BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 October, 2005, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: کیا اس کی شدت کا صحیح اندازہ ہے؟
کیا ہمیں اس کی شدت کا صحیح اندازہ ہے؟
زلزلے سے متاثرہ یہ بزرگ عورت بالاکوٹ میں بھیک مانگ رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ہنگامی امداد کے سربراہ ژاں ایگلین نے اب تک ملنے والی امداد کو بالکل ناکافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’دنیا نے اب تک اس طرح کے انتظامی انتشار کا کبھی سامنا نہیں کیا۔ ہم سونامی کو بدترین سمجھے تھے، لیکن یہ اس سے بھی برا ہے۔‘

اس سے قبل کوفی عمان نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امداد فوری طور پر نہ پہنچی تو متاثرہ علاقوں میں اموات کی ایک دوسری لہر شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کم از کم پینتالیس ہزار ایسے خیمے چاہییں جن کے ذریعے لوگوں کو شدید سردی سے بچایا جا سکے۔ ہمیں بیس لاکھ کے قریب کمبل اور سونے کے عارضی گرم بستر چاہیے ہیں۔ اس کے علاوہ خوراک، ادویات اور پانی کی بھی ضرورت ہے‘۔ دوسری طرف صدر مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک سے مدد کے لیے اپیل کی ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ اتنی رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

پھر متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنے کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں۔

کیا آپ کے خیال میں عالمی برادری اور پاکستانی حکومت کو واقعی اس زلزلے سے ہونے والی تباہی کی شدت کا اندازہ ہے؟ کیا وہ متاثرین کی بروقت امداد کر پائیں گے؟ کیا جنرل مشرف کی توقعات کے مطابق عالمی برادی پاکستان کی مالی مدد کرے گی؟ یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ پاکستانی حکومت اس امداد کو بروقت مستحق لوگوں تک پہنچا سکے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

ایم قائد جان، اکوڑا خٹک (ایس ایم ایس کے ذریعے):
میرے خیال میں ہماری حالت کافی خراب ہورہی ہے، علاقے کو لوگوں سے خالی کرانا ہوگا۔

محمد ثاقب، مانسہرہ:
میں مانسہرہ کا رہنے والا ہوں، میں آنے والے امدادی ٹرکوں کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، بات یہ ہے کہ امدادی ٹرک تو آرہے ہیں لیکن یہ کدھر جارہے ہیں، میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ٹرک ناظم اور کونسلر اپنے سٹی کے نام سے لیکر جاتے ہیں اور امدادی مال اپنے گھروں میں اسٹور کررہے ہیں۔

حسن علی میاں راجپوت، لاہور (ایس ایم ایس کے ذریعے):
میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ امداد دینے میں دیر نہ کریں، حالات بہت خراب ہیں، زیادہ سے زیادہ امداد دیں۔

امجد حسین، مری انڈس:
سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستانی حکومت ہلاکتوں کی تعداد کیوں چھپا رہی ہے۔ پورے شہر کے شہر اس زلزلے میں تباہ ہوگئے ہیں اور صرف پچاس ہزار اموات، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سونامی سے بڑی تباہی تھی۔ دوسری بات یہ کہنا کہ دنیا کو تباہی کا اندازہ نہیں غلط ہوگا بلکہ ٹھیک تو یہ ہے کہ پاکستان کا امیج جہادوں کی وجہ سے جو خراب ہوا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج جتنی امداد چاہئے اتنی نہیں مل رہی۔

وسیم ارشد، پاکستان:
اس وقت ملک کی صورت حال کیا ہے یہ ملک کے اندر کے لوگ جانتے ہیں، یہ باتیں ملک کے باہر بیٹھ کر نہیں کہی جاسکتیں کہ اس وقت ملک کو کیا ضرورت ہے اور کیا نہیں۔ زلزلے کے متاثرین کی ضرورت کیا ہے، یہ وہ لوگ بتاسکتے ہیں جو پچاس کلومیٹر پیدل چلکر اپنے رشتے داروں کی خیریت معلمو کرکے آئے ہیں اور ان کے اپنے پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ خیموں کے انتظار میں کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں۔ خاندان کے پینتیس سے بھی زائد افراد ملبے تلے شہید ہوچکے ہیں اور ابھی ان افراد کا کچھ پتہ نہیں جو دور افتادہ گاؤں میں تھے۔ یہ کہانی میرے ایک دوست اور ٹیچر کے بیٹے کی ہے جو اپنے بڑے بھائی اور رشتے داروں کی خیریت معلوم کرنے مظفرآباد کے نواحی گاؤں چکار آگیا تھا، موصوف خود شوگر کے مریض ہیں اور پچاس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اپنے بھائی اور رشتے داروں کی خیریت معلوم کرکے آئے ہیں۔

شبیراحمد، چرسدا، سرحد:
میں متاثرہ علاقوں میں تین بار گیا، بالخصوص بالاکوٹ۔ ہر بار مجھے یہی احساس ہوا کہ امداد ناکافی ہوگی۔ ہر گزرے دن کے ساتھ ہم تباہ شدہ علاقوں کی دریافت کررہے ہیں اور ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ دنیا کو تباہی کی وسعت کا اندازہ لگنا چاہئے، کیوں کہ یہ علاقے ایسے ہیں جہاں تک رسائی مشکل ہے۔ میڈیا کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد سہیل، مالاکنڈ ایجنسی:
یہ صحیح ہے کہ کوئی طریقہ ایسا نہیں کہ زلزلوں کی پیشین گئی کی جاسکے۔ لیکن میرا مشورہ ہے کہ ایسا کوئی ادارہ ہو جو زلزلے کے متاثرین کی مدد کرے۔

نصیر عباسی، اسلام آباد:
پوری دنیا کا ریسپانس بہت اچھا ہے لیکن تعمیر اور بحالی میں کم سے کم دس سال لگ سکتے ہیں۔ اس صورت میں اخراجات کے رقم اندازے سے کئی گنا ہوسکتے ہیں، امیر ملکوں کو امدادی رقم میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

محمد عمران، کویت:
میرے خیال میں اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ ہمارا میڈیا دنیا میں کوئی پاپولریٹی نہیں رکھتا، مطلب یہ ہے کہ اگر وہ حادثے کی کوریج دے بھی تو کون دیکھے گا ان کو؟ اور کون یقین کرے گا ان پر؟ اس کے لئے ہمیں سی این این اور بی بی سی یا این بی سی جیسے بڑے چینلز میں اپنا انفلوئنس یوز کرنا ہوگا۔ اور دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے، اس کی جگہ اگر کوئی یورپی ملک ہوتا تو امداد کئی گنا زیادہ ہوتی۔

محمد عراق یوسفزئی، شاموزئی، صوات:
اگر ہمیں اس زلزلے کی شدت کا صحیح اندازہ ہوتا تو اب تک ہم دنیا میں اتنا واویلا اور فریاد کرتے کہ ساری دنیا میں ہر جگہ زلزلہ زدگان کی امداد کا ذکر ہوتا اور اب تک مظفرآباد، باغ، مانسہرہ اور بالاکوٹ میں ہنگامی ہوائی اڈے وجود میں آچکے ہوتے اور غیرملکی امداد سیدھا مصیبت زدہ ایریا میں پہنچ جاتی۔ لیکن افسوس کہ غیرملکی امداد جس انداز اور رفتار سے آرہی ہے وہ تو صرف کھچروں پر ہی بانٹا جاسکتا ہے۔

محمد کاشف اصغر، سیالکوٹ:
نہیں، صرف متاثرین کو صحیح آئڈیا ہے۔ ہماری حکومت کو بھی کوئی اندازہ نہیں، ہو عوام کے سامنے جھوٹ بول رہے ہیں تاکہ مینجمنٹ کی نااہلی کو چھپاسکیں۔ پہلے دو دن انہوں نے کافی خراب کام کیا، لیکن اب اچھا کررہے ہیں۔۔۔

محمد کوثر شناوری، دبئی:
میں سمجھتا ہوں کہ اکیلی پاکستانی گورنمنٹ کچھ نہیں کرسکتی۔ ایسے آفت میں وسائل کے ساتھ ساتھ جذبوں کی بھی بہت ضرورت ہے۔ نہیں تو گورنمنٹ اکیلی کہاں کہاں پہنچ سکتی ہے اور وہ بھی ایک ترقی پزیر تیسری دنیا کے غریب ملک۔ لیکن یہی جذبے اور حوصلے ہیں جو ہمیں اس امتحان میں سرخ رو کرسکتے ہیں۔ نہیں تو کوئی حکومت پر اور کوئی امریکہ پر اور کوئی عالمی برادری پر انگلی اٹھاتا اور کیچڑ اچھالتا رہے گا، لیکن یہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے ہزاروں لاکھوں کو تو چھوڑو ایک بھی مصیبت زدہ کا بھلا نہیں ہوسکتا۔

لیاقت علی خان، میانوالی:
ہمیں اپنی تباہی کا خود ہی پتہ نہی ہے۔ ہم تو بی بی سی اور سی این این سے سن رہے ہیں کہ کتنی تباہی ہوئی ہے۔ آخر ہم کب بڑے ہوں گے؟

طحیٰ سہیل، لاہور:
ایسا ہی کچھ افغانستان کے ساتھ ہوا۔ عوام کی تمام مصیبتیں پاکستانی حکومت کی وجہ سے ہوئیں۔ پاکستانیوں نے امریکہ کو اپنا خدا تسلیم کیا اور اللہ کے صراط مستقیم کو ٹھکرایا۔ آج چار سال بعد، افغانستان پر حملے کے اسی دن، اللہ نے جواب دیا۔۔۔

مختار احمد شاہد ملک، تھانہ روڈ ظاہر پیر:
میں حکومت سے التجا کرتا ہوں کہ برائے مہربانی متاثرین کے پاس جلد از جلد امداد بھیجیں تاکہ مزید جانی نقصان نہ ہو۔

سید عمیر ہاشمی، لطیف آباد:
ہماری قوم کے لئے یہ بہت بڑا حادثہ ہے۔ ہمیں ایک پاکستانی قوم کی حیثیت سے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ اب پنجابی، بلوچی، سندھی، پشتون اور مہاجر نہیں۔ ہمیں ایک ہی وقت میں یہ کہنا چاہئے کہ اللہ ہمارے ملک کی طرف نظر کرے۔ اب ہماری گورنمنٹ لوگوں کی روز مرہ کی زندگی کو بہتر بنائے۔

عادل، کراچی:
جی ہاں، پاکستان کے لوگ اور حکومت بھی یہ بات جانتی ہے کہ کتنی تباہی ہو چکی ہے لیکن وہ آنیوالی تباہی سے کچھ بےخبر ہیں۔

عظیم سبحانی، یو کے:
یہ حقیقت ہے کہ دنیا کو اس تباہی کا علم نہیں۔ اس میں قصور پاکستان گورنمنٹ کا ہے جس نے ابھی تک اس تباہی کو دنیا کے سامنے پیش ہی نہیں کیا۔ پاکستان گورنمنٹ کو ابھی تک اس تعداد کا پتہ ہی نہیں جو موت کے منہ میں جاچکے ہیں، پاکستان گورنمنٹ ابھی تک یہی کہتی ہے کہ اکیاون ہزار لوگ حالاکت ہوئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف کشمیر میں ہی ایک لاکھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور ہزاروں کا پتہ نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ گورنمنٹ کو یہ بھی علم نہیں کہ کس علاقے میں امداد پہنچی ہے اور کس علاقے میں نہیں پہنچی۔ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں تک امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔ کل میری بات مظفرآباد میں اپنے دوست سے ہوئی تو اس نے بتایا کہ پتیکہ گاؤں میں ابھی تک امداد نہیں پہنچی ہے اور لوگ جو زلزلے سے بچ گئے وہ سردی سے نہیں بچ سکیں گے۔ گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ صحیح اعداد و شمار دنیا کے سامنے پیش کرے اور پاکستانی میڈیا کو بھی اس میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ بی بی سی نے جس طرح زلزلے کی کوریج کی ہے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے میں جو مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

عباس جعفر، تہران:
ہمیں ایک انسان کی حیثیت سے سوچنے کی ضرورت ہے اور اسے ہمیں اپنا نقصان تصور کرنا چاہئے۔ ہمیں آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے متاثرین کی مدد کرنی چاہئے۔ ہم سبھی اداس ہیں، غمگین ہیں، اس زلزلے کے بارے میں۔ میں اقوام متحدہ کے حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہنگامی سطح پر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیں۔

نجف علی شاہ، سادات، بھکر:
جو لوگ امدادی سامان فروخت کررہے ہیں ان کا سد باب ضروری ہے۔

