پولیس پر ہونٹ سی دینے کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس حکام نے اس واقعے کے حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے جس میں وہاڑی کے کچھ پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک قیدی کو چپ کرانے کے لیے اس کے ہونٹ سی دیے تھے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ملک محمد اقبال نے اے ڈی آئی جی نواز لوٹھڑ کو تحقیقاتی افسر مقرر کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ تین دن کے اندر رپورٹ دیں کہ آیا ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے تشدد کا واقعہ پہلے کبھی بھی سامنے نہیں آیا لیکن اگر ایسا ہوا ہے تو ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے گی۔ وہاڑی کے ضلعی پولیس افسر مختار ٹکا نے اپنے طور پر ڈی ایس پی (ہیڈکوارٹر) مجید چشتی کو اس واقعہ کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ملتان سنٹرل جیل میں اغوا کے ایک مقدمے میں قید ملزم محمد حسین کو عدالت میں پیش کرنے کی غرض سے گذشتہ بدھ کے روز وہاڑی پولیس لے کر گئی تھی۔ عدالتی حوالات میں محمد حسین اور ایک دوسرے قیدی عمران عرف مانہ کا جھگڑا ہوگیا۔ محمد حسین نے نگرانی پر موجود پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ عمران کو اس پر حملہ کرنےکی پاداش میں سزا دے۔ پولیس کے ایسا نہ کرنے پر محمد حسین نے حوالات کی سلاخوں سے سر پھوڑنا شروع کردیا۔ اس پر انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں مرہم پٹی کے بعد پولیس نے ان کے خلاف اقدام خودکشی کا مقدمہ درج کرلیا۔ اس سارے تنازعے کے نتیجے میں انہیں اسی روز جیل واپس نہ بھجوایا جا سکا۔ اگلے روز کسی بات پر ان کا جھگڑا ایک پولیس اہلکار سے ہوگیا جس پر مبینہ طور پر مشتعل ہوکر پولیس نے سوئی دھاگے کے ساتھ محمد حسین کے ہونٹ سی دیئے۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس نفری کے انچارج خدا بخش سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تردید کی کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ قیدی ہر پیشی پر مسائل کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض قیدی جان بوجھ کر جھگڑے کرتے ہیں تاکہ ان پر نئے مقدمے بنیں اور یوں عدالتی پیشیوں کے لیے ان کا جیل سے آنا جانا لگا رہے۔ تاہم ملتان سنٹرل جیل کے ذرائع کے مطابق واپس آنے پر محمد حسین کے چہرے پر زخموں کے نشان تھے۔ ذرائع کے مطابق واپس پہنچنے پر جیل حکام نے بھی محمد حسین کو ’شریف انسان’ بنانے کے لیے اس کی ٹھکائی کی۔ محکمہ جیل خانہ جات ملتان ریجن کے ڈی آئی جی میاں فاروق نذیر نے بھی اس واقعہ کے بارے جیل سپرنٹنڈنٹ ملک ضیاء اللہ سے رپورٹ مانگی ہے۔ پاکستانی جیلوں میں قیدیوں سے ناروا سلوک کی خبریں اکثر اخبارات میں آتی رہتی ہیں اور پھر بعض اوقات قیدی بغاوت پر بھی اتر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جیلوں میں ہونے والی بغاوتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||