بادشاہی مسجد سے خود کشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ہفتہ پہلے لاہور کے اندرون شہر کے رہنے والے ایک مفلس شخص نے غربت اور بیوی کی ناراضگی کی مبینہ وجہ سے مینار پاکستان سے کود کر خود کشی کر لی تھی۔ لیکن جمعہ کے روز یہ پہلی دفعہ ہوا کہ کسی نے بادشاہی مجد کی چھت سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی گنوا دی۔ لاہور کی بادشاہی مسجد کے، جو شہر کا بڑا تاریخی ورثہ ہے، برآمدے کی چھت سے کود کر جمعہ کی شب ایک نامعلوم شخص نے خودکشی کر لی۔ مسجد کے چوکیدار کےمطابق مغرب کے وقت نامعلوم شخص خون میں لت پت نیچے گرا تو وضو میں مصروف عورتوں نے شور مچادیا اور لوگوں نے اسے قریبی ہسپتال پہنچایا مگر وہ چند منٹ میں دم توڑ گیا۔ ٹبی تھانہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان کی عمر پچیس چھبیس سال ہے، اس کا نام پتا معلوم نہیں، اس نے پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی، رنگ گورا ہے اور اس کے بازو پر ایس ایم کے حروف کنندہ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی جیب سے پانچ روپے کے سکے نکلے۔ پولیس کے مطابق کوئی وارث آج دوپہر تک اس کی لاش لینے نہیں آیا جو لاہور کے مردہ خانہ میں پڑی ہے اور دو ہفتہ انتظار کے بعد معمول کے مطابق لاوارث قرار دے کر دفنائی جاسکتی ہے۔ مسجد کے چوکیدار شوکت کے مطابق نوجوان خاصی دیر تک مسجد میں بیٹھا رہا اور نماز پڑھنے کے بعد اس نے اچانک خودکشی کرلی۔ ایک ہفتہ قبل بھی بادشاہی مسجد کے قریبی قومی یادگار مینارِ پاکستان سے کود کر ایک شخص نے خودکشی کر لی تھی۔ پاکستان میں غربت سے تنگ آکر ہر سال سینکڑوں افراد خودکشیاں کرتے ہیں اور لاہور کا مینار پاکستان جو ملک کے قیام کے قرارداد منظور ہونے کی یاد میں تعمیر کیاگیا تھا مینار خود کشی کے طور پر جانا جانے لگا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||