BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 October, 2005, 12:32 GMT 17:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وعدے ٹھیک پر پیسے کہاں ہیں‘
کاغان
کاغان میں ایک شخص اپنے زخمی بچے کو لے کر ہیلی کاپٹر میں بیٹھ رہا ہے
برطانوی امدادی ایجنسی آکسفیم نے کہا ہے کہ جنیوا میں امدادی ممالک کی کانفرنس میں امداد دینے کے جو وعدے کیے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں آنے والے زلزلے سے بچ جانے والے کسی ایک شخص کو بھی نہ بچا سکیں۔

ادارے نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ چھ ملین ڈالر میں سے آدھی کے قریب رقم تعمیرِ نو کے کاموں کے لیے ہو اور اس وجہ سے وہ ہزاروں جانیں نہیں بچ پائیں گی جنہیں اب خطرہ ہے۔

دوسری طرف بھارت نے پاکستان میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے پچیس ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان اکثر امداد دینے والوں ملکوں کی کانفرنس میں نہیں آتے۔ ان کا جنیوا میں آنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اقوامِ متحدہ کو کتنی تشویش ہے کہ پاکستان میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے کیے جانے والے امدادی کام شروع کرنے سے پہلے ہی ان کے پاس فنڈز ختم نہ ہو جائیں۔

اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں امدادی کاموں کے لیے تین سو نو ملین پاؤنڈز کی درخواست کی تھی لیکن امدادی ملکوں کی کانفرنس کے آغاز میں اسے صرف چالیس ملین پاؤنڈز مل سکے۔

کوفی عنان نے کہا کہ ’چالیس ملین پاؤنڈز کے وعدے سر آنکھوں پر لیکن یہ صرف وعدے ہی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ پیسے کب ملیں گے، کیا یہ ہنگامی امداد کے لیے ہیں یا تعمیرِ نو کے لیے اور یہ کہاں جائیں گے‘۔

یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر اینڈریو نیٹسیوس نے ضروری نہیں کہ امریکہ امدادی کاموں کے لیے اقوامِ متحدہ کو ہی پیسے دے۔

انہوں نے کہا: ’میرے خیال میں ہماری حمایت اس نظریاتی نکتہ نظر پر نہیں ہونی چاہیے کہ اقوامِ متحدہ جو کچھ کرے ہمیں اس کی حمایت کرنا ہے۔ ہم ان کی حمایت صرف اچھی کارکردگی پر کریں گے۔ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو ہم ان کو پیسے دیں گے۔ اگر اقوامِ متحدہ کی ایجنسی اچھی کارکردگی نہیں دکھاتی تو ہم انہیں پیسے نہیں دیں گے‘۔

ٹینٹ سکول
ٹینٹوں میں بنائے گئے سکولوں میں بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں

تاہم حکومتِ پاکستان اقوامِ متحدہ سے امدای کاموں کا انتظام سنبھالنے کی درخواست کی ہے اور اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کاموں کے لیے فوری طور پر تین سو نو ملین پاؤنڈ مہیا کرے۔

نامہ نگار کے مطابق کانفرنس میں اقوامِ کے مقاصد پورے نہیں ہوئے ہیں اور یہ ابھی تک واضح نہیں کہ آیا پاکستان میں امداد کے منتظر ہزاروں افراد کو وقت پر مدد پہنچ بھی پائے گی یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ جنیوا میں پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے بی بی سی اردو سروس کے شفیع نقی جامعی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جنیوا میں ہونے والی کانفرنس کو دو حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ’ایک وہ جو امدادی ممالک نے وعدے کیے ہیں اور دوسرے جو فنڈز براہ راست پاکستان کے اکاؤنٹ میں جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان اعلانات میں سے ایک حصہ تعمیرِ نو میں لگے گا اور دوسرا ہنگامی اپیل میں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی امدادی کانفرنسوں میں پہلے صرف وعدے کیے جاتے ہیں اور اس کے بعد ممالک آپس میں طے کرتے ہیں کہ پیسے کس طرح منتقل کرنے ہیں۔

قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ افسر ژان ایگلین کی بات کو دہراتے ہوئے مسعود خان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی ترجیحات کے لیے رقم بہت ناکافی ہے۔

ایگلین کے مطابق کانفرنس میں اگرچہ وعدہ تو 58 کروڑ ڈالر کا ہوا لیکن اقوام متحدہ کو صرف ڈیڑھ کروڑ ڈالر وصول ہوئے ہیں۔

انہوں نے امداد دینے والے ملکوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے وعدوں کو جلد از جلد عملی شکل دیں تاکہ امداد فوری طور پر زلزلے کے متاثرین تک پہنچائی جا سکے۔

مظفرآباد
ایک عورت سخت سردی میں اپنے ٹینٹ کے باہر
امداد دینے والے ملکوں اور اداروں سے ’میری اپیل ہے کہ وہ دِنوں بلکہ گھنٹوں میں اپنے اعلانات کو امدادی رقومات کی عملی شکل دیں۔‘

کانفرنس کے موقع پر اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ یہ المیہ ہمارے بھیانک ترین تصورات سے بھی بالا تر ہے۔ ’دسیوں ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، ستر ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ تیس ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں تمام ضروری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ ہم یہاں آج اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ موت کی دوسری لہر کو روکا جا سکے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کسی کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ زلزلے کو روک سکتے لیکن ہم اگلی لہر (موت) کو روک سکتے ہیں۔

66زلزلہ، مکمل کوریج
زلزلے میں کہاں کیا ہو رہا ہے
66امداد کی حقیقت
زلزلہ متاثرین کے لیے کون کتنی امداد دے رہا ہے
66جوش و خروش کہاں؟
زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے
66مسلمان مدد کریں
مسلمان زلزلہ متاثرین کی مدد کریں : الزواہری
66خیمے بنانے کا چیلنج
مزدوروں کی اکثریت متاثرہ علاقے سے ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد