نادیہ انور یونیورسٹی آف سوکوبا، جاپان |  |
| | تئیس اکتوبر کی اس تصویرمیں متاثرین اب بھی آسمان تلے رہ رہے ہیں |
میں پاکستان کے زلزلے میں شدید ترین طور پر تباہ ہونے والی جگہ گڑھی حبیب اللہ سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں پی ایچ ڈی کے لئے اپنے شہر کے ساتھ جاپان کے شہر سوکوبا میں رہتی ہوں۔ آٹھ اکتوبر کی شام کو میرے دوستوں نے فون کیا اور شمال اور کشمیر میں زلزلے کے بارے میں بتایا۔ ابتدا میں میں پریشان نہیں ہوئی کیوں کہ زلزلہ میرے علاقے میں نہیں آیا تھا اور وہاں پہلے کبھی زلزلہ آیا بھی نہیں تھا لیکن جب میں نے اتوار کے روز اس کے بارے میں پڑھا تو پھر ایک قیامت سامنے تھی، میں ایبٹ آباد میں اپنے والدین کو فون کرتی رہی لیکن کوئی جواب نہیں ملا، اسلام آباد میں میری بہن کی جانب سے بھی کوئی جواب نہیں، گڑھی حبیب اللہ سے کوئی جواب نہیں۔ میں لکھ نہیں سکتی کہ میں کتنی فکرمند تھی۔ جب میں نے بین الاقوامی خبروں میں پڑھا کہ گڑھی حبیب اللہ میں ایک اسکول کی عمارت کے گرنے سے چھ سو بچے ہلاک ہوگئے ہیں، میں ختم ہوچکی تھی، کیوں کہ میں جانتی تھی کہ میرے تمام رشتہ دار وہاں پڑھتے تھے اور میری آنٹی، میرے والد کی بہن، وہاں ٹیچر تھی۔ پھر چودہ اکتوبر کو میری فیملی سے رابطہ ہوا۔ یہ دن میری زندگی کے سب سے برے دن تھے، یہ سوچتے ہوئے کہ میری فیملی کا کون مرگیا ہوگا اور کون بچا ہوگا۔ آخر میں مجھے پتہ چلا کہ میرے والدین، بھائی بہن سب ٹھیک ہیں لیکن میری آنٹی رخسانہ اسکول کی عمارت گرنے سے ہلاک ہوگئیں۔ ان کی عمر پینتیس سال کے قریب تھی۔ میرے انکل کے گھر اور بزنس تمام تباہ ہوگئے، اب وہ خیموں میں رہ رہے ہیں جو کبھی خوبصورت بنگلہ میں رہتے تھے۔ تمام بچے زخمی ہیں اور زندگی ان کے لئے بوجھ بن گئی ہے۔ وہاں اب بھی زلزلے کے جھٹکے آرہے ہیں۔ میری فیملی راولپنڈی منتقل ہوگئی ہے لیکن میرے والدین ایبٹ آباد میں ہیں۔ میں مجھے ایک پل کے لئے بھی سکون نہیں ملتا، میں اپنی فیملی کے لئے پریشان ہوں، اس سانجے پر صدمے میں ہوں، میں نے فیصلہ کیا کہ کبھی واپس گڑھی نہیں جاؤں گی جو کبھی ایک خوبصورت سیاحتی مقام تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اللہ نے غریب لوگوں کو اتنے بڑے امتحان میں کیوں ڈال دیا، اس مبارک مہینے میں صرف آنسو اور رونے کی آوازیں ہیں۔
زلزلے کےبار میں آپ بھی اپنے تاثرات یا رپورٹ اردو، انگریزی یا رومن اردو میں لکھ کر ای میل کریں: urdu@bbc.co.uk
|