فیصل اظہر، نارتھ کیرولائنہ:
اس وقت سب سے بڑی پرابلم مینجمنٹ کی ہے۔ گورنمنٹ کو لیڈ لینی چاہئے اور جو ایڈ آرہی ہے، جو وولنٹیئر آرہے ہیں ان کو صحیح جگہ پر اور صحیح ٹائم پر پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بہتر مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔ اللہ ہم مسلمانوں پہ رحم کرے اور ہمیں اس آفات سے نمٹنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

شیریار خان، سنگاپور:
زلزلے کی شدت کا اندازہ تمام دنیا کو بی بی سی اور سی این این جیسے اداروں کی بدولت ہوا تو ضرور ہے مگر آج کی دنیا کے لوگ اپنے روزمرہ کی مصروفیات میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں انسانی تباہی پر کوئی خاص فکر نہیں۔ اب صرف سی این این اور بی بی سی ہی ایسے ذرائع ابلاغ ہیں کہ وہ وہ اپنی مسلسل کاوشوں سے دنیا کی ضمیر کو جگانے میں کچھ کردار ادا کرسکتے ہیں۔ چند برس پہلے مشینی دور نے لوگوں کو بےحس بنادیا تھا مگر اس کمپیوٹر اور آئی ٹی کے دور نے انسانوں کو بالکل ہی بےحس اور بےضمیر کردیا ہے۔ آپ ایک زلزلے کو کیا ایسے کئی حادثات اور طوفان، سیلاب، اجتماعی اموات جیسے واقعات کو مدنظر رکھ کر دیکھیں تو پھر بھی لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ دنیا کے لوگ اب ایسے حاثات کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے بےحسی کا رجحان کس بات کی غمازی کرتا ہے؟ یو این او کو چاہئے کہ اب وہ دنیا میں انسانیت جیسے قابل قدر خاصیت کو اجاگر کرنے کی جنگی مہم شروع کرے۔ گزشتہ چند سالوں کے تباہ کن واقعات یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا میں انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے۔

بسرین رحمت خلیل، ناری پنوس:
میری رائے ہے کہ گورنمنٹ آف پاکستان امداد فراہم کرنے میں کافی سلو ہے کیوں کہ پاکستانی گورنمنٹ کا خیال صرف مارگلہ ٹاور پر ہے۔۔۔

یاسر، میرپور:
یہ صحیح ہے کہ پاکستانی لوگ بڑی ہمدردی اور فراخدلی کے ساتھ متاثرہ لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔ عالمی برادری بھی پاکستانی گورنمنٹ کی مدد کررہی ہے لیکن یہ امداد کافی دیر سے پہنچ رہی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی گورنمنٹ متاثرہ علاقوں کے بارے میں حقیقی صورتحال کو سامنے لانے میں ناکام رہی ہے، اسی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں لوگ بری زندگی جینے پر مجبور ہیں۔

ایم قائد جان میاں، نوسہرہ:
یہ بہت برا زلزلہ ہے۔ میرے خیال میں اس سے ایک لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستانی در حقیقت اس حالات سے نمٹ نہیں پارہا، اس کے لئے کافی پیسے کی ضرورت پڑے گی، اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس علاقے میں موسمی حالات خراب ہونے والے ہیں۔ لوگوں کو اس علاقے سے خالی کرائیں اور پاکستان کے پلین علاقوں میں بسائیں۔ اس کے لئے کافی طیاروں اور خیموں کی ضرورت پڑے گی۔ پاکستان کی حکومت کمبل، بستر، خوراک فراہم کرنے میں ناکام ہے اور یہ برا دن ہوگا جب دنیا کو معلوم ہوگا کہ ایک لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ میں دنیا سے پھر اپیل کرتا ہوں کہ پلیز متاثرین کو امداد فراہم کریں۔

مصطفٰے قریشی، کیلیفورنیا:
میرے خیال میں دنیا کو صحیح اندازہ نہیں ہو پا رہا کہ کتنی بڑی تباہی ہوئی ہے اور کتنی جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔ پاکستان کا امیج طالبان کے چکر میں اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ باقی دنیا والے پاکستان کو برا سمجھنے لگ گئے ہیں۔وہ اتنی امداد نہیں دے رہے جتنی ضرورت ہے حالانکہ یہ سونامی سے زیادہ نقصان ہو چکا ہے۔ اللہ پاکستان پر رحم کرے اور دنیا کو سمجھ دے۔

اظہر عرفان، رگبی، برطانیہ:
دنیا کو کتنا احساس ہے اس کا اندازہ ملنے والی امداد سے لگایا جا سکتا ہے۔ حکومت پاکستان شاید تباہی کو صحیح طرح پیش بھی نہیں کر سکی مثلاً مانسہرہ کے ناظم کا کہنا ہے کہ لگ بگھ پچاس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ناظم وہ لوگ ہیں جو اپنے علاقوں سے پوری طرح واقف ہیں۔ ادھر آزاد کشمیر کے وزیراعظم جن کی ساری زندگی اسی علاقے میں گزری ہے کشمیر میں چالیس ہزار ہلاکتوں کی تصدیق کر رہے ہیں۔

حکومت پاکستان دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والی سب سے بڑی تباہی سے نمٹنے پر داد کی مستحق ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے وزیروں کےجھوٹ بولنے مایوسی بھی ہے۔

محمد صغیر، لاہور:
میرا خیال ہے دنیا کو صحیح اندازہ نہیں اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے ملک کا میڈیا اس خبر کو دنیا تک پہنچا نہیں سکا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کو اس تباہی کے بارے میں بتایا جائے۔

سید سجاد، ورجینیا، امریکہ:
میرا خیال ہے پاکستان کے ساتھ تیسری دنیا جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ پاکستان نے صرف پاچ سو ملین ڈالر مانگے ہیں۔ پوری دنیا اور امریکہ بھی جانتا ہے کہ زلزلہ بہت شدید تھا لیکن اس کے مقابلے میں امداد بہت کم آرہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک بھی کوئی بڑی امداد نہیں دے رہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔

ریحان اشرف، نیو جرسی، امریکہ:
حکومت پاکستان کو چاہیے ایک نہایت پڑھے لکھے لوگوں کی ایک ٹیم تشکیل دے جو کہ امیر ممالک سے بات کرے جیسے یورپی یونین اور امریکہ۔ ایک ایسی ٹیم جو کہ مالی اور دیگر ضروریات کی صحیح وکالت کر سکے۔ ہمیں اس سلسے میں فوراً عمل کرنا ہے کیونکہ سردی سے پہلے لوگوں کو امداد پہنچنا ضروری ہے۔

زاہد رانا، عرب امارات:
دنیا کو تھوڑا بہت اندازہ ہے لیکن کیونکہ یہ مادہ پرستی کا دور ہے اس لیے ہر کوئی اپنے چکر میں ہے۔ دوسرے ملک عملی طور پر مدد تو کر رہے ہیں لیکن مالی مدد نہیں کر رہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر انہوں نے پیسے دے بھی دیے تو حقدار تک پہنچنے کی بجائے یہ حکومتی غنڈوں اور جرنیلوں کی جیبوں میں چلی جائے گی۔

قمر جاوید، فیصل آباد:
کوفی عنان نے ٹھیک کہا ہے یہ سونامی سے بڑا زلزلہ تھا۔ پاکستان کو دنیا کی طرف سے جلد جواب نہیں ملا اور نہ ہی پاکستان نے اس سے پہلے اتنی بڑی مصیبت دیکھی۔ اس وجہ سے ہمیں امداد پہنچانے کا تجربہ نہیں ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ علاقوں میں مدد نہیں پہنچ رہی۔

جمیل مقصود، برسلز، بلجیم:
پاکستان کی حکومت تمام متاثرین کو مدد دینے میں ناکام رہی ہے کیونکہ پاکستان کے پاس ادارے نہیں ہیں۔ تمام ملک فوج پر انحصار کرتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آرمی اکیلی یہ سب کچھ نہیں کر سکتی۔ کشمیری لوگوں کو امدادی کاروائیوں میں شامل کرناچاہیے۔

محمد شکور، امریکہ:
سمجھ نہیں آتا کہ پوری دنیا کے کمبل اور خیمے کیسے کم پڑ گئے۔ روسی فوجوں کے پاس بے شمار ٹینٹ اور کمبل ہوں گے۔امریکی افواج کے پاس بھی ہوں گے۔ تو کیا پاکستان کی حکومت ان سے مانگ نہیں سکتی؟

