BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 October, 2005, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اگر ایک منٹ اور دیر ہوجاتی۔۔۔

 میری سانس بند ہوگئی تھی: نائلہ
میری سانس بند ہوگئی تھی: نائلہ
(پندرہ سالہ نائلہ مظفرآباد میں ایک مدرسے میں پڑھتی ہیں، آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں اُن کے مدرسے کی عمارت گر گئی اور وہ ملبے میں دب گئیں۔ کوئی ایک گھنٹے کے مطابق اُنہیں ملبے سے نکالا گیا۔ اس دوران اُن کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی اور اب وہ ڈسٹرکٹ ہسپتال اٹک میں ہیں جہاں اُنہوں نے محمد اشتیاق سے بات چیت کی۔)

’’میرے ساتھ کلاس میں بیٹھی دس لڑکیاں ملبے کے نیچے دب کر مر گئیں، مجھے ایک منٹ اور نہ نکالا جاتا تو میں مر جاتی۔

میں سانگری میرا میں واقع ایک مدرسے میں پڑھتی تھی اور وہیں اُسی مدرسے میں رہتی تھی۔ آٹھ اکتوبر کو جب زلزلہ آیا تو اُس وقت ہماری کلاس ہو رہی تھی۔ اُس وقت ہمارے مدرسے کی بلڈنگ تین چار مرتبہ اِدھر اُدھر ہوئی اور پھر ساری کی ساری عمارت ہمارے اوپر گرگئی میرے ساتھ اور بھی طالبات تھیں جو ملبے کے نیچے دب گئیں۔

دوسری لڑکیاں تو شور مچا رہی تھیں، میری تو ڈر اور خوف کی وجہ سے آواز بند ہوگئی تھی میں تو کسی کو آواز بھی نہیں دے سکتی تھی، ہاں البتہ سُن ضرور سکتی تھی۔ جب میں اپنے مدرسے کے کمرے کے نیچے دبی ہوئی تھی تو اُس وقت میرا صرف ایک ہاتھ باہر تھا۔ باقی بچیاں کچھ ایک دوسرے کو پُکار رہی تھیں، کچھ کلمہ پڑھ رہی تھیں اور کچھ رو رہی تھیں۔

تھوڑی ہی دیر بعد کچھ لوگ ہمارے مدرسے آئے اور اُنہوں نے مجھے وہاں سے کوئی ایک گھنٹے بعد نکالا۔ میں سوچ رہی تھی کہ اگر مجھے صرف ایک منٹ اور نہ نکالا جاتا تو میں مر جاتی، کیونکہ میری سانس بند ہوگئی تھی۔

اُس وقت میرے ساتھ مدرسے میں پچیس بچیاں تھیں جن میں سے دس ملبے کے نیچے فوت ہو گئیں اور پندرہ زخمی ہوئیں۔ اس کے علاوہ میری ایک اُستاد بھی ملبے کے نیچے دب کے مر گئیں۔

میری ایک ٹانگ میں فریکچر ہو گئی ہے، یہاں اٹک آنے سے پہلے میں راولپنڈی جنرل ہسپتال میں تھی جہاں آپریشن کر کے مجھے یہاں بھیج دیا ہے اب پتہ نہیں میں یہاں کب تک رہوں گی۔

میرا ایک بھائی جو گھر پہ تھا وہ بھی زخمی ہے اور میری ایک سولہ سالہ کزن بھی فوت ہوگئی۔ مجھے کبھی کبھی بہت ڈر لگتا ہے وہ بہت خوفناک منظر تھا۔‘‘



زلزلے کےبار میں آپ بھی اپنے تاثرات یا رپورٹ اردو، انگریزی یا رومن اردو میں لکھ کر ای میل کریں: urdu@bbc.co.uk
66’ابو جلدی آجائیں‘
’اب توگھر فون کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے‘
66کھیتوں میں زندگی
کشمیری آسمان تلے جی رہے ہیں: عینی شاہد
66برفباری کا انتظار
زلزلہ اور کشمیریوں پر آنیوالی برفباری کا سایہ
66اتنا بڑا امتحان کیوں؟
زلزلے کے متاثرین کے لئے زندگی بوجھ بن گئی۔۔۔
66بارش شروع ہو گئی
’میرے سارے ساتھی دبے ہوئے تھے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد