سرحد: خودکشی کی تحقیقات کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت سرحد نےصوابی کے ایک سرکاری سکول میں ایک چھٹی جماعت کے ایک طالب علم کی خودکشی کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ معاملہ عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما بشیر بلور نے ایوان میں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق صوابی میں گورنمٹ ہائر سیکنڈری سکول، زیدہ میں چھٹی جماعت کے گیارہ سالہ طالب علم شاہ زیب کو استاد نے رفع حاجت کے لیے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جس پر اس کا پیشاب کلاس روم میں ہی نکل گیا۔ اس پر اس کے ساتھیوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ دوسرے روز شاہ زیب سکول نہیں جانا چاہتا تھا تاہم اس کے والدین نے اسے زبردستی سکول بھیج دیا۔ اور اس نے اپنی کلاس میں جانے کی بجائے سکول میں ہی ایک درخت سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ صوبائی وزیر تعلیم مولانا فضل علی نے واقعے کی تحقیات کا اعلان سوموار کے روز سرحد اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان کے سرکاری سکولوں میں طالب علموں پر تشدد ایک عام سی بات مانی جاتی ہے۔ کئی طالب علم اس جسمانی تشدد کی وجہ سے ہی سکول چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں شادی،جج کی خودکشی کی وجہ 05 September, 2005 | پاکستان خاندان کا قتل اور خودکشی 06 July, 2005 | پاکستان سندھ: حقوق انسانی کمیشن کی تشویش 17 June, 2005 | پاکستان غریب مینار سے کود گیا29 October, 2004 | پاکستان چترالی خواتین خود کشی پر مائل؟23 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||