’الائی میں آتش فشاں نہیں ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے ترجمان کے مطابق وادی الائی میں آتش فشاں کا کوئی وجود نہیں ہے اور نہ ہی ایسی علامات ہیں کہ وہاں کسی قسم کی آتش فشانی کی کیفیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا محکمہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد مسلسل متاثرہ علاقوں میں سیسمک علامات کو مانیٹر کر رہی ہیں مگر کہیں سے بھی ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ ان علاقوں میں آتش فشانی کی کیفیت ہو۔ جیولوجیکل سروے کے ترجمان تحسین اللہ خان نے کہا ہے کہ اس علاقے میں آتش فشانی کا عمل چار کروڑ سال پہلے ختم ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق آتش فشانی کی باتیں محض اس افراتفری کی وجہ سے ہیں جو آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد اس سے متاثرہ علاقوں میں پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑوں سے دھواں نکلنا لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے فضا میں گردو غبار رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج ان کے محکمے کے دو جیولوجسٹ نصیرعلی خان اور عبدالماجد کو شنکیاری کے علاقے سے الائی پہنچا دیا ہے تاکہ وہ اس بات کی جانچ کر سکیں کہ وہاں کے حکام اور لوگوں کے اس دعوے کی حقیقت کیا ہے کہ اس علاقے میں پہاڑوں سے شعلے اٹھ رہے ہیں اور یہاں مسلسل زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ الائی سمیت زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں میں آتش فشانی کےعمل کی علامات نہیں ملی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے پہاڑ اپنی جگہ سے دو میٹر سے زائد کھسک گئے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ تحسین اللہ خان کےمطابق الائی میں زلزلے کے مسلسل جھٹکے یا آفٹر شاکس اس لئے محسوس ہو رہے ہیں کیونکہ یہ علاقہ اس ایکٹو فالٹ پر واقع ہے جو زلزلے کا مرکز تھا۔ | اسی بارے میں بٹگرام: ’وادی الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘24 October, 2005 | پاکستان الائی کا کیا ہوگا؟25 October, 2005 | پاکستان ماہرین ارضیات الائی پہنچ گئے25 October, 2005 | پاکستان ’غریب امدادی سامان سے محروم‘25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||