تبدیلی خون سے ایڈز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی باشندے عامر رضا جنہیں خون کا عارضہ کے باعث تبدیلیِ خون کے مرحلے سے گزرنا پڑا اور اس عمل کے نتیجے میں وہ ایڈز کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ عامر رضا کی کہانی۔۔۔۔ میں انیس سو اکہتر میں پیدا ہوا اور تھیلی سیمیا کے مرض میں پیدائش کے وقت سے ہی مبتلا ہوں۔ یہ عارضہ خون میں کمی کی بیماری یعنی انیمیا کا باعث بنتا ہے۔ میں ظفر ایوینیو پر واقع ایک خصوصی طبی مرکز گیا تاکہ ایچ آئی وی وائرس کا ٹیسٹ کروا سکوں۔ یہ طبی مرکز خاص طور پر تھیلےسیمیا کے مریضوں کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ وہ ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروا سکیں۔ ظفر ایوینیو نامی شاہراہ شمالی تہران کے اس حصے سے گزرتی ہے جہاں شہر کے امراء آباد ہیں۔ یہ انیس سو ستانوے کی بات ہے جب ایران میں موجود تھیلے سیمیا کے مریضوں پر لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروائیں۔ دو برس تک مجھے ٹیسٹ کے نتائج موصول نہیں ہوئے اور دو برس کا عرصہ اس لاعلمی میں گزر جانے کے بعد کہ میری طبیعت خراب کیوں رہتی ہے، مجھے انیس سو ننانوے میں ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ تین ماہ تک ہسپتال کے چکر لگانے کے بعد مجھے ڈاکٹروں نے گھر جانے کو کہا تاکہ میں سکون کی موت مر سکوں۔ مجھے ان سے کوئی شکایت نہ تھی۔ جس وقت انسان موت کے منہ میں جا رہا ہو تو اسے کسی بات سے فرق نہیں پڑتا اور انسان کسی بات کی پروا نہیں کرتا۔ میرے خاندان کے افراد مہذب ہیں اس لیے مجھے ان کی طرف سے بھی کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان دنوں میرے ایک خاتون سے گہرے تعلقات تھے لیکن میری بیماری کے باعث حالات میں سخت پیچیدگی پیدا ہونے لگی اور میں نے خاتون سے رشتہ ختم کر لیا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں خاتون کے والدین کی جگہ ہوتا تو اپنی بیٹی کو ایچ آئی وی کے مرض میں مبتلا کسی شخص سے شادی کی ہر گز اجازت نہ دیتا۔ ایران کے عوام کو ایچ آئی وی اور ایڈز کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہیں۔ میں نے ایک دو مرتبہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کے دوران لوگوں سے ایڈز کے بارے میں بات چیت کرنے کی بھی کوشش کی ہے تاکہ ان کا ردِعمل جان سکوں۔ جب میں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو بتایا کہ میں ایڈز کے مرض میں مبتلا ہوں تو اس نے ٹیکسی روک کر مجھے فوراً اتر جانے کو کہا۔ ایک دوسرے ٹیکسی ڈرائیور نے سمجھا کہ میں مذاق کر رہا ہوں لیکن جب اسے نصف گھنٹے کی بات چیت کے بعد یقین آیا تو اس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||