| | سرحد میں بٹگرام کے مقام پر زلزلے سے متاثر ایک بچہ اپنے حال پر محو حیرت |
پاکستان میں آنیوالے زلزلے سے نمٹنے میں حکومتی اداروں کی نااہلی اور امداد کی فراہمی کے دوران پر بدنظمی زلزلے کے متاثرین اور دیگر لوگوں کی جانب سے بھی حکومتی اداروں اور فوج پر شدید تنقید ہوئی ہے۔ کئی علاقوں میں دو ہفتے گزرجانے کے باوجود امداد نہیں پہنچی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ امدادی سامان بھی وافر مقدار میں آرہا ہے، رضاکاروں اور امدادی تنظیموں کی بھی کمی نہیں لیکن ضرورتمند شکایت کررہے ہیں کہ ان تک کوئی قابل ذکر امداد نہیں پہنچی۔ یہ صحیح ہے کہ حکومتی ادارے اور فوج اس طرح کے ہنگامی حالات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن جو بدنظمی اور نااہلی دیکھی گئی ہے کیا اس کی ذمہ داری صرف حکومتی اداروں پر ہی ہے؟ بعض اوقات امدادی سامان کی چوری کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ کیا نااہلی اور بدنظمی پاکستانی معاشرے کی مجموعی ناکامی کی عکاس نہیں ہے؟ کیا سماجی سطح پر لوگوں نے زلزلے کے اس چیلنج کو اسی طرح قبول کیا جس طرح وہ جنگ کے حالات میں کرتے ہیں؟ کیا ان کے پاس نیک نیتی اور جذبۂ ہمدردی کے ساتھ ساتھ وہ نظم و ضبط بھی ہے جو آفات سے نمٹنے کے لئے ضروری ہوتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب دینے کے ساتھ ساتھ اگر آپ کسی متاثرہ علاقے میں ہیں تو ہمیں وہاں کے حالات پر اپنی تفصیلی رپورٹ بھی بھیجیں۔ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
تحمینہ، لاہور: موجودہ حالات میں بالخصوص پاکستانی قوم اور بالعموم دوسرے ممالک کا جو ریہ دیکھنے میں آیا ہے وہ شاندار ہے۔ پاکستانی قوم نے خود کو زندہ قوم ثابت کیا ہے، اربوں کی اشیاء نہ صرف پاکستانیوں نے اکٹھا کیے بلکہ باہر ممالک سے بھی آئی ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ ضرورت مند ابھی بھی کہہ رہے ہیں کہ ان تک کچھ نہیں پہنچا؟ لہذا ان حالات میں صرف اور صرف آرمی کی بدانتظامی ہے کہ یہ سب کچھ ہورہا ہے؟ جاوید اقبال، بیلجیئم: اس وقت پاکستان میں آرمی کی حکومت ہے، نہ کہ عوامی حکومت۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری آرمی جس پہ ملک کا اسی فیصد بجٹ خرچ کیا جاتا ہے کس مرض کی دوا ہے، کہ مشکل وقت میں لوگوں کی ہیلپ نہ کر سکے؟ معلوم ہوا کہ آرمی کے پاس ہیلی کاپٹر بھی نہیں ہیں، اس تمام بدنظمی کی ذمہ داری بدنظمی پر ہے، اب تو بی بی سی کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ آرمی والوں نے ٹینٹ تقسیم کرنے کے بجائے اسٹور میں رکھ رہے ہیں۔ ہاشم بختیاری، کوئٹہ: راحت رسانی کے کاموں میں بدانتظامی روکنے کی تمام ذمہ داریاں حکومت کے کندھوں پر ہیں۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ لوگ صرف اپنے فائدے کے لئے سوچ رہے ہیں۔ یہ معاشرتی غربت کی انتہا ہے۔۔۔۔ سلیمان خان، کراچی: یہ اس صدی کا بدترین زلزلہ تھا، یہ اس صدی کی بہترین امداد تھی، پر حاکموں نے اسے صدی کا بدترین زلزلہ بنا دیا ہے۔ اگر صدر صاحب کو اتنا ہی جذبہ ہے تعمیرِنو کا تو وہ تب کہاں تھے جب یہ علاقے ٹھیک سے آباد ہی نہیں تھے؟ چلو مانا مصروف تھے پر جب یہ مقامات تباہ ہوئے تو صدر صاحب کو چاہئے نہ کہ وہ وہیں رہیں، جو پریشان ہیں ان کی موجودگی میں ہی امداد ملے، جب صدر صاحب اور تمام وزراء کو فرصت ملے۔۔۔۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد سندھ: آج وہ شیخ رشید جیسے لوگ کہاں ہیں جو مجاہدین کے مرنے پر فورا ٹی وی پر آکر بیان دیتے ہیں؟ کیا یہ لوگ صرف مرنے پر خوشی دکھا سکتے ہیں؟ قمر جاوید، فیصل آباد: آپ کا تبصرہ ٹھیک نہیں، پوری دنیا سے زیادہ پاکستان عوام پاکستانیوں کی ہیلپ کررہی ہے، ہمارے علاقے میں ہر خواص و عام آدمی متاثرین کے لئے سامان جمع کررہا ہے۔ یہ لوگوں کا جذبہ ہے۔ ہم کشمیری بھائیوں کی بات کا برا نہیں مانتے کیوں کہ مصیبت میں انسان خدا پر ایمان چھوڑ دیتا ہے، یا پھر گورنمنٹ (پر)۔ آدمی نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر کیا ہے۔ باقی بات رہی این جی او کی وہ تو مشرف صاحب سے پہلے ہی الجھے ہوئے ہیں۔۔۔۔ خالد حسین بنگش، خرم ایجنسی: میرا خیال ہے کہ خدارا آپ زلزلے کے امدادی سامان کی چوری نہ کریں، متاثرہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں۔۔۔۔ عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا: ملٹری نے پاکستان کے ہر سولین ادارے کو تباہ کردیا تاکہ یہ ثابت کرسکے کہ پاکستان میں یہ واحد منظم ادارہ ہے، تاکہ کوئی اس کی مکمل حکمرانی کو کوئی چیلنج کرسکے۔ پاکستان میں وہ نام نہاد سِول ڈیفنس کہاں ہے جو اسی کے عشرے میں میری چوتھی کلاس میں پڑھایا گیا تھا؟۔۔۔۔ نعیم رمضان، برسلز: میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ہمارے ملک کا نام پاکستان ہے جس کو ہم لوگوں نے پلیدستان بنادیا تو آسمان سرپر نہ گرے گا یا زمین نہ پھٹے گی۔ اللہ ہمیں اور خاص کر ہمارے لیڈروں کو سیدھا راستہ دکھائے۔ محمد ہارون، امریکہ: مشرف صاحب کی عظمت کو سلام ہے جن کی وجہ سے زلزلہ آیا۔۔۔۔ نصیرالظفر، چکوال: پاکستان صرف زلزلے کا سامنا ہی نہیں کررہا ہے بلکہ اس کے ساتھ کئی اور زلزلے ہیں: بدانتظامی، گورنمنٹ اور حزب اختلاف کے درمیان اعتماد کی کمی، حزب اختلاف کی جماعتیں ایک غلط امیج پیش کررہی ہیں، حکومت کے بارے میں ڈِس انفارمیشن، اس سب سے متاثرہ لوگوں کی مدد نہیں ہورہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ امدادی ایجنسیاں جو کام کررہی ہیں ان کے سیاسی اور مذہبی ایجنڈا ہے۔۔۔۔ سید شہباز، امریکہ: آپ معلوم کریں کہ پاکستانی حکومت ملبے کے نیچے دبی لاشیں نکالے گی یا وہیں پر مٹی ڈال کر اجتماعی قبریں بنادے گی؟ اور یہ عمل کب تک مکمل ہوگا؟ رضوان ارشد، جرمنی: دوسروں پر تنقید کرنا بہت آسان ہے، خود کچھ کرکے دکھانا بہت مشکل ہے۔ یہ جو میرے بھائی دوسرے ملکوں میں کمپیوٹر پر بیٹھ کر فوج اور انتظامیہ پر تنقید کررہے ہیں اگر ان کے اندر زلزلے سے متاثرہ لوگوں کیلئے درد ہے تو اپنا آرام چھوڑکر ان کے دکھ درد میں شریک کیوں نہیں ہوتے اور ان کی مدد خود جاکر کیوں نہیں کرتے؟ رضوان خان، کراچی: افسوس ہے کہ پاکستان گورنمنٹ نے کوئی پلاننگ ابھی تک نہیں کی، حقداروں کی ہیلپ کرے اور ہمیشہ میڈیا میں بولتے ہوئے سب رائٹ کام ہورہا ہے لیکن کام اس کے الٹا بغیر پلاننگ کے ہورہا ہے۔ فضل من اللہ، اسلام آباد (ایس ایم ایس کے ذریعے): میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تمام مسائل ختم ہوجائیں۔ دونوں ممالک عوام میں انویسٹ کریں۔ وقت بدل گیا ہے، لوگ امن اور دوستی چاہتے ہیں۔ جبار حبیبانی، بدین: سچ پوچھیں تو مجھے یہ مناظر دیکھ کر رونا آتا ہے کہ ایک تو لوگ زلزلے سے تباہ و برباد ہوئے ہیں اور اوپر سے امداد کے نام پر ان کے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امدادی کام انتہائی گندا چل رہا ہے۔ لوگوں کو روٹی اور کپڑا ٹرکوں میں سے پھینک کردیا جارہا ہے اور لوگ آپس میں لڑرہے ہیں جو طاقتور ہے وہ ساری امداد لوٹ کر لے جاتا ہے۔ میرے خیال میں امدادی کام صرف فوٹو سیشن کی حد تک رہ گئے ہیں۔۔۔۔ ڈاکٹر صدا حسین، لاڑکانہ (ایس ایم ایس کے ذریعے): کشمیری لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب رہتے ہیں، انہیں ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ سعد، کیلیفورنیا: بی بی سی کا کام ہی پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔۔۔۔ حامد منیر، ساؤتھ افریقہ: اتنے بڑے زلزلے کے بعد بدانتظامی کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اگر ہماری قوم کی حالت کو گزشتہ سالوں کے پس منظر میں دیکھیں تو یہ کوئی قوم نہیں۔ یہ بےقانون لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا مجموعہ ہے جن کی روزمرہ کی زندگی میں ڈِسپلِن نام کی کوئی چیز نہیں ہے، چاہے وہ بس کا ٹکٹ خریدتے وقت ہو یا دفاتر میں ہو، ڈِسپلن نہیں۔۔۔۔۔ آصف محمود میاں، لاہور: شکریہ بی بی سی، ایک مرتبہ پھر آپ نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھی ہے۔ میں سمجھتا ہوں حکومت ہی اس صورتحال کی ذمہ دار ہے، بلکہ اصل حکمران جن کی پالیسیوں کے سبب اللہ نے اپنی ناخوشی کا تھوڑا سا اظہار کیا ہے۔ تمام طور پر ریاستی ادارے ناکام ہیں بلکہ سوسائٹی خاص طور پر سِول سوسائٹی۔ لوگوں میں موجود جذبے کو صحیح سمت نہیں ملی۔۔۔۔ طاہر چودھری، جاپان: پاکستان اور مسلمانوں کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں، صرف کمی ہے تو ایک اچھی دیانتدار لیڈرشِپ کی۔ پوری دنیا اگر اپنا سب کچھ پاکستان کے حوالے کردے تو پھر بھی پاکستان کے نوے فیصد لوگ غریب ہی رہیں گے، وجہ صرف نااہل حکمران، حوس، کرپشن، چوربازاری۔۔۔۔ شہر نایاب، کینیڈا: میں بالکل متفق ہوں کہ پاکستان میں پورے کے پورے عوام ہی بگڑے ہوئے ہیں۔ جب ملک کے سربراہ آرمی امداد میں ملے ہوئے ٹینٹ غریبوں میں بانٹنے کے بجائے اپنے قبضے میں لے لے اور خود اپنے لیے بچاکر رکھ لے تو وہ اور کسی غریب کی کیا مدد کریں گے؟ شبانہ نثار، آئیوی رِج روڈ: مجھے تو لگتا ہے کہ اس زلزلے سے کافی لوگ امیر ہوجائیں گے اور ضرورت مند محروم رہ جائیں گے۔ طلحیٰ بٹ، پاکستان: لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب ستاون سالوں سے کشمیری پریشان رہے ہیں۔ اور اب آفت کے ان لمحات میں ایٹمی طاقتیں انڈیا اور پاکستان ان کے دکھ میں ساتھ دینے میں ناکام رہی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ دونوں جانب کے کشمیر کو آزاد کیا جائے۔ عارف قریشی، ٹانڈو محمد خان: میرے خیال میں امداد تو بہت آرہی ہے لیکن طریقۂ کار بےحد غلط ہیں، نظم و ضبط تو ہے ہی نہیں، ایدھی فاؤنڈیشن یا جماعت الدعویٰ جیسی تنظیمیں کتنا اچھا کام کررہی ہیں، اس کے علاوہ پاک فوج اور حکومتی ادارے کام تو کررہے ہیں لیکن لوگوں کا کہنا صحیح ہے کہ امداد نہیں مل رہی ہے۔ میرا ایک دوست میرے شہر میں آیا ہے اس کا کہنا یہ ہے کہ میرا گاؤں بالا کوٹ سے تھوڑے فاصلے پر ہے، وہاں مدد نہیں مل رہی تو آگے کیسے جائے گی؟ فضل احد، پاکستان: دو ہفتے تک لاشیں ملبے کے نیچے پڑی ہیں، جو زندہ ہیں ان کے حالات سب کے سامنے ہیں، ہم سے تو شاید افغانستان بھی بہتر ہینڈل کرسکتا۔ پاک آرمی مزید کسی کام کے نہیں رہی مسلسل سیاست میں شامل ہونے کی وجہ سے۔ ذوالفقار زرگر، جاپان: یہ بالکل صحیح ہے کہ گورنمنٹ زلزلے کے متاثرین کو مدد فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ کافی جانی بچائی جاسکتی تھیں، یہ کافی صدمے کی بات ہے کہ لوگ رورہے ہیں، مدد کے لئے التجا کررہے ہیں اور فوج یہ کہتی ہے کہ ان کے پاس ان کی مدد کرنے کے لئے حکم نہیں ملا ہے۔ یہ کسی دشمن کے خلاف جنگ نہیں تھی جس میں حکم کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ ایک قدرتی آفت تھی جس میں کسی آرڈر کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ انہیں پانچ بلین ڈالر چاہئے متاثرین کی مدد کرنے کے لئے۔ وہ بارہ بلین ڈالر کہاں گئے جو حکومت کہتی رہی ہے کہ اس کے ریزرو میں ہیں؟ ریاض فاروقی، دبئی: پاکستان میں ہر سطح پر جو مینجمنٹ ہے وہ اتفاقی مینجمنٹ ہے۔ اصلہ میں وہ مینجمنٹ کے بارے میں بھی نہیں جانتے ہیں اور پاکستان کا اصل کرائسس مینیجمنٹ کرائسس ہے، ہمارے ملک کے اچھے اچھے اداروں کے مینجروں کے پاس مینجمنٹ کی اِسکِل نہیں ہے۔ یہاں مینجمنٹ ذاتی پسند اور ناپسند کو ترجیح دیتی ہے اور شاید یہ ہمارے معاشرے میں بھی پایا جاتا ہے۔ عالمگیر بیگ، سویڈن: کسی ایک فریق کو ذمہ دار کہنا کچھ مناسب نہیں ہوگا۔ تمام ادارے اور بشمول لوگ بھی اس بدانتظامی کے ذمہ دار ہیں۔ یہی کہنا مناسب ہوگا کہ جب دلوں سے انسانیت نکل جائے اور مفادپرستی اور خودغرضی جگہ بنالے تو اسی قسم کے واقعات کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ عمر مختار، کینیڈا: کوئی بھی ملک اس قسم کی بڑی آفت سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ امریکہ کے قطرینہ طوفان کو ہی لے لیجئے جب وہاں بدنظمی دیکھنے میں آئی تو۔۔۔ میں سمجھتا ہوں پاکستانی معاشرے نے بہت بہتر کردار ادا کیا ہے۔ ہاں کچھ بدنظامی ہوئی ہے مگر سب کام نیک نیتی سے کیا گیا، جس قوم میں نیک نیتی اور جذبۂ ہمدردی بیدار ہو وہ نظم و ضبط بھی سیکھ ہی جاتی ہے۔ راشد محمد، قطر: بی بی سی اس معاملے پر فیصلہ سنارہی ہے یہ کہہ کر کہ حکومت اور آرمی ناکام ہوئے ہیں اس چیلنج کا سامنا کرنے میں۔ بی بی سی نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ یہ اپنے صحافیوں کے ذریعے دنیا کو پاکستان کو مثبت طور پر دیکھنے نہیں دے گی۔ زاہد رانا، گجرانوالہ: چونکہ ریلیف کے سارے سرکاری انتظامات فوج کے پاس ہیں، جیسے سوائے ملک پر قبضہ کرنے کے اور کوئی کام نہیں، اس لئے یہ بدنظامی دِکھنے میں آئی ہے۔ جو رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت متاثرہ علاقوں میں جارہے ہیں ان کے لئے مناسب گائیڈ لائین حکومتی سطح پر نہیں ہے کیوں کہ ہمارے ملک پر نالائقوں کا ٹولہ مسلط ہے جس نے سارا ریلیف ورک اپنے ہاتھ میں رکھا ہے تاکہ اس مصیبت کے وقت بھی مال پانی بنایا جاسکے، اس لئے بدانتظامی تو ہونی ہی تھی۔ محمد ارشد یوسفزئی، کراچی: بات تو یہ ہے کہ ہر ملک اور معاشرے میں بدنظامی ہوجاتی ہے ہنگامی حالات میں۔ لیکن ان پر قابو پانا حکومت کا کام ہوتا ہے۔ پاکستان میں لیکن لوگوں نے امداد وولنٹیر پیش کیے لیکن پھر بھی بدنظامی ہو تو قابل مذمت ہے۔ عزیزوں سے چند دن پہلے رابطہ ہوا تھا اور پتہ چلا کہ ابھی تک ٹھاکوٹ، شاہ داغ، کانڈرو، کوٹکی ڈِڈکو، شورے کمار، پگار، شقیے کالا ڈھاکہ جیسے ایریا میں بھی لوگ حکومت کی امداد کے منتظر ہیں۔ اگر چند لوگوں کی وجہ سے بدنظامی پھیل جائے تو اس میں پاکستان کے معاشرے کو الزام نہیں دےسکتے، اور اخلاقی اور ذہنی طور پر لوگوں نے اس قدرتی آفت کو قبول کیا ہے۔ فرمان اللہ، مردان: پاکستانی عوام کا جذبہ بےشک تعریف کے لائق ہے مگر خواص کا جذبہ کوئی نہیں۔ حکومت جو یہ رٹ لگاتی رہی کہ خزانہ چاند تک بھرا ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بہت بڑھ گئے ہیں تو اگر آج اس کو اس مشکل گھڑی میں استعمال نہیں کریں گے تو پھر کب کریں گے؟ ساری قوم مرجائے تب؟ پاکستانی حکمرانوں کو بھیک مانگنے کی عادت ہے اور اس مشکل وقت میں بھی ہاتھ پھیلائے دوسروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ خیمہ تک بھی یہ امداد میں مانگ رہے ہیں، پیسہ ہو تو آرڈر دیں، ایک دن میں مل جائیں گے۔ اللہ پاکستان کے نااہل حکمرانوں سے نجات دلائے۔ پایل وزیری، سوات: میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ کہ کشمیر میں بچوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔۔۔۔ خالد شاہین، ملتان: میں ملتا کے ایک نیم سرکاری سکول میں پڑھاتا ہوں۔ پچھلے ہفتے دو دن مجھے آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں بطور رضاکار کے گزارنے کا موقع ملا۔ وہاں جو بات سب سے بڑھ کر محسوس ہوئی وہ یہی تھی کہ بحیثیت ایک قوم کے پاکستانیوں کا کوئی بڑا، کوئی رہنما نہیں۔ ہر تنظیم نے اپنے ہی جھنڈوں اور بینروں کے ساتھ امداد کیمپ لگا رکھی تھی اور ان کی امدادی کارروائیاں کسی بھی مرکزی نظام سے محروم تھیں۔ جذبہ اگر بےنظم اور بےلگام ہو تو بجائے فائدے کے نقصان کا باعث بن جاتا ہے اور جذبے کو لگام صرف اور صرف اچھا رہنما ہی دےسکتا ہے۔ اور اس وقت اس کی شدید ضرورت ہے۔ نجف علی شاہد، بھکر: ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے قیام سے متاثرہ علاقوں میں امداد اور پیغام بہتر انداز میں پہنچے گا۔ حکومت کا اقدام قابل تعریف ہے۔ عبدالسلام، تیمرگارا: بھئی پاکستان میں کوئی حکومت ہی نہیں۔ صرف اور صرف دکھاوے کی جمہوریت ہے۔ آرمی بھی وہی آرمی نہیں رہی جس کو لوگ سلام کیا کرتے تھے۔ آج والی آرمی وہ آرمی نہیں رہی، جس کا کمانڈر پرویز مشرف جیسا اداکار ہو وہ آرمی کیا آرمی ہوگی اور مشکل وقت میں کیا مدد کرے گی۔ پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہو۔ پاکستانی لوگ بھی اسلام سے دوری کی طرف جارہے ہیں۔ |