صابر خٹک، کوہاٹ:
اقوام متحدہ کی طرف سے امداد کی اپیل خوش آئند بات ہے۔ اگر دنیا کے ہر ملک نے مدد کی تو متاثرہ لوگوں کی مشکلات میں کمی آئے گی بشرطیکہ حکومت پاکستان اس امداد کو صحیح طریقے سے بانٹ لے۔

مہوش یذدانی، امریکہ:
ہمیں مختلف ذرائع سے صحیح اطلاعات دینے پرمیں بی بی سی کی معترف ہوں۔ لیکن ان رپورٹوں سے ہمیں یہ پتا نہیں لگ رہا کہ کتنے زخمی مر رہے ہیں۔

اظفر نسیم، ٹورانٹو، کینیڈا:
اقوام متحدہ پر انحصار ٹھیک نہیں ہوگا کیونکہ اقوام متحدہ ہمیشہ تباہی ہونے کے بعد ہی پہنچتی ہے اور وہ بھی برائے نام۔ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امداد کے وعدے کیے گئے لیکن کیا وہ پیسے وہاں پہنچے؟ نہیں۔ میرے خیال میں پاکستانی عوام اتنے باضمیر ہیں کہ وہ اس تباہی کو خود ہی جھیل لیں گے۔

محسن بادامی، بغداد، عراق:
اس سے پہلے صورتحال واضح نہیں تھی لیکن اب پوری طرح واضح ہے۔ صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے خلوص کے ساتھ امداد کی تقسیم۔ تقسیم غیر سرکاری فلاحی اداروں کی مدد سے ہونی چاہیے۔ اگر امداد حکومت کے ہاتھ جاتی ہے تو پھر خدا حافظ۔

احمد خان، اونٹاریو، کینیڈا:
صورتحال بہت ہی خراب ہے اور ہم پاکستانیوں کو ہر طرح سے مدد کرنا چاہیے۔ حکومتیں جو کر سکتی ہیں وہ کر رہی ہیں کیونکہ امداد پہنچانے میں بہرحال وقت لگتا ہے۔ اب شور مچانے کی بجائے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں کے دروازے کھولیں اور متاثرین کو پناہ دیں۔ جب تک مدد آتی ہے اس وقت تو متاثرین کو ہم اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔

قیصر وڑائچ، سپین:
یہ شرم کی بات ہے کہ ہم ہر سال اپنی فوج کو آلات فراہم کرنے پر کروڑوں روپے لگاتے ہیں اور وہ ہر سال بے شمار فوجی سامان خریدتے ہیں لیکن آج جب پہلی بار ہماری ملکی تاریخ میں ضرورت پڑی تو ہمارے پاس صرف پچیس ہیلی کاپٹر نکلے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ گزشتہ اٹھاون برسوں میں ہم صرف پچیس ہیلی کاپٹر خرید پائے ہیں۔

مشتاق بھٹی، اسلام آباد:
حقیقت یہ ہے پاکستان کے عوام اور انٹرنیشنل میڈیا نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ آ کر دیکھے کہ لوگ کس مصیبت میں ہیں۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ورنہ ہم زیادہ جانیں بچا سکتے تھے۔

آصف علی، کراچی:
ہمیں بحیثیت پاکستانیوں کے اب یہ سوچناہے کہ اس مشکل گھڑی سے کیسے نلکیں، بجائے اس کے کہ دوسروں پر کیچڑ اچھالیں۔ بڑی قومیں اس طرح نہیں بنتیں بلکہ اس کے لیے بہت بڑی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اس وقت یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اس مشکل گھڑی میں تمام باحیثیت لوگوں کو متاثرین کی مدد کرنا چاہیے۔

