BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 October, 2005, 20:35 GMT 01:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں طوفانی برفباری کا انتظار


میرا تعلق مظفرآباد سے ہے، چار روز قبل راولپنڈی پہنچا ہوں۔ مظفرآباد میں میں امدادی کاموں میں مصروف تھا، وہیں ایک این جی او کے ساتھ میں دو سال سے کام کرتا رہا ہوں۔ میرا جوگاؤں ہے وہاں کوئی امداد نہیں پہنچ رہی تھی جس وجہ سے میں اسلام آباد آگیا اور لوگوں سے بات کی کہ وہ کچھ امداد وہاں پہنچانے کی کوشش کریں۔

جب زلزلہ آیا اس وقت ہم اپنے والدین کے ساتھ صحن میں کھڑے ہوکر باتیں کررہے تھے، اچانک گونجدار آواز شروع ہوئی، کافی شور تھا اور اس کے ساتھ ہی زمین اتنی زور سے ہلنے لگی جیسے کہ پھٹنے والی ہو، مکان ایسے ہِل رہا تھا جیسے یہ یا تو زمین کے اندر چلاجائے گا یا اوپر جاکر ہم پر گر پڑے گا۔ اس وقت عجیب سا منظر تھا، جیسے قیامت کی گھڑی آپہنچی ہو۔

ہمارے مکان کی دیواریں گر گئیں، شہر کے ساتھ ہی ہم رہتے ہیں، وہاں پہ زیادہ مکان تباہ نہیں ہوئے، لیکن شہر کے مکمل مکان تباہ ہوگئے۔ تب سے ہم ٹینٹ میں رہ رہے ہیں، گھر کے باہر ٹینٹ لگایا ہے۔

ابھی مظفرآباد میں وہی افراتفری کا عالم ہے، اور بیشتر شہر خالی ہوچکے ہیں، لوگ شہر سے نقل مکانی کرچکے ہیں، کچھ لوگ اپنے عزیزوں کے پاس اسلام آباد، راولپنڈی یا دیگر شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں، اور کچھ لوگ وہیں سائیڈ میں جھونپڑیاں بناکر یا کیمپ میں رہائش پزیر ہیں۔ ابھی گورنمنٹ نے بھی بڑے لیول پر کوئی کیمپ نہیں قائم کیا ہے۔

میرے خاندان والے ابھی بھی وہیں ہیں۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ ہم راولپنڈی میں مکان لے سکے، ہمارے رشتہ داروں میں وہاں سے کافی لوگ اسلام آباد آچکے ہیں۔ مظفرآباد میں سردیوں کی حالت یہ ہے کہ اب جلد ہی وہاں برف گرے گی، شہر میں تو شاید نہیں لیکن پہاڑوں پر اور دیہاتوں میں، ایک دو کلومیٹر کی اونچائی پر، اور چونکہ آزاد کشمیر کا جو ایریا ہے وہ بیشتر پہاڑیاں ہیں اس لئے وہاں برفباری سے زندگی کے آثار مشکل ہوں گے، اور زیادہ لوگ جو زلزلے سے بچ چکے ہیں شاید وہ طوفانی برفباری کی نذر ہوجائیں۔

گورنمنٹ کے پاس وسائل کی کمی ہے، خاص کر لوگ نہیں ان کے پاس۔ اتنے لوگ ان کے پاس ہیں ہی نہیں کہ وہ دیہاتوں میں جائیں اور لوگوں کو خوراک، خیمے اور دیگر امداد پہنچائیں۔

میرے عزیز و اقارب میں لگ بھگ پندرہ بیس لوگ مارے گئے ہیں۔ باقی لوگ جو بچے ہوئے ہیں ان پر تو عموما سکتے ہی کیفیت طاری ہے۔ وہ لوگ نہ تو کسی سے سپورٹ لینے کا حوصلہ رکھتے ہیں نہ ہی وہ کہیں جاکر کہہ سکتے ہیں کہ جی ہمیں اپنی زندگی کو باقی رکھنے کے لئے ان اشیاء کی ضرورت ہے، وہ لوگ غم سے نڈھال کہیں پڑے ہوئے ہیں۔ کہیں دور دراز علاقوں میں جہاں اموات ہوئی ہیں وہاں تو لوگوں کو ابھی تک ریلیف بھی نہیں دیا جاسکا۔

بڑی ابتر حالت ہے، گورنمنٹ کی سطح پر جو کام ہورہا ہے اسے کوآرڈینیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ این جی اوز جو کام کررہی ہیں ان کی پہنچ کافی محدود ہے، کچھ ہی علاقوں تک کام کررہی ہیں، ان کے پاس بھی وسائل نہیں ہیں، کوئی مربوط کوشش نہیں ہوئی ہے اب تک۔ بالخصوص خیموں کی ضرورت ہے، ان لوگوں کے لئے جو کھلے آسمان تلے کھیتوں میں بسے ہیں۔

66وادئ نیلم سے رپورٹ
’گھر واپس چلے جائیں، امداد ختم ہوچکی ہے‘
66تاریخ نہیں بدل سکتی
زلزلہ 50 سالہ تاریخ نہیں بدل سکتا: پرنب مکھر جی
66چودہ دن گزر گئے
زلزلے کے چودہ دن بعد کی صورتحال تصاویر میں
66خیمے کہاں گئے؟
خیمے تقسیم کی بجائے ذخیرہ کیے جا رہے ہیں
66دور کے لوگ
ایل او سی کے پار سے جلد امداد کے منتظر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد