BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنیوا کانفرنس ناکام رہی: احمد کمال
تعمیر نو کا بیشتر حصہ پاکستان کو اپنے وسائل سے انجام دینا پڑے گا: احمد کمال
جنیوا میں پاکستان کے زلزلہ زدگان کے لیے امداد اکھٹا کرنے کے لیے بلائی جانے والی کانفرنس میں اقوام متحدہ کو فوری امداد کے لیے درکار پچپن کروڑ ڈالر کی رقم کا تقریباً بیس فیصہ حصہ مہیا ہو پایا ہے۔

پاکستان کے سابق سفارتکار اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکار احمد کمال نے نیویارک سے بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے مطلوبہ رقم حاصل کرنے میں ناکامی پر اقوام متحدہ کے صدر دفتر نیویارک میں سخت مایوسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل چھ سے سات کروڑ ڈالر کے قریب مہیا کیے گئے تھے جبکہ گزشتہ روز جنیوا میں ہونے والی کانفرنس میں مزید ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر کے وعدے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا اس طرح اقوام متحدہ کو فوری امداد کے لیے درکار 58 کروڑ ڈالر کی کل رقم کا اب تک صرف بیس فیصد سے کم حصہ مہیا کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی فوری امداد کی اپیل کے جواب میں اتنی کم امداد وصول ہونے پر اقوام متحدہ کو جنیوا کانفرنس پر مایوسی تو ہوئی ہے لیکن احمد کمال نے اس کانفرنس کو ناکام قرار دینے سے انکار کیا۔

انہوں نے کہا کہ فوری امداد کے لیے تو مطلوبہ حدف حاصل نہیں ہو پایا لیکن متاثرہ افراد کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے عالمی برادری نے اٹھاون کروڑ ڈالر سے زیادہ کے وعدے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے ایک اندازے کے مطابق پانچ سے دس ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

’وہ تو بعد کی بات ہے۔ جو ہو گا سو ہو گا لیکن اِس وقت جو چاہیے تھا وہ فراہم نہیں ہو سکا۔‘

’جہاں تک تعمیر نو کا سوال ہے اس کے لیے یہ رقم آئے گی۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وہاں ضرورت پانچ سے دس ارب ڈالر کی ہے جس کے مقابلے میں یہ رقم بہت کم ہے۔‘

احمد کمال کا کہنا ہے کہ تعمیر نو کے لیے نہ تو تمام کے تمام پیسے باہر سے آئیں گے اور نہ ہی آنے چاہئیں۔ تعمیر نو کا بیشتر حصہ پاکستان کو اپنے وسائل سے انجام دینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ جنیوا کانفرنس کا اہم پہلو یہ ہے کہ یہاں پر آدھی سے زیادہ رقم کے وعدے اور جو پیسے فراہم کیے گئے ہیں وہ مسلمان ملکوں سے آئے ہیں اور یہ ایک حوصلہ افزاء بات ہے۔

’اس کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ جو دوست ہیں ہمارے انہوں نے کھلے دل سے پیسے پاکستان پہنچائے ہیں۔‘

احمد کمال کے مطابق اب تک 700 ملین ڈالر کے برابر امداد رقم پاکستان پہنچی ہے جس میں بیشتر حصہ مسلمان ممالک اور اسلامی ڈیویلپمینٹ بینک کی طرف سے فراہم کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے کیے ایک سو چھپن ملین ڈالر دیئے ہیں جبکہ سعودی عرب اور کویت کی طرف سے انفرادی طور پر 133 ملین ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔

’سو اگر اب تک دی گئی رقم کو اکٹھا کریں تو مسلمان ملک پاکستان کے ساتھ اؤل درجے پر کھڑے نظر آئیں گے۔‘

66جوش و خروش کہاں؟
زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے
66زلزلہ، مکمل کوریج
زلزلے میں کہاں کیا ہو رہا ہے
66خیمہ، روزہ اور بچے
’بچوں کے لیے روزے میں کھانا نہیں‘
66کاغان میں تباہی
کاغان کی وادی میں تباہی اب سامنے آ رہی ہے
66دکھ میں شانہ بشانہ
بٹگرام میں ہرجیت سنگھ کا موبائل کلینک
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد