| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی ایڈز سروے
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں ایڈز کے مرض کے بارے میں لوگ بالکل لاعلم ہیں جبکہ دنیا کے دوسرے بڑی آبادی والے ملک بھارت میں لوگ ایڈز کے بارے میں کافی حد تک جانتے ہیں۔ یہ بات انتہائی پریشان کن ہے کہ اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلقہ ادارے کے مطابق چین، بھارت، روس اور یوکرائین کے ساتھ ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جہاں ایڈز وباء کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ دنیا کے آبادی کے لحاظ سے دو بڑے ملکوں میں ایڈز کے مرض کے حوالے سے بی بی سی کی طرف سے کئے گئے سروے سے حاصل ہونے والے اعدادو شمار کوئی حوصلہ افزا تصویر پیش نہیں کرتے۔ اقوام متحدہ پہلے ہی اس بات سے خبردار کر چکا ہے کہ حکومتوں کی لاپرواہی اور ایڈز جیسے مرض کے بارے میں لوگوں کی لاعملی سے یہ مرض ان ملکوں میں بھی وباء کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس طرح اس نے افریقہ کے بیشتر ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بھارت اور چین میں جن لوگوں سے ایڈز کے مرض کے بارے میں سوالات کئے گئے ان میں سے کم از کم دس فیصد کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ اوران دس فیصد لوگوں میں شہروں میں بسنےوالے لوگ شامل تھے اور یہ ایسے لوگ نہیں تھے جو دور افتادہ پسماندہ دیہی علاقوں میں بستے ہیں۔ دنیا بھر کے ملکوں میں ایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا افراد کا کہنا ہے کہ ان کی حکومتیں اس مرض سے بچاؤ اور علاج کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہیں ہیں۔ ایڈز کے مرض کی دریافت کے بیس سال بعد بھی ان ملکوں میں جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ اس مہلک مرض میں مبتلا ہو کر زندہ رہنے کی امید کھو چکا ہے، لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی حکومتیں اس ضمن میں اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ان ملکوں میں بی بی سی کی طرف سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق بنگلہ دیش وہ واحد ملک ہے جہاں کے عوام اپنی حکومت سے ایڈز سے بچاؤ کے لیے کئے گئے اقدامات سے مطمئن ہیں۔ جنوبی افریقہ میں جو ایڈز سے متاثرہ ملکوں میں سرِ فہرست ہے، صرف اٹھائس فیصد عوام اس بیماری کے خلاف حکومتی اقدامت سے مطمئن ہیں۔ افریقہ کے تین ملکوں ، تنزانیہ، نائجیریا اور بھارت میں ایڈز لوگوں کے لیے غربت، بے روزگاری، جرائم، مذبہی دہشت گردی اور دوسرے صحت کے مسائل سے بڑا مسئلہ ہے۔ تاہم دیگر ملکوں میں ایڈز لوگوں کے نزدیک اتنا بڑا مسئلہ نہیں اور وہ دوسرے معاشی اور معاشرتی مسائل کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جنوبی افریقہ جیسے ملک میں جہاں ہر پانچ بالغ افراد میں ایک ایڈز کے مرض میں مبتلا ہے لوگ ایڈز کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں۔ ان کی دانست میں جرائم اور عمومی امنِ اماں زیادہ بڑے مسائل ہیں۔ چین کے علاوہ جس ملک میں بھی لوگوں سے ایڈز کے بارے میں سوال کیا گیا انہیں ایڈز کے بارے میں ضروری معلومات تھیں۔ انہیں علم تھا کہ یہ مرض کس طرح پھیلتا ہے اور اس سے بچاؤ کے کیا ممکنہ طریقے ہو سکتے ہیں۔ چین میں لوگوں کو اس مرض کے بارے میں کوئی علم نہیں اور ان کا خیال تھا کہ اگر اپ وہی بیت الخلاء استعمال کریں جو کہ ایڈز کے مریض کے بھی زیر استعمال ہے تو آپ اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ ایڈز ایک جان لیوا مرض ہے۔ تاہم دنیا بھر کے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ چودہ سال سے کم عمر بچوں کو اس مرض کے بارے میں معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ ان میں میکسیکو اور برازئیل جیسے ملک بھی شامل تھے جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ قدامت پسند کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہے نوے فیصد لوگوں نے جنسی تعلیم کی تجویز سے اتفاق کیا ۔ تاہم انڈونیشیا اور نائجیریا میں لوگوں نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||