شادی،جج کی خودکشی کی وجہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں خودکشی کرنے والی خاتون جج شادی شدہ تھیں اور انہوں نے ایک پولیس گارڈ سے شادی کی تھی۔ اس پسند کی شادی کی وجہ سے ان پر والدین کا دباؤ تھا۔ یہ دعویٰ جج کا خاوند ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک پولیس گارڈ نے پولیس کے سامنے اپنے بیان میں کیا ہے۔ پولیس گارڈ ساجد نے نکاح کی کاپی نیوٹاؤن پولیس کو پیش کردی ہے۔ مقدمہ کے تفتیشی افسر فضل حسین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس گارڈ ساجد نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ انہوں نے مجسٹریٹ شائستہ حامد سے نکاح کیا تھا مگر رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق گارڈ ساجد نے کہا کہ انہوں نے خفیہ طور پر بنگلہ کرائے پر لیا تھا اور انہوں نے کراچی کے علاقے گارڈن میں نکاح کیا تھا۔ ساجد کے مطابق شائستہ والدین کی جانب سے دباؤ کا شکار تھیں اور انہوں نے دو بار پہلے بھی نیند کی بڑی مقدار میں گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی تھی ۔ تفیشی افسر کے مطابق شائستہ کے والدین سے رابطہ کیا گیا ہے مگر فی الحال انہوں نے بیان رکارڈ کروانے سے انکار کیا ہے۔ واضح رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ ون شائستہ حامد نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو خودکشی کرلی تھی۔ ان کے بھائی نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ غیر شادی شدہ تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||