عفیفہ فارورڈ کہوٹہ / مظفرآباد |  |
عفیفہ فارورڈ کہوٹہ نامی گاؤں کی رہنے والی ہیں۔ مظفرآباد سے انہوں نے علاقے میں زلزلے کے متاثرین کے بارے میں حسب ذیل بات چیت کی ہے: یہاں کھانے پینے کی کمی نہیں، کافی کچھ ہے، یہ لوگ امداد دے رہے ہیں، بجلی، پانی سب کچھ ہے، زخمیوں کو امداد مل رہی ہے، حالات بحال ہو رہے ہیں۔ یہاں مظفرآباد میں سب کچھ ٹھیک ہونے لگا ہے لیکن جو دیہات ہیں، جو ہم لوگوں کا گاؤں ہے، فارورڈ کہوٹہ، وہاں اس علاقے میں کوئی نہیں جارہا ہے۔ جو زخمی ہوئے تھے انہیں تو نکال لیا گیا، لیکن چونکہ سارے مکان ٹوٹ گئے ہیں، وہاں کوئی ٹینٹ وغیرہ نہیں، لوگ اسی طرح باہر کھلے آسمان کے نیچے، کھیتوں میں رہ رہے ہیں۔ سردی بھی ہے، یہی بات ہے، یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، بارشیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ وہاں پر کوئی نہیں جارہا ہے۔ کچھ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن کچھ ہونہیں رہا ہے، لیکن شاید چند دنوں میں حالات ٹھیک ہو رہے ہیں۔ جب زلزلہ آیا، ہم لوگ کالج میں تھے، مظفرآباد میں۔ ہم لوگوں کا سارا کالج تباہ ہوگیا ہے، دیواریں اتنی خراب ہوچکی ہیں، وہاں اب کلاسز نہیں ہوسکتیں۔ جب کالج کی بلڈنگ گری تو میری دوست کی ایک بہن اس میں شہید ہوگئی۔ پانچ لڑکیاں شہید ہوگئیں، میری دو لیکچرار بھی اسی میں شہید ہوگئیں۔ باقی بھی کچھ زخمی تھیں، کچھ نکال لی گئی تھیں۔ اب پتہ نہیں کیا ہوگا ہماری ایجوکیشن کا، میں اٹھارہ سال کی ہوں، میں نے اسی سال بی ایس سی کی (اقتصادیات، جغرافیہ اور شماریات) میں۔
|