زلزلہ زدگان کے لیے لیٹرین کا عطیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کے متاثرین کے لیے برطانیہ کے سکھ لیٹرینوں کا عطیہ لائے ہیں جو مظفر آباد کی خیمہ بستیوں میں نصب کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ان نئی مہاجر بستیوں کے لیےگندگی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے اور جگہ جگہ انسانی غلاظت اور کوڑے کرکٹ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔ مظفر آباد میں جہاں جہاں زلزلہ مہاجرین کو آباد کیا جارہا ہے وہاں کئی طرح کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ بجلی، نکاسی و فراہمی آب کے علاوہ ان بستیوں کے اردگرد انسانی فضلہ اکٹھا ہونا شروع ہو گیا ہے جس سے تعفن بھی پھیل رہا ہے اور علاقے میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بھی ہے۔ برطانیہ میں قائم ایک سکھ این جی او ’خالصہ ایڈ‘ کے چار اراکین نے بالا کوٹ اور مظفرآباد کے گرد ونواح کا جائزہ لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ یہاں پر ریڈی میڈ لیٹرینوں کی ضرورت ہے۔ ریوندر سنگھ برطانیہ میں سیلزمین ہیں لیکن اس وقت ’خالصہ ایڈ‘ کے ایک کارکن کی حیثیت سے مظفر آباد میں موجود ہیں۔ اس سے پہلے وہ نائجیریا، صومالیہ، کوسوو اور ترکی سمیت دنیا بھر کے کئی آفت زدہ علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کی آفت کے بعد بسائی جانے والی بستیوں میں انسانی فضلے کی وجہ سے وبائی امراض بھی پھیلتے ہیں۔انہوں نے جزائر انڈیمان کی مثال دی اور کہا کہ اس سے پہلے وہ سونامی سے متاثرہ انڈیمان کے مختلف جزائر پر گئے جہاں انسانی غلاظت اوران پر بیٹھنے والی مکھیوں نے وبائی امراض پھیلا دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں پر انہوں نے ایک منصوبے کے تحت لیٹرین فراہم کیے تھے اور وہ اب ان لیٹرینوں کا آئیڈیا لےکر پاکستان آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی انہوں نے گیارہ لیٹرینوں کا عطیہ دیا ہے اور مزید لیٹرینیں فراہم کرنے کو بھی تیار ہیں۔ ان کا ماننا تھا علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں لیٹرینوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عارضی مقامات پر قائم کی جانے والی لیٹرینیں ہیں اور انہیں بنانا بھی آسان ہے۔ اگر مقامی لوگوں کو ان کے بنانے کی تربیت دی جاۓ تو مقامی سطح پر یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ ریوندر سنگھ کی تنظیم نے متاثرین کے لیے لیٹرینوں کے علاوہ مٹی کے تیل کے چولہے،خوراک اور کمبل بھی فراہم کیے ہیں۔ ریوندر سنگھ نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے بھارت سے آنے والے ایک امدادی سامان کے ٹرک میں اپنی تنظیم کی طرف سے چولہے منگوا لیے تھے۔ ان کے بقول بہت سا سامان بھارت سے آسکتا ہے لیکن انہیں اجازت نہیں مل پا رہی۔ ریوندر سنگھ نے بتایا کہ پاکستان سے ڈیڑھ ہزار میں ملنے والا کمبل بھارت سے صرف تین سو روپے میں مل جاتا ہے اور وہ کوشش کے باوجود کمبلوں کی کھیپ نہیں منگوا پائے۔ ’خالصہ ایڈ‘ کے علاوہ بھی گردوارہ پرو بندک کمیٹی پاکستان کے بعض اراکین بھی مظفر آباد میں موجود ہیں اور امدادی سامان تقسیم کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’مظفر آباد میں 8 لاکھ افراد بےگھر‘23 October, 2005 | پاکستان زلزلے سے رضائیاں بھی مہنگی24 October, 2005 | پاکستان تیس لاکھ بےگھروں کے لیے تیس ہزار خیمے24 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||