فرخ مقصود، لاہور:
میرا خیال ہے جتنی تباہی ہوئی ہے دنیا کو ابھی تک اس کا اندازہ نہیں ہوا ہے یا پھر ہماری حکومت اس صورت حال کو دنیا کے سامنے صحیح طرح پیش نہیں سکی ہے۔ یہ سونامی سے بڑی تباہی ہے لیکن مگر دنیا کو پتا نہیں چل رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تباہی پاکستان میں آئی ہے۔ اگر ایسا کسی دوسرے ملک میں ہوا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ باقی یہ کہنا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی غلط ہے۔ اپنے وسائل میں رہتے ہوئے حکومت اور پاکستان کے عوام کچھ تو کر رہے ہیں۔ اگر ہم امداد دینے والے اداروں پر بیٹھے رہتےتو کچھ بھی نہ ہوتا۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں، ٹھیک اندازہ شاید کبھی بھی نہ ہو سکے کسی کو کہ ہم کتنے بڑے دکھ پر آکر پہنچے ہیں۔ ہم جو پہلے ہی ایک ایسی قوم ہیں جس کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے اور اب صورت حال کچھ ایسی ہے کہ ہم اپنی پوری معیشت کو داو پر لگا کر بھی اس مشکل سے نہ جانے کیسے نکلیں گے۔ نہ ہی اس کا اندازہ عالمی برادری لگا سکتی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مستقل حل نکلتا نظر آتا ہے۔ جس دکھ کی مستقل کیفیت سے ہم آج کل گزر رہے ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ اس سے ہم کیسے نکل سکیں گے۔۔۔

امر حیدر، ملیشیا:
میرے خیال میں انہیں بالکل اندازہ نہیں اصل تباہی کا مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ ملبے، موسم اور دیگر وجہوہات کی وجہ سے ہلاکتوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔ ساری دنیا بھی یہ سب جانتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ پاکستان کی مدد ضرور کرے گی۔ شاید یہ کافی نہ ہو مگر کم ازکم اس سے متاثترین کو کچھ امید تو ملے گی۔ میں نے اور کچھ اور طالب علموں نے یہاں یونورسٹی میں آگاہی کے لیے ایک مہم شروع کر دی ہے۔ اللہ ہلاک ہونے والوں کی مغفرت کرے۔

س خواجہ، سڈنی، آسٹریلیا:
میری رائے میں عالمی برادری کیا خود پاکستان کے ارباب اختیار کو ابھی حالیہ زلزلے سے ہونے والی مکمل تباہی اور بربادی کا کچھ خاص اندازہ نہیں ہے۔ جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے صرف تخمینوں کی بنیاد پر کہا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کوشش اور جدوجہد ضرور کر رہی ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امدادی کارروائی کچھ دیر سے شروع ہوئی تھی۔ میری عالمی برادری سے اور خصوصاً ترقی یافتہ ممالک سے گزارش ہے کہ کشمیر میں سسک سسک کر دم توڑنے والی انسانیت میں نئی روح پھونک دیں۔۔۔

احمد جمیل، لاہور، پاکستان:
شاید نہیں۔ دنیا کو تو بعد میں اندازہ ہوگا ابھی تو ہماری اپنی سرکاری مشینری فالج زدہ ہے۔ اور ویسے بھی دنیا تو صرف امداد دے سکتی ہے، اس کی تقسیم تو پاکستانی انتظانی مشینری نے ہی کرنی ہے۔

اشتیاق، امریکہ:
ہمارے سیاست دان کب بڑے ہوں گے؟ وہ اب تک سیاست کھیل رہے ہیں۔ انہیں اس وقت تو سمجھ جانا چاہیے کہ یہ وقت سیاست کا نہیں انسانیت ہے۔

طاہر رفیق، پاکستان:
اندازہ اس کو ہوتا ہے جس کے گھر کا چراغ بھج گیا ہو۔ اتنا برا زلزلہ امریکہ یا برطانیہ میں آیا ہوتا تو ساری کی ساری دنیا کے انجینئر اور ڈاکٹر وہاں پہنچ جاتے۔۔لیکن یہ پاکستان ہے اور دوسرا ہم مسلم ہیں اور ایک لیبل دہشت گردی کی پہلے ہی ہمارے اوپر لگی ہوئی ہے۔ کسی کو پاکستانیوں کی کیا پروہ؟

پردیسی کشمیری، برطانیہ:
مغرب کبھی بھی تیسری دنیا کے مملک کو امداد دینے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ وعدے تو اربوں ڈالر کے کیے جاتے ہیں مگر دیا کچھ بھی نہیں جاتا۔ یہ نظام اوپر سے لے کر نیچے تک بد عنوانی کا شکار ہے۔ میں تو کسی کو بھی پیسے دینے سے پہلے ہزار دفعہ سوچوں گا۔ یہ بات سچ ہے کہ کئی غیر سرکاری تنظیمیں اچھا کام کر رہی ہیں۔ آکسفیم اور مسلم ایڈ نے کافی پیسہ جمع کیا ہے۔ اب ضرورت ایک ایسی تنظیم کی ہے جو اس کو آگے بڑھا سکے اور جس پر تعمیر نو کی ذمہ داری ہو۔

