈز ہے۔

ظاہر ہے جب ایڈز پر بات کرتے ہیں تو سیکس پر بھی بولنا پڑتا ہے۔ آپکو تو پتا ہے کہ مولوی حضرات سیکس پر آزادانہ بولنا پسند نہیں کرتے۔ ورکشاپ میں بھی ایک مولوی نے مجھے کہا کہ کیوں آپ سیکس کے بارے میں بات کر کے لوگوں کو خراب کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ تو پھر اس بیماری کا حل کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ایڈز کے سب مریضوں کو گولی مار دینی چاہیئے۔

میں نے انہیں کہا کہ اگر یہ کسی بے گناہ کو لگ جائے تو پھر کیا کریں تو ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

ورکشاپ کے آخری دن جب یہ بتایا گیا کہ میں بھی ایڈز کی مریضہ ہوں اور یہ مجھے کس طرح لگی تو وہ صاحب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے مجھ سے معافی مانگی۔

میری عمر تینتیس سال ہے اور میں گزشتہ آٹھ سال سے ایچ آئی وی پوزیٹو ہوں۔ مجھے ایڈز کا وائرس اپنے خاوند سے ملا اور انہیں انتقالِ خون سے جو بنا چیک کیے لگایا گیا۔

میرے شوہر جنوبی افریقہ میں رہتے تھے۔ ان کو ایک ایکسیڈنٹ کے بعد وہاں خون لگایا گیا جو چیک نہیں کیا گیا۔ سن 1994 میں وہ وہاں تین سال رہنے کے بعد پاکستان واپس آ گئے۔ 1995 میں ان کی طبیعت بہت خراب ہوئی اور ٹیسٹ کروانے پر ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ایڈز کے مریض ہیں اور یہ بیماری آخری سٹیج پر پہنچ چکی ہے۔ تشخیص کے چند روز بعد ہی وہ انتقال کر گئے بلکہ ہم تو انہیں یہ بھی نہ بتا سکے کے وہ ایڈز کے مریض ہیں۔

ظاہر ہے کہ ان کی بیوی ہونے کی وجہ سے میرا بھی ٹیسٹ کیا گیا اور وہی ہوا مجھے بھی ایچ آئی وی پوزیٹو پایا گیا۔ جب مجھے معلوم ہوا تو میرا بیٹا دو سال اور بیٹی چار سال کی تھی۔ ماشااللہ اب بیٹی بارہ سال اور بیٹا دس سال کا ہے اور دونوں بالکل ٹھیک ہیں۔ انہیں کوئی بیماری نہیں۔

شروع شروع میں مجھے بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1995 میں اس بیماری کے بارے میں اتنی معلومات نہیں تھیں۔ جس ڈاکٹر نے ایڈز کی تشخیص کی تھی اور ہمیں بتایا تھا کہ ہمیں یہ وائرس ہے اسے بھی زیادہ معلوم نہیں تھا۔ میں دوہری پریشانی کا شکار تھی۔ ایک تو شوہر کی بیماری اور دوسرا مرض کی تشخیص۔

ڈاکٹروں کا رویہ بھی کوئی اتنا اچھا نہیں رہا۔ انہوں نے میرے شوہر کی موت کی خبر اخبارات میں دے دی جس کی وجہ سے بڑے مسائل پیدا ہوئے۔ محلے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ لوگ سمجھتے تھے یہ چھوت کی بیماری ہے اور انہیں بھی لگ سکتی ہے۔

میرے خاندان والوں نے میرا ساتھ دیا۔ حالانکہ انہیں بھی اس بیماری کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اب آگے کی سوچو۔

پھر میں نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ میں اسلام آباد گئی اور اس بیماری کے متعلق معلومات اکٹھی کیں۔ میں نے سوچا میں بیگناہ ہوں پھر بھی یہ بیماری مجھے لگ گئی۔ کیوں نہ میں ان لوگوں کے بارے میں کچھ کروں جن کو یہ بیماری کسی نہ کسی طرح لگ جاتی ہے۔ میں نے ایک این جی او بنائی جس کا نام نیو لائٹ یا نئی روشنی تھا۔ یہ ایچ آئی وی لوگوں کی پہلی این جی او تھی۔ اس کے بعد میں نے ایک اور این جی او پاک پلس سوسائٹی بنائی جو اب بھی میں چلا رہی ہوں۔ یہ بھی ایچ آئی وی پوزیٹو لوگوں کی این جی او ہے۔ صرف پنجاب میں میرے ساتھ بیس بچیس ایچ آئی وی پوزیٹو لوگ کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ میں بھی اس کی شاخ ہے۔

خدا کا شکر ہے کہ ابھی میرا ایمیون سسٹم ٹھیک ہے اور میرے جسم میں اس بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت باقی ہے۔ مجھے ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جس سے ظاہر ہو کہ یہ بیماری آخری مرحلے پر پہنچ چکی ہے۔ میں اپنا کام کر رہی ہوں اور جب تک صحت نے اجازت دی کرتی رہوں گی۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد