BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 October, 2005, 05:04 GMT 10:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہرجیت سنگھ کا موبائل کلینک

ملائشیا سے آئی ٹیم نے بٹگرام کے علاقے شملائی میں ایک موبائل کلینک قائم کیا۔
آٹھ اکتوبر کے زلزلے نے بلا مذہب و ملت جو بھی راہ میں آیا اسے نقصان پہنچایا۔جہاں لاتعداد مساجد کو نقصان پہنچا وہیں گوردوارے بھی زد میں آئے۔مثلاً بٹگرام کے قصبے اور نواحی علاقے شملائی میں قائم دو گوردواروں میں شگاف پڑگئے۔ان دونوں علاقوں میں مجموعی طور پر پشتو بولنے والے اڑتیس سکھ خاندان آباد ہیں جو حکمت، بزازی اور پرچون کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ان تمام کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔ چار خواتین سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ نو زخمیوں میں سے پانچ شدید زخمی ہیں۔متاثرہ خاندانوں کو گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں عارضی طور پر منتقل کردیا گیاہے۔

لیکن بٹگرام سے ہزاروں میل دور تین پیڑھیوں سے ملائشیا میں بیٹھے ہرجیت سنگھ کو یہ ساری تفصیلات نہیں معلوم تھیں۔اسکا تو کوئی رشتے دار بھی پاکستان میں نہیں رہتا۔ بس ہرجیت سنگھ نے اخبار میں یہ پڑھا کہ پاکستان میں زبردست زلزلہ آیا ہے اور بے پناہ جانی نقصان ہوا ہے۔ ہرجیت گلوبل سکھ نامی این جی او میں بھی سرگرم ہے ۔اس نے ایک اور رضاکار جگدیش کور کے ساتھ مل کر ایک ڈاکٹر اور چھ رضاکاروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دی اور یہ سب کوئی ہفتہ بھر پہلے پاکستان آ گئے۔اس ٹیم نے پاکستان کی گوردوارہ پربندھک کمیٹی سے رابطہ کیا۔ کچھ دوائیں یہ ٹیم اپنے ساتھ لائی تھی۔ باقی سامان یہیں سے خریدا گیا اور اس ٹیم نے بٹگرام کے علاقے شملائی میں ایک موبائل کلینک قائم کرلیا۔

ٹیم کی ایک رکن جگدیش کور نے بتایا کہ پہلے روز جب شملائی کے متاثرین کو پتہ چلا کہ یہ کلینک چلانے والے سکھ لوگ ہیں تو وہ آتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ لیکن دوسرے دن سے زخمی عورتیں اور مرد انکے پاس آنے لگے اور چار دن میں کوئی تین سو زخمیوں کو اس موبائل کلینک نے اپنی خدمات فراہم کیں۔

ملائشیا سے آنے والی گلوبل سکھ تنظیم کی یہ امدادی ٹیم پہلی اور آخری نہیں ہے۔اٹھائیس اکتوبر کو چار ڈاکٹروں پر مشتمل ایک اور پانچ رکنی میڈیکل ٹیم پاکستان پہنچنے والی ہے۔اسکے بعد ایک ٹیم مظفر آباد اور ایک بٹگرام میں رہے گی۔

ملائشیا سے آنے والی ٹیم سے میری ملاقات بٹگرام کے ایک میڈیکل کلینک میں ہوئی۔صحن میں چاول کی دیگیں چڑھی ہوئی تھیں۔معلوم ہوا کہ پاکستان گوردوارہ پربندھک کمیٹی نہ صرف بٹگرام بلکہ مظفر آباد میں متاثرین کے لئے گرو نانک کے نام کا چوبیس گھنٹے کا لنگر چلا رہی ہے۔ زیادہ تر کھانا ہسپتالوں میں داخل لوگوں کو پہنچایاجاتا ہے۔

اسی احاطے میں سوات سے تعلق رکھنے والے اقلیتی کونسلر ڈاکٹر سورن سنگھ اور پاکستان گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار مستان سنگھ سے بھی ملاقات ہوئی جو ننکانہ صاحب سے نہ صرف ریلیف کا بہت سا سامان بلکہ رضاکاروں کی ایک ٹیم بھی اپنے ساتھ لائے ہیں جس میں سکھ اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔

سردار مستان سنگھ نے بتایا کہ پربندھک کمیٹی نے ایک ریلیف اکاؤنٹ کھول دیا ہے اور سکھ کمیونٹی سے عالمی پیمانے پر امداد کی اپیل کی ہے۔اب تک کمیٹی کو امریکہ کی سکھ کمیونٹی کی جانب سے دس لاکھ روپے کے عطیات موصول ہوئے ہیں۔ خود پربندھک کمیٹی نے اب تک ریلیف کا دس ٹرک سامان تقسیم کیا ہے۔اسکے علاوہ بھارت سے دو ہزار خیمے اور سترہ ہزار کمبلوں کی ایک کھیپ بھی پہنچ چکی ہے۔

میں نے بٹگرام سے واپسی پر دیکھا۔ ذرا آگے سرکاری ہسپتال کی بیرونی دیوار کے ملبے پر ایک سفید بینر لٹکا ہوا تھا: سکھ کمیونٹی اپنے پاکستانی بھائیوں کے دکھ درد میں شانہ بشانہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد