خاندان کا قتل اور خودکشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے پسماندہ علاقے صحرائے تھر میں ایک اسکول ٹیچر نے والدہ، بیوی، سمیت تین بچوں کوگولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد خود کشی کرلی۔ واقعہ تھرپارکر ضلع کے چھاچھرو کے علاقے میں منگل کی شام کو پیش آیا، جو تھرکے علاقے میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ بتایا جاتا ہے۔ چھاچھرو پولیس کا کہنا ہے کہ چھاچھرو کے قریب بھاڈا سنداگاؤں میں پینتیس سالہ اسکول ٹیچر کرپال شام کو چھ بجے کے قریب چھاچھرو سے ٹیکسی کر کے گاؤں پہنچا۔ جہاں وہ ایک گھنٹے تک اپنےگھر میں بیٹھا رہا۔ اچانک اس نے اپنی لائسنس والی بندوق اٹھائی اور کمرے میں موجود بیوی 35سالہ مومل، دو بیٹیوں سات سالہ کویتا، ایک سالہ گوری اور دس سالہ بیٹے واسو کو یرغمال بنالیا اور کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ اس دوران ملزم کی پچہتر سالہ ماں حملی بیٹے کو سمجھانے کے لیے وہاں پہنچی۔ ملزم نے ماں پر سیدھا فائر کر کے اسےموقع پر ہی ہلاک کردیا۔ دادی کو تڑپتا دیکھ کر ملزم کے بیٹے واسو نے کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو ملزم نے اس پر دو فائرنگ کرکے اسے بھی وہیں ہلاک کردیا۔ اس کے فورا بعد ملزم کرپال نے متواتر فائر کرکے اپنی بیوی مومل اور دو معصوم بیٹیوں کو بھی قتل کردیا۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ہی ملزم نے براہ راست خود پر فائرنگ کرکے خود کشی کرلی۔ باپ بیٹے کا چھاچھرو میں اور خواتین کا مٹھی اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے پاس بندوق گھر میں موجود تھی اور وہ چھاچھرو شہر سے کارتوس خرید کرگیا تھا۔ قاتل کے کزن آڈھو مینگھواڑ نے واقع کا مقدمہ درج کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کرپال کا کچھ دنوں سے ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا۔ واضح رہے کہ صحرائے تھر سندھ کا سب سے پسماندہ علاقے ہے جہاں غربت کی شرح سب سے زائد ہے۔ اور لوگوں کے گزر بسر کا واحد وسیلہ اس کھیتی باڑی پر ہے جو بارشوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||