90 ملین افریقی ایڈز کے نشانے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایڈز کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے مزید کچھ نہیں کیا گیا تو اگلے بیس سالوں میں تقریباً 90 ملین افریقی ایچ آئی وی کے وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس وقت افریقہ میں تقریباً 25 ملین افراد ایچ آئی وی کا شکار ہیں ۔ تنظیم کے اندازے کے مطابق اگلی دو دہائیوں میں افریقہ ہی میں اس بیماری کے 89 ملین نئے واقعات سامنے آسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نےکہا ہے کہ ایڈز کے خلاف ایک مربوط اور پرزور مہم کے ساتھ ساتھ اس وبا کو روکنے کے لئے 200 بلین ڈالر کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق بہتر یہی ہے کہ ایڈز کے خلاف سرگرم ہوکر 16 ملین لوگوں کو مرنے سے اور مزید 43 ملین افراد کو اس کی زد میں آنے سےبچایا جائے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر 2025 تک بھی لاکھوں افریقی ایچ آئی وی کا شکار ہوتے رہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کا کوئی طریقہ یا راستہ نہیں تھا ۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ہر سطح پر لوگوں کا رویہ تبدیل کرنے میں اجتماعی طور پر سیاسی قوتِ ارادی کی کمی رہی۔ ’افریقہ میں ایڈز ‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ کو تیار کرنے میں دو سال کا عرصہ لگا ہے اور اس میں ڈیڑھ سو سے زیادہ ماہرین کی مدد لی گئی ۔ بی بی سی کی اقوام متحدہ کی نامہ نگار سوزی پرائس کا کہنا ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افریقہ میں ایڈز کو پھیلنے سے روکنے میں حکومت کی پالیسیاں کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں تین مثالیں دے کر بتایا گیا ہے کہ ایڈز کس طرح 20 سالوں میں پورے افریقہ کو متاثر کر سکتا ہے۔اور یہ کہ اس کو روکنے میں کتنی کوششیں اور سرمایہ خرچ کیا گیا۔
اور اگر کوششوں اور فنڈز کی یہی حالت رہی تو ایڈز سے مرنے والوں کی تعداد چار گنا زیادہ ہو جائے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مثبت نتائج یہ سامنے آئے ہیں کہ افریقہ کو ملنے والی بین الاقوامی امداد میں دو گنا اضافہ ہوا ہے، صحت کے شعبے میں زیادہ سرمایہ لگنے لگا ہے اور اس کے علاوہ زراعت ، تعلیم اور علاج میں بہتری آئی ہے۔ اقوام متحدہ نے امید ظاہر کی ہے کہ وسائل کے موثر استعمال سے آخر کار افریقہ سے ایڈز کی وبا کو ختم کیا جا سکے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ کارروائی کی موجودہ رفتار حالات کو بے قابو کر سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||