’غریب امدادی سامان سے محروم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلہ آئے اٹھارہ روز گزر چکے ہیں مگر اب بھی کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں امدادی سامان نہیں پہنچ سکا اور جہاں جہاں امدادی ٹیموں کی رسائی ہوئی ہے وہاں بھی خوارک، ادویات اور خیموں کی کمی کی اطلاعات ہیں۔ صحافی ودھیا رانا ابھی ابھی بالا کوٹ اور مظفر آباد کا دورہ کر کے واپس اسلام آباد پہنچی ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی شدید کمی ہے۔ ’ہم نے دیکھا ہے کہ دور دراز کے علاقوں کو تو چھوڑیں مرکزی علاقوں میں لوگوں کے پاس کھانے پینے کی چیزوں، ادویات اور خیموں کی کمی ہے۔‘ ودھیا رانا کا کہنا ہے کہ امدادی سامان کی تقسیم کا نظام اتبا خراب ہو چکا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کو کوئی چیز نہیں مل رہی۔ ’خاص طور پر خواتین کو جو سارا دن قطاروں میں کھڑا نہیں ہو سکتیں۔‘ امدادی سامان کے حوالے حکومتی دعوؤں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا تو اپنا نظر ہے لیکن ہم نے جو متاثرہ علاقوں میں دیکھا اسے کسی طور بھی تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ’جہاں تک غیر سرکاری اداروں کا سوال ہے، وہ بھی ہمیں بہت زیادہ نظر نہیں آئے۔ چند تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں لیکن وہ بھی اتنے بڑے پیمانے پر کام نہیں کر پا رہیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔‘ ودھیا رانا کے مطابق جن علاقوں میں امدادی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے وہاں بھی سخت شرائط عائد ہیں۔ ’لوگوں کا امدادی سامان حاصل کرنے کے لیے شاختی دستاویز پیش کرنا پڑتی ہیں جو ان حالات میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘ ودھیا رانا کے مطابق ان لوگوں کو تو امدادی سامان مل رہا ہے جن کی حکومتی ارکان تک رسائی ہے لیکن محروم طبقوں سے تعلق رکھنے والے متاثرین ابھی تک امدادی سامان سے محروم ہیں۔ | اسی بارے میں ’مظفر آباد میں 8 لاکھ افراد بےگھر‘23 October, 2005 | پاکستان ہمیں امداد چاہیے، جہاں سے بھی آئے24 October, 2005 | پاکستان سرحد: خودکشی کی تحقیقات کا حکم24 October, 2005 | پاکستان زلزلے سے رضائیاں بھی مہنگی24 October, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے لیٹرین کا عطیہ24 October, 2005 | پاکستان تیس لاکھ بےگھر، صرف 30 ہزار خمیے24 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||