ضیا قادری، پاکستان:
جی ہاں، پاکستانی صدر کو ضرور امداد ملے گی۔ عالمی برادری ضرور مدد کرے گی اور بہت جلد پاکستان اس مصیبت سے نکل جائے گا۔

چاند بٹ، جرمنی:
جس طرح بین الاقوامی برادری نے پاکستان کی مدد کی ہے، وہ بہت زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ہمیشہ کی طرح پاکستان کے ارباب اختیار ہلاکتوں کی تعداد بہت ہی کم بتا رہے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نا اہلیوں کو تو چھپانے کی کوشش کر ہی رہے ہیں، ساتھ ہی عالمی اور پاکستانی میڈیا کو بےوقوف بنانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
اس آفت کا صحیح اندازہ صرف ان لوگوں کو ہو سکتا ہے جو وہاں رہ رہے ہیں یا جو متاثرین ہیں۔ ایدھی صاحب کے مطابق بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور ابھی تک اس کے مطابق امداد نہیں ملی۔ مسلمانوں کو اور عالمی برادری کو دل کھول کر مدد کرنا ہوگی۔

عبدل شکور، سندھ، پاکستان:
آٹھ اکتوبر کو بہت بڑئ قدرتی آفت آئی۔ یہ سچ ہے کہ پاکستانی حکومت متاثرین تک بروقت امداد پہنچانے میں ناکام رہی ہے اور عالمی برادری بھی اس آفت کی شدت کو پوری طرح نہیں سمجھ پائی ہے۔ اس وجہ سے شاید صحیح امداد بھی ہم تک نہیں پہنچی۔

یوسف ساہیوال، ساہیوال، پاکستان:
میرا خیال ہے کہ امداد تو مل جائے گی لیکن مستحقین تک صحیح پہنچے گی یا نہیں، یہ نہیں کہا جا سکتا۔

خواجہ کبیر بانڈے، بیلجیم:
دنیا کو ابھی تک اس تباہی کا مکمل اندازہ نہیں ہو سکا ہے، نہ ہی پاکستان حکومت کو اس کا اندازہ ہے۔ اس کی مرکزی وجہ یہ ہے کہ ایک تو کشمیر پہاڑی علاقہ ہے، دوسرا اب تک میڈیا ان دور دراز علاقوں تک پہنچی ہی نہیں۔ یہ ٹی وی والے اور اخبار والے صرف چند شہروں کا رونا رو رہے ہیں۔ کیا ان میں سے کوئی دور دراز علاقوں میں گیا ہے؟ کچھ تھوڑا بہتں جیو ٹی وی والوں نے کوشش کی ہے۔ باقی تو سب تجارت کر رہے ہیں۔۔۔

محمد ابرار احمد، سپین:
اس بات کا بالکل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کتنی اموات ہو چکی ہیں اور کتنی مزید ہوں گی کیونکہ زلزلے نے جو تباہی کرنی تھی وہ تو کر لی ہے، مگر اس کے بعد بروقت امداد متاثرہ باشندوں تک نہ پہنچ پانے کی وجہ سے بہت ساری اموات واقع ہوئی ہیں اور مزید ہوں گی کیونکہ ابھی تک پاکستانی آرمی اور دوسرری امدادی پارٹیاں بہت جگہوں تک پہنچی ہی نہیں ہیں۔ بہتں سارے متاثرین اب بھی زخمی حالت میں امداد کے منتظر ہیں۔۔۔

عثمان قاضی، اسلام آباد، پاکستان:
میری رائے میں سامان کی فراہمی شاید اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا کہ اس کی بروقت اور اصل ضرورت مندوں تک رسائی۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہم موجودہ انتظامیہ کو اس کے لیے جواب دہ بنا سکیں گے؟ آخر ماضی میں سنش کے سائکلون اور بلوچستان کی خشک سالی کی امداد کہاں گئی؟ پھر یہ خدشہ بھی ہے کہ جن اداروں کے ذمے یہ کام لگایا گیا ہے وہ تکنیکی اعتبار سے اس کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد